افسر شاہی کے وسیع پیمانے پر تبادلے

افسر شاہی کے وسیع پیمانے پر تبادلے

الیکشن کمیشن نے سندھ کی ساری بیورو کریسی تبدیل کرنے کا حکم دے دیا اور تفصیل سے بتا کر 65اعلیٰ افسروں کو ہٹانے کی ہدایت کی ہے، اِن میں چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، پرنسپل سیکرٹری اور سیکرٹری تعلیم بھی شامل ہیں۔ یہ ہدایت مختلف سیاسی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی طرف سے مطالبہ کرنے کی وجہ سے دی گئی۔ اِس سے پہلے وفاق اور پنجاب میں بڑے وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ مزید جاری ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی تبادلے کئے گئے، لیکن تھوک کے حساب سے نہیں۔

الیکشن کمیشن انتخابات کو زیادہ سے زیادہ شفاف اور منصفانہ بنانے کے لئے ایسے اقدامات کر رہا ہے اور ان کی پذیرائی بھی ہو رہی ہے، لیکن جس وسیع پیمانے پراکھاڑ پچھاڑ کی گئی اور کی جا رہی ہے، اسے معمول کے طور پر نہیں لیا گیا کہ الیکشن کمیشن کا کام الیکشن کرانا اور نگران حکومتوں کی معاونت کر کے فضا کو خوشگوار بنانا ہے اور یہ کام اچھے انتظامی اقدامات سے ممکن ہے۔ تاہم اس کے لئے اتنے وسیع پیمانے پر تبادلے ضروری نہیں ہیں، بہتر عمل تو یہ ہوتا کہ جن افسروں کے بارے میں شکایت ہوتی یا یہ علم ہوتا کہ ان کی ہمدردیاں کسی مخصوص جماعت یا سیاسی رہنما سے ہو سکتی ہیں، اُن کا تبادلہ کر دیا جاتا تاہم اتنے وسیع پیانے پر تبادلے سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔

پنجاب میں تبادلے ہوئے تو دوسرے صوبوں کے حوالے سے مطالبات سامنے آنے لگے تھے اس طرح الیکشن کمیشن کا کام بڑھتا چلا جا رہا ہے اور مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ بہتر یہ ہو گا کہ الیکشن کمیشن کم از کم بوجھ لے اور اپنی توجہ انتخابی عمل پرمرکوز کرے۔ حفاظتی اور انتظامی انتظامات کے لئے نگران حکومتوں کو ہی ذمہ دار بنایا جائے کہ ان کا یہی کام ہے۔

مزید : اداریہ