خواتین کا سیاسی کردار!

خواتین کا سیاسی کردار!
خواتین کا سیاسی کردار!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

باجوڑ ایجنسی کی بادام زری اور ڈیرہ اسماعیل خان کی مسرت شاہین کے حلقہ انتخاب مشکل ہی نہیں، مشکل ترین ہیں۔ باجوڑ ایجنسی میں جہاں بادام زری اپنے لئے ووٹ مانگ رہی ہے، وہاں طالبان بھی ووٹ ڈالنے کو حرام قرار دیتے ہوئے لوگوں کو ووٹ ڈالنے کے نقصان سے آگاہ کرتے پھرتے ہیں۔ بادام زری کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک عام سی غریب عورت ہے، مگر علاقے میں تبدیلی کی شدید خواہش مند ہے۔ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کوہر قسم کے تعصبات سے بچاتے ہوئے ایک جمہوری معاشرے میں زندہ رہنے کی نوید سنا رہی ہے۔ وہ وہاں کے لوگوں تک ان کی زندگی کی بنیادی ضروریات پہنچانا چاہتی ہے۔ لوگ اس کی بات سن بھی رہے ہیں اور سمجھ بھی رہے ہیں۔ گو کہ ابھی تک کسی سیاسی پارٹی نے بادام زری کی حمایت کا اعلان نہیں کیا، مگر بادام زری پوری طاقت کے ساتھ اپنی الیکشن مہم چلائے ہوئے ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ حکومت نے اس کی سیکیورٹی کے لئے کوئی بندوبست کیا ہے کہ نہیں، مگر بادام زری اللہ پر توکل کئے، اس کی حفاظت پر یقین رکھتے ہوئے میدان میں موجود ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کی مسرت شاہین بھی میدان میں ہے۔ یہ حلقہ بھی طالبان کے پاﺅں تلے ہے۔ یہاں بھی طالبان پوری قوت کے ساتھ موجود ہیں اور عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں کی عورت امیدوار تو دور کی بات، ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم ہے۔
ڈیرہ اسماعیل خان بہت خوبصورت ثقافتی شہر تھا۔ یہاں کے لوگ بہت پُرامن اور پُرسکون تھے۔ کسی بھی قسم کے مذہبی تعصبات سے دور ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت سے رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان کو ڈیرہ پھلاں دا سہرا بھی کہا جاتا تھا، مگر اب یہاں کی رونقیں اُجڑ چکی ہیں۔ چاروں اطراف خوف کا راج ہے۔ دن کے وقت تو بازاروں اور ہوٹلوں میں تھوڑی بہت رونق ہوتی ہے، مگر رات کے وقت لوگ اپنے گھروں کے اندر قید ہو جاتے ہیں، مسرت شاہین، جسے اداکارہ ہونے کی وجہ سے بعض کالم نگار تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ محض شہرت حاصل کرنے کے لئے بھی اگر وہ الیکشن میں موجود ہیں تو پھر بھی یہ کتنا مہنگا سودا ہے، مگر ایک بات یہ بھی ہے کہ مسرت شاہین نے مولانا فضل الرحمن کو خاصا تنگ کر رکھا ہے۔ علاقے میں اب مسرت شاہین کی سیاست میں ثابت قدمی کو سراہا جا رہا ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمن نے بھی حلقے کے لوگوں کے لئے اپنے نعروں میں ایک نئے نعرے کا اضافہ کیا ہے۔ پہلے وہاں مولانا فضل الرحمن کے لئے صرف اسلامی نظام لائیں گے، کے نعرے سنائی دیتے تھے، مگر اب ایک نیا نعرہ ،جو وہاں کے سیاسی لوگوں کے لئے دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے، وہ ہے سرائیکی قوم کا ترجمان مولانا فضل الرحمن، مولانا فضل الرحمن، جن کی مادری زبان پشتو ہے۔ سرائیکی قوم کے ترجمان والے نعرے نے کئی سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔
بادام زری اور مسرت شاہین کا بطور امیدوار ایسے حلقوں میں موجود ہونا، جہاں مرد حضرات الیکشن لڑنے سے گھبراتے ہیں، جرا¿ت مندی کی بات ہے اور پاکستان کی خواتین میں یہ جرا¿ت مندی ایسے ہی نہیں آئی، اس کے پیچھے بھی ایک پوری تاریخ ہے، بہت سی خواتین رہنماو¿ں کی قربانیاں ہیں، جن کی وجہ سے آج کی عورت بھی سیاست میں اپنے وجود کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قابل احترام بہن محترمہ فاطمہ جناح پاکستان کی پہلی خاتون ہیں، جنہوں نے اپنے عظیم بھائی کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے جدوجہد کی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی ساری زندگی اپنے بھائی کے مشن کے لئے وقف کر دی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے جنرل ایوب خان کے مارشل لاءکے خلاف بھی جدوجہد کی۔ یہ فاطمہ جناح ہی تھیں، جنہوں نے ایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا.... عوام ان کے ساتھ تھے اور چاہتے تھے کہ بابائے قوم کی بہن صدر پاکستان کا منصب سنبھالیں، مگر جنرل ایوب خان کے فدائیوں نے دھونس، دھاندلی اور تشدد کے ذریعے ان انتخابات کو اپنے حق میں کر لیا۔
محترمہ فاطمہ جناح کے بعد نوابزادہ لیاقت علی خان کی اہلیہ کا سیاسی کردار بھی قابل تحسین ہے۔ پاکستان کے قیام اور استحکام کے لئے ان دونوں خواتین کے کردار کو ہمیشہ سراہا جاتا ہے اور سراہا جاتا رہے گا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا، تو بیگم نصرت بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لئے بہت زبردست جدوجہد کی ، پھر بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے بھی جمہوریت کی بحالی کے لئے بے مثال قربانیاں دیں۔ بے نظیر بھٹو اپنی انہی جمہوری خدمات کی وجہ سے دو بار ملک کی وزیراعظم بھی بنیں۔ ان کے سیاسی کردار کو نہ صرف پاکستان کے عوام نے، بلکہ دنیا بھر کے لوگوں نے سراہا۔ ان کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی اہلیہ محترمہ بیگم کلثوم نواز شریف کا سیاسی کردار بھی مثالی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے جب نواز شریف کی حکومت کو برطرف کرتے ہوئے انہیں خاندان سمیت اٹک قلعے میں بند کر دیا.... تو محترمہ کلثوم نواز شریف نے پہلے تو کوشش کی کہ ان کی جماعت اور وہ لوگ جو نواز شریف کے بازو سمجھے جاتے ہیں، آگے بڑھ کر جنرل پرویز مشرف کے خلاف مزاحمت کریں، مگر جب انہوں نے دیکھا کہ تمام لیڈر جنرل پرویز مشرف کے ہمنوا بن چکے ہیں تو انہوں نے خود آگے بڑھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف کو یقین تھا کہ وہ چند روز تک سڑکوں پر نکلنے کے بعد واپس گھر بیٹھ جائیں گی، مگر بیگم کلثوم نواز نے ہار ماننے سے انکار کر دیا اور کسی قسم کی رکاوٹ کو اپنے عزائم کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا۔
یہ کلثوم نواز کی ثابت قدمی تھی کہ جنرل پرویز مشرف کو نواز شریف سے جان چھڑانے کے لئے انہیں جدہ روانہ کرنا پڑا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے اس وقت کے رہنما، بیگم کلثوم نواز کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تو جنرل پرویز مشرف کے اقتدار کا عرصہ مختصر بھی ہو سکتا تھا، مگر وہ لوگ حوصلہ ہار گئے اور انہوں نے اپنی سیاسی طاقت جنرل پرویز مشرف کے پلڑے میں ڈال دی۔ جنرل پرویز مشرف بھی اپنے دور میں خواتین کے حقوق کے بہت بڑے علمبردار بننے کی کوشش کرتے رہے۔ یہ جنرل پرویز مشرف ہی تھے جنہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لئے خواتین کے مخصوص کوٹے کو ”تھوک“ کے حساب سے بڑھا دیا.... مگر بدقسمتی سے ان مخصوص نشستوں کے ذریعے اسمبلیوں تک پہنچنے والی خواتین اپنے اختیار اور سیاسی کردار کے حوالے سے کوئی نقش قائم نہ کر سکیں۔ اب موجودہ الیکشن میں بھی خواتین کی ایک کثیر تعداد مختلف پارٹیوں کے ذریعے اپنی اپنی نامزدگیوں کے لئے ہاتھ پاو¿ں مار رہی ہیں۔ زیادہ تر ان خواتین کے نام سامنے آئے ہیں، جنہیں عملی سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے، بس وہ اپنے خاندانی تعلقات کے زور پر اسمبلیوں تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ میرے خیال میں انتخابات کے بعد تمام پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ تھوک کے حساب سے خواتین کو اسمبلیوں میں پہنچانے والے قانون میں ترمیم کریں، کیونکہ اسی طرح بہت سی ایسی خاتون بھی اسمبلی تک پہنچ جاتی ہیں، جنہیں اسمبلی کی اہمیت اور اپنے پارلیمانی کردار کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہوتا اور نہ وہ اسمبلی میں کوئی کردار ادا کر پاتی ہیں۔
بے نظیر بھٹو کے بعد ملکی سیاست میں کوئی ایک بھی ایسی خاتون سامنے نہیں آئی کہ ملکی سطح پر جس کی سیاسی خدمات کا چرچا ہو۔ پھر کتنی عجیب بات ہے کہ بادام زری، مسرت شاہین اور اسی طرح کی دیگر دو چار خواتین، جو ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے الیکشن لڑنے کے بعد اسمبلی تک پہنچےں گی۔ اب اگر ایک میک اپ زدہ خاتون، جس کا عملی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسمبلی میں محض شو پیس کے طور پر جائے گی۔ دونوں کا سیاسی وزن ایک ہی ہوگا، تو یہ ایک طرح کی زیادتی ہوگی اور ملکی سیاست میں بھی خواتین کے حوالے سے کوئی مثبت تبدیلی نہیں لائی جاسکے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین بھی سیاسی حوالے سے عملی طور پر سیاسی میدان میں قسمت آزمائی کریں تاکہ ان کے سیاسی کردار میں پختگی آئے اور ملک و قوم کے لئے کوئی بہتر خدمات انجام دینے کے قابل ہو سکیں.... سیاسی جماعتوں کو بھی خواتین کے حوالے سے جرا¿ت سے کام لیتے ہوئے، محض خاندانی اثر و رسوخ کو اہمیت نہیں دینی چاہئے، بلکہ ایسی خواتین کو نامزد کرنا چاہئے، جن کے پاس عملی سیاست کا تجربہ ہو۔ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے جن خواتین نے اپنا مثبت سیاسی کردار ادا کیا ہے، انہیں ٹکٹ دیا جائے، تاکہ مستقبل قریب میں پاکستان کے سیاسی نقشے پر دوبارہ سے کوئی خاتون اپنا نام اور مقام بنا سکے۔  ٭

مزید :

کالم -