کلرک بادشاہ، بجلی اور کالا باغ ڈیم!

کلرک بادشاہ، بجلی اور کالا باغ ڈیم!
کلرک بادشاہ، بجلی اور کالا باغ ڈیم!

  

وہ سب متاثرین ہیں، صارفین ہیں اور ہر ماہ مقررہ تاریخ سے پہلے بل بھی ادا کر دیتے ہیں، ہر بار بلبلاتے ہیں، بار بار میٹر کی ریڈنگ پڑھتے اور بل سے موازنہ کرتے ہیں۔ گزشتہ صبح یہ سب سیر کے بعد پارک میں جمع ہوئے تو یہی رونا رو رہے تھے کہ بل تو آتا ہے، بجلی کیوں نہیں آتی؟ اور یہ ہر ماہ اضافی ریڈنگ کیوں شامل ہوتی ہے؟ ان میں سے ایک صاحب کا تعلق خود اسی محکمے سے ہے، وہ کچھ دیر سنتے رہے، پھر اپنے محکمے کے دفاع پر اُتر آئے۔ ان کے بقول ملک میں پن بجلی کی پیداوار کم ہے۔ تربیلا اور منگلا کے بعد کوئی ڈیم نہیں بنایا گیا۔ اس کے علاوہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر (متنازعہ علاقہ) میں قریباً تین ڈیم بنا لئے ہیں،ان کی تعمیر سے یوں بھی پاکستان کے دریاﺅں میں پانی کی کمی ہے۔ تربیلا اور منگلا میں فصلوں کے لئے پانی کا ذخیرہ ایک حد تک رکھنا مجبوری ہے۔ ان صاحب نے بھڑک کر کہا، اللہ بھی ہم پاکستانیوں پر”مہربان“ ہے کہ اس سیزن میں برف باری تو خاصی ہوئی، لیکن یہاں کا موسم گزر جانے کے بعد بھی شمالی پہاڑوں کی طرف درجہ حرارت میں اتنا اضافہ نہیں ہوا کہ یہ برف پگھل کر آئے، ڈیموں میں پانی کے ذخائر بڑھیں اور ان سے زیادہ پانی خارج ہو تو پن بجلی بھی زیادہ بنے۔

سوال ہوا کہ کیا پن بجلی ہی ایک ذریعہ ہے، جواب ملا تھرمل دوسرا ہے، لیکن نجی پیداواری ادارے یہ بجلی مہنگی دیتے ہیں، جو قریباً14سے15روپے یونٹ ہوتی ہے، صارفین کو یہی بجلی درجہ بدرجہ6سے8روپے اور13 روپے فی یونٹ دی جاتی ہے ، باقی سبسڈی دے کر حالات کو سنبھالا جاتا ہے، حالانکہ عالمی مالیاتی ادارہ اور عالمی بنک اس سبسڈی کے خلاف ہیں۔ اگر یہ سبسڈی ختم کر دی جائے تو پھر صارفین کو یہی بجلی15روپے فی یونٹ پڑے گی۔ اس لئے تھرمل بجلی کم خریدنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں بھی ان اداروں کے واجبات ہیں اور وہ وصولی کے لئے مزید بجلی دینا بند کر دیتے ہیں۔ یوں صورت حال زیادہ خراب ہوجاتی ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے نجی اداروں کو ادائیگی نہیں ہو رہی، وہ پی ایس او کو رقم نہیں دیتے، جہاں سے فرنس آئل روک لیا جاتا ہے۔

یہ معاملہ پیچیدگی اختیار کرنے لگا تو کسی نے کہا کہ یہ سب کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں واجبات وصول نہیں کر پاتیں تو اس میں عام صارف کا کیا قصور ہے؟ یہ ایک دلچسپ بحث یا گفتگو تھی، جو دیر تک جاری رہی ،مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا۔ البتہ یہ انکشاف یقینا ہو گیا کہ کرپشن کسی ایک جگہ یا محکمے میں نہیں،ہر جگہ ہے۔ بجلی تقسیم کرنے کی ذمہ دار کمپنیوں کے میٹر ریڈر، میٹر دیکھے بغیر دفتر یا گھر بیٹھ کر ریڈنگ لکھ دیتے ہیں۔ ہر ماہ خرچ کی نسبت دس پندرہ یونٹ کم ہو جاتے ہیں ، پھر جب تین چار ماہ کے بعد ریڈنگ لی جاتی ہے تو صارف کا بل ایک دم بڑھ جاتا ہے، کیونکہ میٹر ریڈنگ تیسرے درجہ والی ہو جاتی ہے، جس کے نرخ زیادہ ہیں، یوں بل بڑ ھ جاتاہے۔

بات چلتی گئی تو کالا باغ ڈیم کا ذکر آ گیا کہ اگر یہ تعمیر ہو گیا ہوتا تو زراعت کے لئے پانی ملتا اور بجلی فالتو فنڈ میں ہوتی، جو قریباً ساڑھے چار ہزار میگاواٹ ہونا تھی، لیکن اسے متنازعہ بنا کر کروڑوں خرچ ہو جانے والا یہ منصوبہ ٹھپ کر دیا گیا۔ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ قومی سیاست کی حامل جماعتیں بھی اسے اتفاق رائے سے مشروط کرتی ہیں، یہ نہیں کرتیں کہ ملک کے باقی تینوں صوبوں کی حکومتوں کو قائل کیا جائے کہ کالا باغ ڈیم سے نقصان مفروضہ ہے، البتہ فائدہ ہی فائدہ ہے، لیکن ایسا نہیں کیا جاتا۔

تمام تر بحث کی وجہ یہی تھی کہ وزیراعظم کی مداخلت کی خبر نے بجلی کی ترسیل بہتر کی ہے ،لیکن یہ سب تماشہ ہی ہوا کہ ایک رات کے لئے تو بجلی ملی ، پھر وہی سلسلہ شروع ہو گیا اور ایک گھنٹہ بجلی ملنے کے بعد دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ یوں لاہور میں دورانیہ بڑھ کر16گھنٹے ہو گیا ہے۔ یو پی ایس جواب دے گئے ہیں، اس پر پریشانی یہ کہ درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ابھی تک موسم قدرے بہتر تھا ،لیکن اب دوپہر اور سہ پہر زیادہ گرم ہونے لگی ہیں اور پریشانی بڑھ رہی ہے۔ نگران وزیراعظم نے20ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیاتو فنانس والوں نے دینے سے انکار کر دیا کہ بجٹ میں کوئی گنجائش نہیں ، اس میں پہلے ہی زیادہ رقوم ادا کی جا چکی ہوئی ہیں۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ اب حالات یہی رہیں گے، گرمی بڑھے گی تو حالات زیادہ خراب ہوں گے کہ استعمال میں مزید اضافہ ہو گا۔

اس سلسلے میں گزارش یہ ہے کہ یہ سب کیا دھرا ”بابو کریسی“ کا ہے۔ یہ افسر شاہی اور کلرک بادشاہ جمہوری حکومت کے ایام پورے ہونے اور نگران حکومت آنے کے بعد خود سر ہو گئے ہیں ، اب ان کو قانون و قاعدہ اور بجٹ یاد آنے لگا ہے۔ حکومت موجود تھی تو عوامی احتجاج کا اثر ہوتا اور کچھ سہولت مل جاتی تھی۔ اب تو ان حضرات کا قبضہ ہے ۔یہ اپنے لئے توسہولتیں حاصل کر رہے ہیں، عوام کو کوئی ریلیف دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ان کے دفاتر کے لئے جنریٹر ہیں تو ان حضرات نے گھروں میں بھی جنریٹر لگا رکھے ہیں اور یہ سب سرکاری خرچ پر ہے۔ اس کے علاوہ اب ان حضرات کی مہربانیوں سے عوام کو تنگ کرنے کی پوری سعی کی جاتی ہے اور جب صارفین ان محکموں کا رُخ کرتے ہیں تو ان کو جمہوری حکومت کے ”کارنامے“ گنوائے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ان (عوام نمائندوں) سے پوچھو، ان سے جا کر کہو۔

یہ عجیب نہیں ہے کہ حکومت کے جاتے ہی یہ بابو بااختیار ہوئے ہیں تو انہوں نے کارکنوں کی گردن پر چھرا چلانا شروع کر دیا ہے ۔متعدد محکموں میں ٹھیکے والے اور عارضی کارکنوں کی تنخواہ بند کر دی گئی۔ جمہوری دور حکومت میں ملازم ہونے والے ہزاروں کارکنوں کو فارغ کرنے کی سمریاں تیار کر کے بھیجی جا رہی ہیں اور بعض اداروں میں ملازم فارغ بھی کر دیئے گئے ہیں۔ اکثر اداروں میں طبی سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں۔ یہ بھی بند کر دی گئی ہے، یوں سرکاری دفاتر میں خوف و ہراس پیدا کیا جا رہا ہے۔ ابھی جمعرات کو ہی متروکہ وقف املاک بورڈ کے ملازمین نے مظاہرہ کیا تو ان میں سے کچھ لوگوں کی تنخواہ ادا کردی گئی ،باقی لوگوں سے ایک دو روز میں ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا۔ یہ ملازمین مشتعل ہیں اور ان کی طرف سے مزید مظاہرے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ایسے ”بابو“ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ نگران دور کی مدت تھوڑی ہی ہے ، اس کے بعد انتخابات میں جو جماعت جیتے گی، وہی حکومت بنائے گی اور کوئی بھی سیاسی جماعت کارکنوں کو بے روزگار نہیں کرتی ۔ ہم نے جمہوری دور میں ان افسروں کو بڑھ بڑھ کر خوشامد کرتے دیکھا،مگر آج یہی لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، بھول گئے ہیںکہ پھر جمہوری دور آنے والا ہے۔ یہ صورت حال بے چینی پیدا کرنے والی ہے۔ سب سیاسی جماعتوں کو غور کرنا ہو گا اور اس سلسلے میں متفقہ لائحہ عمل بنانا ہو گا کہ عوام بے روزگار اور پریشان نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی قائدین سے گزارش ہے کہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ یہ ڈیم مستقبل کی ضروریات کے لئے بہت ضروری ہے۔ ٭

مزید : کالم