وہ یہودی قبیلہ جس کے تمام مردوں کو رسول اللہ ﷺ نے قتل کرنے کا حکم دیا

وہ یہودی قبیلہ جس کے تمام مردوں کو رسول اللہ ﷺ نے قتل کرنے کا حکم دیا
وہ یہودی قبیلہ جس کے تمام مردوں کو رسول اللہ ﷺ نے قتل کرنے کا حکم دیا

  

غزوہ بنو قریظہ میں جب مسلمانوں نے یہودیوں کی جانب سے سرینڈر کی تمام درخواستیں مسترد کردیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے پاس مذاکرات کیلئے حضرت ابوالبابہ رضی اللہ عنہ بن منذر کو بھیجا جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے قبیلہ بنی قریظہ کے ساتھ قریبی اور دوستانہ مراسم تھے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوالبابہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں سے مذاکرات کیلئے قلعے میں بھیج دیا۔ آپ کو اپنے بیچ پا کر تمام یہودی آپ کے گرد اکٹھے ہوگئے اور خواتین اور بچے رونے لگے جس پر آپ کا دل بھر آیا۔ 

بنو قریظہ نے جب حضرت ابوالبابہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا ہم رسول اللہ ﷺ کے حکم کو منظور کرلیں اور آپ کے فیصلے پر راضی ہو جائیں۔  حضرت ابو لبابہ نے کہا بہتر ہے لیکن گلے کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ ذبح کئے جاؤ گے، رسول اللہ ﷺ کا ارادہ تمہارے قتل کا ہے۔ جب حضرت ابوالبابہ نے یہودیوں کو اس بارے میں بتایا تو آپ کو فوری طور پر ندامت ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کا راز فاش کردیا اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ خیانت کے مرتکب ہوئے۔ آپ جب قلعہ سے واپس آئے تو اس درجہ ندامت تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کی بجائے مسجد نبوی میں گئے اور خود کو ایک ستون کے ساتھ باندھ لیا۔ حضرت ابوالبابہ رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک اسی حال میں رہیں گے جب تک اللہ ان کی توبہ کو قبول نہ کرلے۔ چنانچہ سات روز مکمل اسی طرح بندھے کھڑے رہے ۔ ان کی بیوی اور بیٹی ان کی نگہداشت کرتی تھیں، اس عرصے میں آپ کھانے پینے کے پاس نہ جاتے تھے یہاں تک کہ غشی طاری ہو جاتی تھی۔

رسول اللہ ﷺ کو جب اس کی اطلاع ملی تو فرمایا کہ اگر وہ اول ہی میری پاس آجاتے تو میں ان کے لئے استغفار کرتا اور توبہ قبول ہوجاتی اب جب کہ وہ یہ کام کر گزرے تو اب توبہ کی قبولیت کے نزول کا انتظار کرنا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ سات روز کے بعد آخر شب میں رسول اللہ ﷺ پر یہ آیتیں ان کی توبہ قبول ہونے کے متعلق نازل ہوئیں۔۔۔

’’اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا ﴿صاف﴾ اقرار کرتے ہیں انہوں نے اچھے برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ اللہ ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘

قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضرت ابوالبابہ کو کو خوشخبری سنائی اور انہیں کھولنا چاہا مگر انہوں نے کہا کہ جب تک خود رسول اللہ ﷺ مجھے نہیں کھولیں گے تب تک اسی حال میں رہوں گے ۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے وقت مسجد میں تشریف لائے تو اپنے دستِ مبارک سے ان کو کھولا۔ حضرت ابوالبابہ رضی اللہ عنہ ساری زندگی اپنی توبہ پر قائم رہے اور کبھی بھی دوبارہ بنو قریظہ کے محلے میں قدم نہیں رکھا۔

دوسری جانب یہودی مسلمانوں کے محاصرے سے عاجز آگئے اور ہتھیار ڈال دیے اور قلعے سے باہر نکل آئے۔  مسلمانوں نے خواتین اور بچّوں کو چھوڑ کر باقی سب کے ہاتھ پاؤں باندھ دئیے۔بعدازاں، قبیلہ اوس کے اصحاب آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یہ لوگ ہمارے حلیف ہیں، لہٰذا ان کے ساتھ کچھ نرمی کا معاملہ کیا جائے۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ’’کیا ان کا معاملہ تمہارے سردار سعدؓ بن معاذ کے سُپرد کر دوں؟ وہ جو چاہیں فیصلہ کریں۔

حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کوغزوہ خندق میں تیر لگا تھا جس کے باعث وہ شدید زخمی تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مسجد کے احاطہ میں ایک خیمہ لگوا کر اس میں ٹھہرا دیا تھا۔ ان کے بلانے کے لئے آدمی بھیجا، آپ گدھے پر سوار ہو کر تشریف لائے جب آپ ﷺ کے قریب پہنچے تو یہ فرمایا۔۔ اپنے سردار کی تعظیم کے لئے اُٹھو۔ جب آپ کو آپ کی سواری سے اتار کر بٹھایا گیا  تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہودیوں نے اپنا فیصلہ تمہارے سپرد کیا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ  نے کہا میں ان کی بابت یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں سے لڑنے والے یعنی مرد قتل کئے جائیں اور عورتیں اور بچے اسیر کر کے لونڈی غلام بنا لئے جائیں اور اُن کا تمام مال و اسباب مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا فیصلہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک تو نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا۔

حضرت سعد کے فیصلے کے بعد تمام بنی قریظہ گرفتار کرکے مدینہ لائے گئے اور ایک انصاری عورت کے مکان میں ان کو قید رکھا گیا ۔ بازار میں ان کے لئے خندقیں کھدوائی گئیں بعد ازاں دو دو چار چار کو اس مکان سے نکلوایا جاتا اور ان خندقوں میں ان کے سر قلم کیے جاتے تھے ان میں بنو قریظہ کا سردار کعب بن اسد اور وہ حئی بن اخطب بھی شامل تھا جس نے قریش مکہ اور دیگر قبیلوں کو مسلمانوں کے بارے میں بھڑکایا اوراب تک کی عرب تاریخ کا سب سے بڑا لشکر تیار کرواکے جنگِ خندق کا باعث بنا تھا۔ عورتوں میں سوائے ایک عورت کے کوئی عورت قتل نہیں کی گئی جس کا جرم یہ تھا کہ اس نے کوٹھے سے چکی کا پاٹ گرایا تھا جس سے حضرت خلاد بن سوید رضی اللہ عنہ شہید ہوئے۔حئی بن اخطب کو جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا گیا تو اس نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔

ہماری مزید تاریخی اور دلچسپ ویڈیوز دیکھنے کیلئے "ڈیلی پاکستان ہسٹری" یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

مزید :

ویڈیو گیلری -روشن کرنیں -