امیدواروں کی زندگی کا تحفط جمہوریت کا تحفظ ہے

امیدواروں کی زندگی کا تحفط جمہوریت کا تحفظ ہے

حیدر آباد میں متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی کے حلقہ 47 کے امیدوا ر فخرالاسلام دو سکوٹر سواروں کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے انتخابی دفتر سے نکل رہے تھے کہ ہالہ ناکہ کے قریب سکوٹر سواروں نے اُن پر فائرنگ کی اورفرارہوگئے۔اس کے علاوہ پشاور اور کوئٹہ میں بھی سابق وزراءپرحملے کئے گئے ہیں۔ پشاور میں نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی سیکورٹی وجوہ کی بناءپر انتخابی جلسوں اور مظاہروں میں حصہ نہیں لے سکتی ۔ کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے باوجود تین ٹریفک وارڈنوں سمیت مزید تیرہ افراد کوقتل کر دیا گیا ہے ،جبکہ متحدہ کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی آپریشن ہو رہا ہے اوراس کی انتخابی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

انتخابات میں حصہ لینے والوں کے لئے یہ صورت حال انتہائی مایوس کن ہے ۔ نگران حکومت اور امن و امان قائم کرنے والے اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے والوں کو ہر طرح سے تحفظ فراہم کریں۔ امن و امان کے دشمنوں تک پہنچیں۔ سیاسی حکومت کی موجودگی میں ہر طرف سے سیاسی قیادت پر انگلیاں اُٹھائی جاتی تھیں اور ہر طرح کے قتل و غارت میں سیاست دانوں کے پروردہ لوگوں کا ہاتھ سمجھا جاتا تھا۔ سپریم کورٹ میں کراچی بد امنی کیس کے سلسلے میں بھی پولیس بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کرنے سے لے کر قاتلوں اور خوفناک مجرموں کو سیاسی بنیادوں پر رہا کر دینے کے معاملات سامنے آتے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے بار بار کے اصرار کے بعد مجرموں کے خلاف کارروائی نہ کئے جانے کی وجہ حکومت میں بیٹھے سیاست دان ہی قرار پاتے رہے۔ نگران حکومت آنے کے بعد سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی میں نو گو ایریاز ختم کرنے کے لئے کارروائی شروع ہوئی ہے ۔ اس سے حالات سدھرنے کی توقع تھی، لیکن معلوم ہو رہا ہے کہ سندھ کی حکومت ایسی بھی غیر جانبدار اور غیر سیاسی نہیں ہے جیسی کہ لوگوں کو توقع تھی ، اسی وجہ سے کراچی کے معاملات ابھی تک جوں کے توں ہیں۔ملک میں دہشت گردوں کی سرگرمیاں بھی کم نہیں ہوئیں ۔ خیبر پختونخوا میں حالات مخدوش ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ نامعلوم طاقتوں نے انتخابات کو سبوتاژ کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے ۔

آرمی چیف کے زیر صدارت ہونے والے فارمیشن کمانڈروں کے اجلاس میں انتخابات کے لئے فوج نے سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کے سلسلے میں امن کو یقینی بنانے کے لئے فوج کا تعاون طلب کیا ہے ، لہٰذا اس کے تمام پہلوﺅں پر غور کرنے کے بعد سیکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے بھی کہا ہے کہ شفاف انتخابات کے لئے امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ انہوں نے بلوچستان میں قیام امن کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانے اور امیدواروں کو مکمل تحفط فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ادھر پنجاب کے وزیراعلیٰ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ حساس پولنگ سٹیشنوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اُن کی ویڈیو کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔ امن وامان کو بہتر بنانے کے لئے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی جائے گی۔اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انسانی جان و مال کی حفاظت کے لئے جو بھی انسانی بس میں ہے وہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عارف نظامی نے بھی کہا ہے کہ متحدہ کے امیدوار فخرالاسلام کی ہلاکت حالات کی سنگینی ظاہر کرتی ہے ۔

انتخابات کے دوران ووٹروںسے رابطہ کرنا اور ان تک اپنا پروگرام اور مو¿قف پہنچانا امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے ۔ جمہوریت اسی چیز کا نام ہے کہ ہر کسی سے اُس کا نقطہ نظر سنا جائے ہر کسی کے پروگرام اور منشور کو پرکھا جائے اور سوچ سمجھ کر درست لوگوں کا ساتھ دیا جائے۔ اپنی بات کہے اور دوسروں کی بات سنے بغیر جمہوریت کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ میڈیا کے ذریعے جماعتوں کے منشور اور رہنماﺅں کے بیانات سامنے آرہے ہیں، لیکن زیادہ تر ووٹرز کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے امیدواروں کو ذاتی طور پر سننا بھی پسند کرتے ہیں ۔ جمہوریت میں بہت پختہ اور سلجھے ہوئے امریکہ جیسے ممالک میں بھی انتخابات کے دنوں میں انتخابی اجتماعات اور تقاریر کا انتظام کیا جاتا ہے ۔ پاکستان کے عوام بھی اِس دوران امیدواروں کو اپنے مسائل بتانا اور اُن کے حل کے لئے وعدے لینا پسند کرتے ہیں۔ میڈیا کے بخشے ہوئے شعور کی وجہ سے عوام قائدین سے تمام بڑے قومی مسائل کے متعلق اُن کا نقطہ نظر بھی اُن کی زبانی سننا چاہتے ہیں۔ اِس طرح انتخابات سے پہلے کی انتخابی مہم ووٹروں کے کسی نتیجے پر پہنچنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی سے گزر کر اور ایک امیدوار کے تقاضے پورے کرتے ہوئے، جو لوگ انتخابات میں سامنے آ رہے ہیں اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں یا چلانا چاہتے ہیں ، حکومت کا یہ فرض ہے کہ اُن تمام لوگوں کی حفاظت کا پورا انتظام کرے ، اُنہیں اِس بات کی گارنٹی دی جائے کہ انتخابی مہم کے دوران کسی بھی طرف سے اُنہیں اور اُن کے حامیوں کے جان ومال کو کسی طرح کا خطرہ نہیں ہوگا۔ اگر مختلف جماعتوں کی قیادت اور اُن کے امیدواروں کی زندگی خطرے میں رہی تو جس طرح عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عوام سے رابطے میںدشواری محسوس کررہے ہیں اور جس طرح متحدہ کی قیادت اپنے امیدوار اور کارکنوں کے قتل پر اپنا دائرہ تنگ ہوتا محسوس کر رہی ہے ، یہ سب کچھ انتخابات کے عمل کو ایک گھٹن اور پریشان کن صورتحال کے سپرد کردے گا۔ امیدوار اور سیاسی جماعتیں اپنے منشور کی وضاحت کے لئے عوام کے سامنے پیش نہیں ہوسکیں گی۔ اس طرح عوام سے خواص کے رابطے کا (انتخابی مہم کی صورت میں ) یہ واحد موقع بھی عوام کے ہاتھ نہیں آسکے گا۔

حکومتی اداروں اور شخصیات کی طرف سے انتخابات کو شفاف اور پُرامن بنانے کے لئے جو کچھ بھی کہا اور کیا جارہا ہے اِس سے یہی واضح ہو رہا ہے کہ اُن کا فوکس پولنگ کے دن ہی پر ہے ۔ انتخابی سرگرمیوں کو تحفظ دینے اور امیدواروں کی زندگیوں کی حفاظت کے لئے ضروری انتظامات ان کے پیش نظر نہیں۔یہ درست کہ تمام اہم سیاسی قائدین کی سیکیورٹی کا معقول انتطام کیا گیا ہے ۔ لیکن اسمبلیوں کے تمام امیدواروں کے جان ومال کی حفاظت کے لئے بھی تمام ضروری انتظامات کئے جانے چاہئیں،جو لوگ بھی امیدوار کی حیثیت سے انتخابی میدان میں اترے ہیں کسی قسم کی سیاسی وابستگی کا لحاظ کئے بغیر ان کی بلا تمیز حفاظت کا انتظام ہونا چاہئے۔ ایسا نہ ہوا تو امیدواروں اور جماعتوں میں کشیدگی بڑھنے کے علاوہ عوام کی پریشانی اور سراسیمکی میں بھی اضافہ ہو گا، انتخابات کے امن کو ایک ہی دن تک محدود کرنے کے بجائے اسے آج سے پولنگ ڈے تک پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ اس وقت انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار ہی اپنے اپنے گروہ کے سیاسی قائد ہیں ، انہی کو کم یا زیادہ عوامی تائید و حمایت حاصل ہے ، اس وقت جمہوریت اور جمہوری عمل کی وہی علامت ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں یہ لوگ قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں تمام سیکیورٹی ایجنسیوںکا یہ فرض ہے کہ قوم کے اس قیمتی اثاثہ کی حفاظت کے لئے دن رات ایک کردیں اور ان کی زندگیوں کو محفوظ و مامون کرکے جمہوریت اور اس ملک کے مستقبل کو بچا لیں۔

سیاسی جماعتوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ موجودہ نازک حالات میں اپنے منظم اور فعال کارکنوں سے امن وامان قائم رکھنے اور جمہوریت دشمن عناصر پر کڑی نگاہ رکھنے کا کام لیں۔ اس وقت جاری جمہوری عمل کو خطرہ جمہوریت کی بقا کے لئے خطرہ ہے ۔ موجودہ حالات میں ایک ایک امیدوار کی جان ومال اور اس کے حامیوں کی زندگی کی حفاظت ملک و قوم اور جمہوریت سے وفاداری رکھنے والے ہر انسان کے نزدیک بے حد اہم ہے ۔

مزید : اداریہ