جب نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے ....!

جب نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے ....!
جب نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے ....!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مَیں اپنے دوست رائے منصب علی خاں کے ہمراہ اسمبلی ہال اسلام آباد پہنچا، تو اچانک عزیزم نواز شریف سے ملاقات ہو گئی۔ یہ برخوردار کہنے لگے: ” سر آپ ملتے ہی نہیں“ ۔مَیں نے کہا: ” عزیزم میرے لئے آپ سے ملنا ضرور مشکل ہے، لیکن آپ کے لئے مجھ سے ملنا مشکل نہیں“۔ کہنے لگے: ” سر مَیں آج شام کو واپس لاہور جا رہا ہوں۔ آپ میرے ساتھ چلیں گے“۔ مَیں نے کہا: ”ضرور“ تو پھر چار بجے سہ پہر چک لالہ ایئر پورٹ پہنچ جایئے.... مَیں چار بجے چک لالہ ایئرپورٹ پہنچا ،تو مجھے بتایا گیا کہ ایک چھوٹا سا جہاز کھڑا ہے۔ اُس میں صرف چار نشستیں ہیں۔ ایک وزیراعظم نوازشریف کے لئے، ایک اُن کے بھائی شہباز شریف کے لئے، اگر وہ آئے تو اور ایک سیکرٹری قمر الزمان کے لئے اور ایک آپ کے لئے۔ آپ نواز شریف صاحب کے بائیں جانب والی نشست پر تشریف رکھیں گے، آپ کے سامنے والی نشست قمر الزمان صاحب کی ہو گی۔ مَیں اس ہدایت کے مطابق نواز شریف کی نشست کے بائیں جانب والی نشست پر بیٹھ گیا، اتنی دیر میں شہباز شریف آئے۔ کہنے لگے: ”یہ تو میری سیٹ ہے، آپ اِس پر کیوں بیٹھے ہیں“؟.... مَیں نے کہا:آپ کی سیٹ آپ کو مبارک ہو، مَیں نواز شریف صاحب کے سامنے والی نشست پر بیٹھ جاتا ہوں“۔
اتنے میں نواز شریف آ گئے۔ مَیں اُن سے بغلگیر ہوا، تو میرے قریب کان میں کہنے لگے: ”اچھاتو آج یہ ”شہباز“ بھی ہمارے ساتھ چل رہے ہیں“ .... اس سے مجھے پتا چلا کہ شہباز صاحب کے ساتھ جانے کا پروگرام اچانک بنا ہے۔ جہاز اوپر اُڑ کر جب سیدھا ہوا تو نواز شریف کہنے لگے:” سر کبھی آپ نے یہ سوچا تھا کہ مَیں وزیراعظم بنوں گا“؟ مَیں نے کہا:” مَیں نے یہ تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ آپ وزیراعظم بنیں گے، لیکن اگر آپ کو یاد ہوکہ آپ اکثر کلاس میں مسکراتے نظر آتے تھے، تو مَیں آپ کو کھڑا کر دیتا تھا۔ یہ عمل دو چار بار ہوا، تو جب مَیں نے پوچھا آپ مسکراتے کیوں ہیں، تو آپ نے واحد متکلم کے بجائے جمع متکلم کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے کہا: ”سر یہ ہمارے چہرے کی نیچرل مسکراہٹ ہے“.... تو مَیں نے کہا تھا مجھے جمع کا صیغہ میں اپنی مسکراہٹ بارے میں اس طرح بتا رہے ہو، جیسے کوئی وزیراعظم بات کر رہا ہے.... اور اب خدا کے فضل سے آپ وزیراعظم بن گئے ہیں۔
 پھر کہنے لگے: ”سر مَیں آج کل تقریریں کیسی کر رہا ہوں“؟.... مَیں نے کہا:” بہت گھبرا کر تقریریں کر رہے ہو“ ۔ فوراً شہباز شریف سے مخاطب ہوئے۔ ”دیکھا مَیں نے کہا تھا کہ میرے سر مجھے صحیح بات بتائیں گے۔ آپ لوگ خواہ مخواہ میری تقریروں کی تعریف کرتے ہیں“۔ مَیں نے کہا:” اس میں پریشان ہونے کی قطعی بات نہیں۔ آپ جلدی ہی تقریر کرنے کے عادی ہو جائیں گے، تب آپ کے لئے تقریر کرنا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا“۔ اتنے میں جہاز کا ایک آدمی کہنے لگا: ”سر آپ کیا پئیں گے چائے یا کافی؟“ مَیں نے کہا:”جو آپ کے وزیراعظم پئیں گے“۔

نواز شریف بولے: ”سر مَیں تو کافی پئیوں گا“۔ مَیں نے کہا:” مَیں بھی کافی پئیوں گا“۔ جب کافی آئی۔ وہ شخص مجھے کافی دینے لگا، تو نواز شریف بولے: ”آپ کو معلوم ہے یہ میرے استاد ہیں۔ مَیں انہیں خود کافی پیش کروں گا“۔بات بہت معمولی تھی، لیکن دیکھ لیجئے نواز شریف کی سعادت مندی نے اسے کس قدر خوبصورت بنا دیا۔ ادب آداب کے ضمن میں نواز شریف نمایاں شخصیت کے مالک ہیں۔ میری کلاس میں بھی اس لحاظ سے نواز شریف اپنا کوئی جواب نہیں رکھتے تھے۔ بڑے مودب ہو کر ملتے تھے۔ اسی زمانے میں مجھے اپنی زمین کو پانی دینے کے لئے ایک انجن درکار تھا، وہ لینے کے لئے جب مَیں ریلوے سٹیشن لاہور کے نزدیک ان کے دفتر پر گیا تو نواز شریف نے مجھے اپنے والد اور بھائی سے ملوایا، جی ہا ں بھائی شہباز شریف جو ماشا اللہ دو بار وزیراعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں، ایک جلسے میں اتفاق سے مَیں اُن کے سامنے بیٹھا تھا، لیکن وہ مجھے نہیں ملے، حالانکہ لاشعوری طور پر ہی سہی، یہ خوب جانتے ہیں کہ مَیں بے لوث آدمی ہوں۔ مَیں نے اُن کے بھائی سے کچھ نہیں لیا، جو وزیراعظم بنے، تو اُن سے مَیں کیا لوں گا اور یہ مجھے کیا دینے کے قابل ہیں۔
 مَیں سمجھتا ہوں، جو شخص بزرگوں کا احترام کرنے میں تامل کرتا ہے، وہ انہیں کیا دے سکتا ہے۔ بہرحال ہماری ساری عمدہ دُعائیں ان حضرات کے لئے پیش ہیں۔ خدا کرے انہیں خدمت ِ وطن کرنے کی پوری پوری سعادت حاصل ہو۔ مَیں اس ضمن میں کہ یہ حضرات خدمت ِ وطن کے ضمن میں کیا کچھ کر رہے ہیں اور کیا کچھ انہیں کرنا چاہئے، عزیزم میاں محمد نواز شریف سے ملنا چاہتا تھا، لیکن ان حضرت کو میری اس بات کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں اور پھر مزید لطف کی بات یہ ہے کہ جب یہ زمانہ گزر جائے گا اور یہ مجھ سے ملیں گے، تو مجھ سے شکایت کریں گے کہ سر! آپ ہم سے کیوں نہیں ملتے رہے،کیونکہ مَیں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ عزیزم میاں محمد نواز شریف میرے خلوص کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اسے قدر کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -