تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے

  

جب سے پاکستان میں سیل فون متعارف ہوا ہے، اس کے فوائد و نقصانات کا ایک دبستاں کھل گیا ہے۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، بلکہ جہاں تک پاکستان آرمی کا تعلق ہے تو مجھے معلوم ہے کہ فوج کی پروفیشنل کارکردگی پر اس ایجاد نے جو اثرات ڈالے ہیں اور آئندہ ڈال سکتی ہے، اس پر بہت سے سیمینار منعقد ہوچکے ہیں اور کئی کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ انٹرنیٹ، کمپیوٹراور ٹیلی ویژن نے بھی فوجی اور سول معاشرے کی کئی سکہ بند اقدارو روایات کو جھنجوڑ ڈالا ہے۔

سیل فون کی کئی دو دھاری تلواروں میں SMSکی ایک شمشیرِ آبدار بھی شامل ہے۔آج کل اس کے ذریعے آنے والے الیکشن میں انتخابی مہم چلانے اور انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کا پہلا تجربہ کیا جارہا ہے۔فی الحال اگرچہ سیاسی پارٹیوں کا ”سیل فون ڈیپارٹمنٹ“ ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ شعبہ آنے والے ادوار میں الیکٹرانک میڈیا کا ایک بازوئے شمشیر زن بن جائے گا۔

SMSکے ذریعے لوگوں کو دل کی بھڑاس نکالنے کا بھی ایک موثر نسخہ ہاتھ آ گیا ہے۔سیاسی رہنماﺅں کی کردار کشی کے لئے وہ وہ عبارت آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پاکستانیوں کی طبعِ رسا پر کئی دوسری اقوام کو رشک آنے لگا ہے۔کوئی ہی دن جاتا ہوگا جب میرے سیل فون پر آٹھ دس ایسے ”جواہر پارے“ دیکھنے اور پڑھنے کو نہ ملتے ہوں گے جو نہ صرف تفریح طبع کا سامان بنتے ہیں بلکہ سنجیدگی اور متانت کی دیواروں کو توڑ کر قہقہوں کا خودکار سیلاب بہہ نکلتا ہے! ہم بالعموم ایسے یادگار ادب پاروں کو سیل فون کی یادداشت سے Deleteکر دیتے ہیں، لیکن میں نے کئی بار سوچا ہے کہ اگر کوئی صاحب”ہمت“ کریں تو چند ہی روز میں ایک ضخیم بیاض ان ”ارشادات عالیہ“ کی اکٹھی کی جا سکتی ہے۔رہا یہ سوال کہ اس کو شائع کون کرے گا تو آج نہیں تو کل یہ بندھن بھی ٹوٹ جائے گا اور جو امواج آج دریا میں مقید ہیں وہ کل بیرونِ دریا آکر ”بہت کچھ“ بن جائیں گی اور ہمیں حضرتِ علامہ کا یہ مصرع تبدیل کرناپڑے:

موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

میرے بہت سے دوست احباب ان ”فرمودات“ کو کہ جو بذریعہ SMSموصول ہوتے ہیں،”لطائف“ کا نام دیتے ہیں۔مگران لطائف میں اگر کسی کو لطافت نام کی کوئی چیز نظر آئے تو اسے ہمدرد کا گئے وقتوں کا ”سرمہ ءکحل الجواہر“ استعمال کرنا چاہیے....تاہم لطافت میں یہی کثافت ہے جو زندگی کا گرم مصالحہ (Spice)کہلاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس Spice میں فلفلِ سیاہ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے....مجھے مرزا غالب کا وہ شعر یاد آ رہا ہے ، جسے آپ نے کئی بار سنا ہوگا:

لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی

چمن زنگار ہے، آئینہءبادِ بہاری کا

اگر غالب کے اس شعر میں بیان کی گئی حقیقت کو سمجھ لیا جائے تو وہ ساری کی ساری غلیظ اور کثیف SMSجو ہر روز سیل فونوں کے ذریعے شرقاً غرباً اور شمالاً جنوباً پھیلائی جا رہی ہیں، ایک دم معطّراور لطیف بن جائیں گی.... آئینے کے پیچھے جو زنگار مَلا جاتا ہے اس کو اگر آپ نے کبھی سیال حالت میں سونگھا ہو تو کثافت اور بدبو کے سارے اسرارورموز آپ پر آئینہ ہو جائیں گے....لیکن یہی کثافت اور یہی بدبو، آئینے کو ایسی آب و تاب بھی ”عطا“ کرتی ہے کہ انسان اسے دیکھ کر خود آئنہ ءحیرت بن جاتا ہے۔ مومن کا کیا اچھا شعر ہے:

تابِ نظارا نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں

اور بن جائیں گے تصویرِ، جو حیران ہوں گے

اردو کے پروفیسر حضرات سے معذرت کہ ایک عام قاری، غالب کی معنی آفرینیوں کا ادراک نہیں کرسکتا،اس کے لئے عرض کرتا ہوں کہ غالب نے اس شعر میں ہوا کو آئنہ ءبادِ بہاری کہا ہے اور چمن کو اس کا زنگار یا کثافت قرار دیا ہے۔زنگار کا رنگ بھی عموماً سبز ہوتا ہے اور چمن کی 90%شادابی تو ہے سی سبزے کی وجہ سے....لیکن ہم جس چمن کی تعریف و توصیف کرتے ہیں اور اس کو جنتِ نظارا گردانتے ہیں، وہ دراصل وہی کثافت ہے جو چمن میں چلنے والی بادِ نسیم کی صورت، اتنی شفاف ہوجاتی ہے کہ نظر نہیں آتی.... لطافت اور شفافیت کی مثال بادِ بہاری سے دے کر اور پھر بادِ بہاری کو کثافت کی تخلیق کہہ کر غالب نے اس شعر میں معانی کا ایک خزانہ بھر دیا ہے....ہمارے سیل فونوں میں جو کثیف اور گندے (Dirty)لطائف (Jokes)یاروں دوستوں کی طرف سے موصول ہوتے ہیں، وہ گویا آئنہ ءبادِ بہاری ہیں جو ہمیں دل کھول کر ہنسنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

فارسی اور اردو ادب میں ہجویہ کلام کی اگر کثرت نہیں تو قلت بھی نہیں۔فردوسی کے شاہنامہ میں سلطان محمود غزنوی کی ہجوسے لے کر ابنِ یمین کے قطعاتِ قاطع تک سب کچھ مطبوعہ حالت میں آج بھی دستیاب ہے، بلکہ اہلِ ذوق اس کو پڑھ کر ایک عجیب طرح کے تلذذ سے سرشار ہوجاتے ہیں۔اور جہاں تک اردو کا تعلق ہے تو اس میں بھی مرزا رفیع سودا سے لے کر دورِ حاضر کی منظوم Parodiesکہنے والوں تک اس سرمایہءشاعری کا ایک بڑاانبار موجود ہے۔یہ اور بات ہے کہ کسی نے آج تک اردو میں ہجویہ شاعری یا ہزلیات کا کوئی مرقع شائع نہیں کیا۔(شائد کیا ہو اور میری نظر سے نہ گزرا ہو).... اگر کوئی صاحب اس طرف توجہ فرما دیں تو عنداللہ بھی ماجور ہوں گے اور عندالمخلوق بھی دعاﺅں کے حقدار ہوں گے....

آبِ حیات میں مولانا محمد حسین آزاد نے اس صنفِ سخن کے کئی حوالے دیئےہیں اور بعض مثالیں بھی دی ہیں، لیکن وہ مثالیں الفاظ کے پردے میں ملفوف ہو کر”با پردہ“ ہی رہتی ہیں۔مثلاً ایک شعر یاد آ رہا ہے جو کسی ہجو کے جواب میں کہا گیا تھا....جوابی حملہ کرنے والے شاعر کا نام بھی یاد نہیں آ رہا اور”حملہ آور“ شاعر کا نام بھی اب ذہن سے محو رہا ہے۔شعر یہ ہے:

رات کو کہنے لگا جو رو کے منہ پر ہاتھ پھیر

قدرتِ حق سے لگی ہے ہاتھ اندھے کے بٹیر

اور یہ شعر تو پردئہ الفاظ کو گویا چیر کر سرِبازار واشگاف ہونے کا اعلان کررہا ہے:

کسی کے محرمِ آبِ رواں کی یاد آئی

حباب کے جو برابر کبھی حباب آیا

اردو شاعری کے علاوہ اردو کے نثری ادب میں بھی سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اورواجدہ تبسم (اُترن فیم) کے علاوہ بڑے جید نثر نگاروں نے مثلاً جوش ملیح آبادی کی یادوں کی بارات اور مستنصر حسین تارڑ کی نکلے تری تلاش میں، کے صفحات میں ایسے ایسے نثر پارے رقم کئے ہیں جن پر انگریزی ادب کے تتبع کا گمان گزرتا ہے۔انگریزی زبان میں تو کوئی ڈرامہ، شارٹ سٹوری، ناول یا فلم ایسی ہوتی ہی نہیں،جس میں ”کثیف ترین کثافت“ کا کوئی ایک آدھ باب شامل نہ ہو....

مجھے 1950ءکی ایک انڈین فلم داغ(دلیپ کمار/نمی) کی یاد آ رہی ہے جو کبھی بچپن میں دیکھی تھی۔اس میں دلیپ جب ایک طویل مدت کے بعد ہیروئن سے ملتا ہے تو وہ اس کے گلے لگنے کے لئے بے تاب ہوتی ہے مگر ہیرو اپنے بالائی ہونٹ پر انگلیاں پھیر کر صرف مسکراتا رہتا ہے۔آخر جب نمی کو ضبط کا یارا نہیں رہتا تو وہ دلیپ کے سینے پر مکے مارتی اور بنستی روتی ہوئی وہاں سے بھاگ جاتی ہے اور بھاگتے بھاگتے کہتی ہے:”تم اس بات کو نہیں سمجھو گے شنکر!....نہیں سمجھو گے!!“

اور پھر اسی انڈین فلم انڈسٹری میں وہ دور بھی آیا جب زینت امان صاحبہ نے حجاب سے بے حجابی کی طرف ایک بڑی زقند لگا ڈالی اور لتا منگیشکر جیسی متین گلوکارہ نے وہ گیت بھی گایا جس کے بول تھے:

میرے درزی سے آج میری جنگ ہوگئی

کل چولی سلائی آج تنگ ہو گئی

میرے ہاتھوں میں نونو چوڑیاں ہیں

ذرا ٹھہرو سجن مجبوریاں ہیں

اور آج تو حالت یہ ہے کہ کس کس کا نام لوں.... کترینہ کیف سے لے کر کرینہ کپور، پریانکا چوپڑا اور بپاشا باسو تک سب نے گزشتہ فلمی حجابانہ روایات کے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں اور اس برہنگی کو بولڈنس(Boldness)کا نام دے دیا ہے۔

ہماری پاکستانی فلموں کا ارتقائی سفر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ایک دور تھا کہ ہیروئن کا لباس اور اس کی اداکاری میں بے باکی (Boldness)کا نام و نشان تک نہ تھا۔صبیحہ خانم، شمیم آرائ، مسرت نذیر وغیرہ کئی نام ذہن میں آ رہے ہیں۔ لیکن ان کے بعد ایک ایسی اداکارہ آئی جس نے فلموں میں باقاعدہ لاچا پہن کر ’قلابازیاں“ (Somersault)لگانے کی رسم ڈال دی۔اس کا نام شیریں تھا....اور پھر سلطان راہی اور انجمن نے تو پنجابی دیہی ثقافت کی عکاسی کے نام پر وہ اودھم مچایا کہ اشرافیہ نے فلم بینی سے ہی توبہ کرلی....پاکستان میں ٹیلی ویژن کا تعارف اور بولڈ فلموں کا عروج و زوال تقریباً ہم عصر ہیں۔

پہلے ہم انڈین ثقافت کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ دیکھو کیٹ واک(Cat Walk)کے نام پر کیا بے ہودگی پھیلائی جارہی ہے۔ مگر اب تو دوچار برسوں سے روشن خیالی کی یہ چلتی پھرتی تصویریں کراچی اور لاہور میں عام دیکھنے کو ملتی ہیں اور ”ساﺅنی“ ہو کہ ”ہاڑی“ دونوں موسموں میں کیٹ واک کے مقابلے ایک روٹین ایونٹ بنتے جارہے ہیں۔

لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے ورددِ مسعود نے بھی لطافت و کثافت کا ایک چمنستان کھول دیا ہے.... میں نے سیل فون میں ڈرٹی لطائف کے SMSسے بات شروع کی تھی۔فی الحال تو پاکستانی قوم نجانے کس وجہ سے رکی ہوئی ہے کہ ان لطائف کو اب تک زینتِ قرطاس نہیں بنایا۔لیکن اگر انگریزی ادب میں خوشونت سنگھ جیسا عالمی شہرت کا حامل لکھاریDelhiاورThe Company of Womenجیسے ناول لکھ کر ایک عالمگیر شہرت حاصل کرتا ہے اور 90برس سے زائد عمر کا ہو کر اور بھارت کی لوک سبھاکا ممبر اور السٹرٹیڈ ویکلی آف انڈیا جیسے معروف میگزین کا ایڈیٹر ہو کر ایسی Best Sellers تصنیف کرتا ہے تو پھر ایک دن اس کی یہ تصانیف ہندی میں بھی ترجمہ ہو جائیں گی۔اور ہم پاکستانی کہ جو ابھی اپنی قومی زبان میں اس قسم کی تحریروں کو سوقیانہ ادب کا لیبل لگا کر مسترد کردیتے ہیں،ہمیں سوچنا پڑے گا کہ وہ جو غالب نے صرف ”ذوقِ نظر “ کے حصول کی تمنا کی تھی اور ”تسکین“ کو تیاگ دینے کی ٹھانی تھی تو اس کا انجام، برصغیر کے ہندی اور اردو سرمایہ ءنظم و نثر میں کیا صورت اختیار کرچکا ہے۔آج لوگ زیادہ تر ”تسکین“ کو روتے ہیں اور ”ذوقِ نظرکو تضیعِ اوقات سمجھتے ہیں۔

تسکیں کو ہم نہ روئیں جوذوقِ نظر ملے

حورانِ خُلد میں تری صورت مگر ملے

مزید : کالم