ہر دورمیں سیاستدانوں کے خلاف کاروائی کیلئے مختلف طریقے اورقانون متعارف کروائے گئے

ہر دورمیں سیاستدانوں کے خلاف کاروائی کیلئے مختلف طریقے اورقانون متعارف ...
ہر دورمیں سیاستدانوں کے خلاف کاروائی کیلئے مختلف طریقے اورقانون متعارف کروائے گئے

  

 (رپورٹ: شہباز اکمل جندران) پاکستان میں آئین کے آرٹیکل 62و 63اور جعلی ڈگری کے مقدمات کے تحت سیاستدانوں کے خلاف کاروائی نئی بات نہیں ہے۔ملک میں سیاستدانوں اور سیاسی رہنماﺅں کے خلاف کاروائی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی مملکت کی اپنی تاریخ ۔ ہر دور میں سیاستدانوںکے خلاف کارروائی کے لیے مختلف طریقے اور قانون متعارف کروائے گئے ۔کبھی ”پروڈا“ پوڈو، ایبڈو اور احتساب آرڈیننس جیسے قانون بنائے گئے ،توکبھی فوجی عدالتیں قائم کرکے سیاستدانوں کی گوشمالی کی گئی۔ملک میں ان دنوں دسویں عام انتخابات کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے۔ اور یہ ملک کے پہلے عام انتخابات ہیں جن میں آئین کے آرٹیکل 62و 63پر عمل درآمد کو گونج سنائی دینے کے ساتھ ساتھ 2008کے الیکشن میں گریجویشن کی جعلی ڈگری کے باعث الیکشن لڑنے اور جیتنے والے سابق اراکین پارلیمنٹ کے خلاف گھیرا بھی تنگ کیا جارھا ہے۔2008کے 1170ارکین پارلیمنٹ میں سے 172ارکان نے اپنی ڈگریاں جمع نہ کروائیں۔ان میں سے 69کے خلاف جعلی ڈگری کے کیس چلائے گئے ۔ جن میں سے 40سے زائد کے مقدمات کا فیصلہ سنایا جاچکا ہے۔جمشید دستی، سید محمد سلمان محسن گیلانی ،سید اخوندزادہ چٹان ، حیات اللہ خان ترین،وسیم افضل خان، محمد صفدر گل سردار میر بادشاہ قیصرانی ، سید عاقل شاہ ، حاجی علی مدد جتک ، میر محبت خان مری ، نسیم نذیر خواجہ ،رضوان نواز گل ،مکیش کمار ،نوابزادہ محمد اکبر، ملک عامر یار وارن،میر اسرار اللہ خان ، ہمایوں عزیز کرد، شمع پرویز مگسی،نوابزادہ میر نادرمگسی،سید جاوید حسین شاہ، خلیفہ عبدالقیوم ، ناصرعلی شاہ،سردار الحاج محمد عمر گورگیج ۔ولی محمد ، میر احمدان خان،گلستان خان ، عبدالصمد اخونزادہ ، یار محمد ، اعجاز احمد ، مولوی آغا محمد ،ملک اقبال احمد لنگڑیال ،مولوی حاجی روز الدین، پتنبار سیہوانی، بشیر احمد خان لغاری ، مظہر حیات، شمائلہ رانا ، حاجی شیر احمد خان وزیر ، کشور کمار ، محمد خان طور، سردار علی ، محمد شوکت عزیز بھٹی ، رانا یٰحی بلوچ، مولوی عبیدالدین ، دیوان سید عاشق حسین بخاری، غلام دستگیر راجہ ، ثمینہ خاور حیات، صائمہ عزیز ، ذولفقار علی ، افشاں فاروق، سیمل کامران ، فرح دیبا، اور سیدہ ماجدہ زیدی سمیت متعدد سابق اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں کی بی اے کی ڈگریوں کو جعلی قرار دیدیا گیا ۔ اور ان میں سے جمشید دستی، سید محمد سلمان محسن گیلانی ،سید اخوندزادہ چٹان ، حیات اللہ خان ترین،وسیم افضل خان، محمد صفدر گل سردار میر بادشاہ قیصرانی ، سید عاقل شاہ ، حاجی علی مدد جتک ، میر محبت خان مری ، نسیم نذیر خواجہ ،رضوان نواز گل ،مکیش کمار ،نوابزادہ محمد اکبر، ملک عامر یار وارن،میر اسرار اللہ خان ، ہمایوں عزیز کرد، شمع پرویز مگسی،نوابزادہ میر نادرمگسی،سید جاوید حسین شاہ، خلیفہ عبدالقیوم ، ناصرعلی شاہ،سردار الحاج محمد عمر گورگیج کو جعلی ڈگری کی بنا پر قید کی سزابھی سنادی گئی۔اگرچہ جمشید دستی کی سزا معطل کردی گئی ہے جبکہ عاقل شاہ اور ایک دوسرے رہنما کی سزا کے بعد ضمانتیں منظور ہوچکی ہیں۔ لیکن جعلی ڈگری کے مقدمات نے سیاستدانوں میں خوف ہو ہراس کی فضا قائم کردی ہے۔اس سے قبل بھی فرح ناز اصفحانی سے شروع ہونے والا جعلی ڈگری کا یہ سفر بیسیوں سابق اراکین قومی وصوبائی اسمبلیوں کے لیے ڈراﺅنے خواب کی تعبیر کی طرح سامنے آچکا ہے۔ پاکستان میں سیاستدانوں اور سیاسی حریفوں کو انتقام کا نشانہ بنانے، فلور کراسنگ، جوڑ توڑ اور سیاسی وفاداریاں خریدنے کی تاریخ پاکستان کی تاریخ کے ساتھ ساتھ چلتی ہے، اس سلسلے میں سب سے پہلے 1949ءمیں عوامی نمائندوں کی نااہلی کا قانون ”پروڈا“ منظر عام پر آیا، اس قانون کے تحت مرکزی یا صوبائی اسمبلیوں کے ارکان یا وزارءوغیرہ کے خلاف اختیارات سے تجاوز کرنے، اقرباپروری، ناجائز اثاثہ جات، بدعنوانی اور رشوت ستانی جیسے مقدمات قائم کیے گئے اور اس قانون کا نفاذ 14 اگست 1949 کے دن سے قرار دیا گیا، مذکورہ بالا الزامات کے تحت ایوب کھوڑو، پیر الٰہی بخش، حمید اسحق چودھری اور افتخار ممدوٹ وغیرہ کو سزائیں سنائی گئیں مذکورہ قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا ملزم کی 10 سال کے لیے کسی بھی عہدے کے لیے نااہلی مقرر کی گئی تھی، مذکورہ قانون کے نفاذ کے بعد حکومت کے سیاسی مخالفین شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے ، اس قانون کے تحت حکومت چند ایک سیاستدانوں کے سوا تمام کی وفاداریاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی، پروڈا کے بعد صدر ایوب کے دور میں پوڈو اور ایبڈو کے قوانین بنائے گئے ، جن کے تحت سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ بیورو کریٹس اور دیگر سرکاری افسروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا، یہ قانون سرکاری عہدوں پر رہنے والے افراد کے لیے موثر قرار دیا گیا تھا، اس قانون کے تحت حکومت نے اپنے سیاسی مخالفین کو سختی سے ساتھ کچل ڈالا، بہت سے افسران قابو میں آئے اور سیاستدانوں کی وفاداریاں خریدی گئیں، اس قانون کے تحت عوامی نمائندوں کو 6 سال کے لیے نااہل قرار دیا جا سکتا تھا، جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور حکومت میں اگر چہ پروڈا یا پوڈو ، ایبڈو نافذ العمل نہ تھے، تاہم جنرل ضیاءالحق نے پیپلزپارٹی اور اپنے دیگر سیاسی مخالفین کو سبق سکھانے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کیں، اور فوجی عدالتوں نے چن چن کر حکومت مخالف سیاستدانوں کو سزائیں دیں، جس سے بہت سے سیاستدانوں نے اپنی وفاداریاں بھی بدل ڈالیں،پھر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے بھی ”احتساب“ کے اس عمل کو جاری رکھا تاہم اس کی تکمیل سے قبل ہی 12 اکتوبر 1999ءکو جنرل پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا، اور سیاسی حریفوں، سیاستدانوں ، بیوروکریٹس اور وزرائ، امراءکے خلاف کرپش، بدعنوانی، اقرباپروری، ناجائز اثاثوں، آمدن سے زیادہ اخراجات اختیارات سے تجاوز کرنے اور رشوت لینے کے الزامات کے تحت ریفرنس بنائے گئے ، متعدد سیاستدانوں اور بیورکریٹس و نچلے درجے کے سرکاری ملازمین کو سزائیں سنائی گئیں، جس سے حکومت کے سیاسی مخالفین پریشان ہو گئے ، اور بہت سے نامور سیاستدان اپنی وفاداریاں بدل کر حکومت کے ساتھ شامل ہو گئے ، ایسے سیاستدان، ”نیب زدہ“ سیاستدانوں کے نام سے جانے جاتے تھے، ان میں ایسے سیاستدان بھی شامل ہیں جو صدر مشرف کی حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ 1949ءکے پروڈا قانون کے شروع ہونے والے اس سیاسی انتقام اور سیاسی مفاہمت کے کھیل میں اب تک پاکستان کے متعدد سیاستدانوں ، وزراءوزیراعلی اور وزیراعظم سزائیں پا چکے ہیں، ان میں نااہلی اور جرمانے کی سزاﺅں سے لے کر سزائے قید اور سزائے موت جیسی سزائیں شامل ہیں، مختلف ادوار میں سزا پانے والے سیاستدانوںمیں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 3 ستمبر 1977ءکو نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی اور 4 اپریل 1979ءکو علی الصبح بھٹو کو پھانسی دے دی گئی، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو کو احتساب عدالت نے 1.5 بلین ڈالر کے غیر قانونی اثاثے بیرون ملک منتقل کرنے پر دو سال قید با مشقت کی سزا سناتے ہوئے مستقل وارنٹ گرفتاری کا حکم دیاگیا۔سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹواور صدر مملکت، آصف علی زرداری بھی سزا یافتہ سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں،صدر آصف علی زرداری پر احتساب عدالت میں درجنوں ریفرنس دائر کیے گئے جن میں سے سب سے زیادہ مشہور ایس جی ایس ریفرنس ہوا، یہ ریفرنس 24 جنوری 1997ءکو احتساب سیل میں بھجوایا گیا، جس میں کہا گیا کہ بے نظیر اور ان کے شوہر آصف علی زرداری نے وزیراعظم کے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے پری شپمنٹ انسپکشن کنٹریکٹ 29 ستمبر 1997ءکو ایس جی ایس کمپنی کو دے دیا، ایس جی ایس نے 11 مارچ 1994ءکو بومر فنانس کمپنی کو 6 فیصد کمیشن دینے کا وعدہ کیا تھا .بومر فنانس کمپنی کے یونین بنک جنیوا کے اکاﺅنٹ نمبر 552743 میں کمیشن کی رقم جمع کرائی گئی، اپوزیشن لیڈر بے نظیر بھٹو کی اس اکاﺅنٹ پر مکمل رسائی حاصل تھی، انہوں نے ایک لاکھ سترہ ہزار پونڈ کے نیکلس کی خریداری کی ادائیگی کےلئے 92 ہزار پونڈ اس اکاﺅنٹ سے ادا کئے، ایس جی ایس کو پی ایس آئی کا ٹھیکہ دینے کے بعد 137.942 ملین ڈالر کی ادائیگی ہوئی بعد میں مزید 13 ملین ڈالرکا دعوی کیا گیا، یوں احتساب عدالت نے دونوں کو 86 لاکھ ڈالر کی ادائیگی اور پانچ پانچ سال قید، عوام کی نمائندگی سے نااہلی اور تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم سنایا، یہ احتساب ایکٹ کے تحت پہلا مقدمہ تھا ۔بے نظیر فیصلے سے قبل لندن چلی گئیں اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی تھی، بے نظیر بھٹو کی طرح سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج رحمت حسین جعفری نے 6 اپریل 2000 کوتعزیرات پاکستان کی دفعہ 402 بی کے تحت طیارہ ہائی جیکنگ کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قیداور جائیداد کی ضبطگی کی سزا سنائی،اسی طرح احتساب عدالت نے انہیںہیلی کاپٹر کیس میں 14 سال قید کاحکم سنایا، 12 اکتوبر کو نواز شریف پر چلائے جانے والے دو مقدموں کا فیصلہ ہواتھاکہ لیکن اچانک کہا گیا کہ ان کے اہل خانہ کی طرف سے رحم کی اپیل اور گرتی ہوئی صحت کے باعث انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دی جائے، 26 اکتوبر کو کراچی کی ایک جیل میں سعودی شہزادے کی پاکستانی شہزادے کو رہا کرانے کی کوششیں بار آور ثابت ہوئیں، اور نواز شریف ملک سے رخصت ہوگئے ، نواز شریف اور بے نظیر ہی کی طرح الطاف حسین بھی سزا یافتہ سیاستدان ہیں، انہیں پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے اور بھارت کے ساتھ تعلقات رکھنے کے الزام میں عدالت نے 9 ماہ قید بامشقت اور 5 کوڑوں کی سزا سنائی 23بلآخران کی جلاوطنی کی درخواست منظور کر لی گئی جس کے مطابق وہ زندگی بھر پاکستان نہیں آئیں گے، اسی طرح سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر کو ایک فوجی عدالت نے 23 مارچ 1974ءکو 260 کنال اراضی مسز نیلوفر شہزاد کھر کے نام منتقل کرانے کے جرم میں 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی، منظور احمد وٹو کو احتساب عدالت نے اپنے ایک ریفرنس میں غیر قانونی طور پر پلاٹ الاٹ کرنے پر اور دوسرے میں ایل ڈی اے کی مختلف سکیموں میں 110 پلاٹ اپنے رشتہ داروں کو غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے پر مجموعی طور پر 5 سال 8 ماہ قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ کا حکم سنایا، یہ گھپلے ان کی وزارت اعلیٰ کے دور کے آخر میں کیے گئے میاں منظور احمد وٹو کی طرح سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عارف نکئی کو بھی احتساب عدالت نے 1996ءکو 19 لاکھ روپے وزیراعلی صوابدیدی فنڈ سے نکلوانے اور اپنے خاندان کے 6 افراد کے ہمراہ عمرہ پر جانے کے جرم میں 21 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا، سردار عارف نکئی نے اپنا جرم قبول کر لیا اور کہا کہ غیر قانونی طور پر خرچ کی ہوئی رقم واپس کرنے کے لیے تیار ہوں، اسی طرح احتساب عدالت نے 31 اگست 2000ءکو گندم سکینڈل ریفرنس میں سابق وزیراعلیٰ مہتاب احمد خان کو چودہ سال قید سخت اور دو کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی اور 21 سال کے لیے کسی بھی عہدے کے لئے نااہل قرار دے دیا،سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاﺅ کو احتساب عدالت نے 22 جون 2000ءکو غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق ریفرنس میں اشتہاری اقرار دینے اور نیب کی درخواست پر تین سال قید با مشقت اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی جرمانہ ادا ہونے تک منقولااور غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا، 10 فروری 1995ءکو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کلاشنکوف برآمد ہونے پر رشید احمد کو سات سال قید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ سردار ذوالفقار کھوسہ کو لاہور ہائی کورٹ نے 26 جنوری 1997ءکو زرعی ترقیاتی بنک سے حاصل کردہ قرضوں سے متعلق حقائق چھپانے پر پی پی 201 سے الیکشن لڑنے کے لیے ااہل قرار دےدیا ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کو احتساب عدالت قلعہ اٹک نے چونگی ریفرنس میں قومی خزانے کو ساڑھے تین کروڑ نقصان پہنچانے کا الزام ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت 5 کروڑ روپے جرمانہ اور 21 سال کے لیے کسی بھی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا، احتساب عدالت نے 30 نومبر 2000ءکو ناجائز بھرتیوں کا الزام ثابت ہونے پر انور سیف اللہ کو ایک سال قید 50لاکھ جرمانہ اور 21 سال کیلئے نااہل قرار دے دیا، 17 نومبر 1991ءکو لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس راشد عزیز خان نے سابق وفاقی وزیر میاں غلام محمد احمد مانیکا کے خلاف بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر انہیں سات سال کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا احتساب عدالت اٹک نے سابق وفاقی وزیر مواصلات اور بیگم نسیم ولی خان کے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے امیر حیدر ہوتی کے والداعظم ہوتی کو موٹر وے ریفرنس میں بدعنوانی ثابت ہونے پر 14 سال قید اور 2 کروڑ روپے جرمانہ کی سزا سنائی، لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس گل محمد خان اور بریگیڈئیر مظفر میمن پر مشتمل ٹریبونل نے 5 اپریل 1978ءکو سابق وفاقی وزیر حفیظ اللہ چیمہ اور ایم پی اے ملک محمد اعظم کو سات سال کے لیے نااہل قرار دے دیا ان پر الزام تھا کہ انہوں نے لاہور ریلوے اسٹیشن کے ٹھیکہ میں جانبداری سے کام لیا، راولپنڈی احتساب عدالت نے سابق صوبائی وزیراعظم محمد سرمد خاں کاکڑ کو غیر قانونی کوٹہ حاصل کرنے کے ریفرنس میں تین کروڑ روپے جرمانہ اور 21 سال کے لیے نااہل قرار دے دیا، احتساب عدالت نے سابق صوبائی وزیر خوراک میر محمد علی رند کو ناجائز اثاثوں کے ریفرنس میں 9 سال قید اور 21 سال کے لیے نااہل قرار دے دیا، سپریم کورٹ نے 28 نومبر 1997ءکو احاطہ عدالت میں داخل ہو کر سپریم کورٹ پرحملہ کرنے کے مقدمہ میں فیصلہ سناتے ہوئے 29 ستمبر 2000ءکو مسلم لیگ کے پارلیمنٹیرین فارق عزیز نے میاں محمد منیر، چودھری تنویر، احمد خان، اختر رسول، اختر محمود ایڈووکیٹ، سردار محمد نسیم اور شہباز گوشی کو توہین عدالت کے جرم میں ایک ایک ماہ قید اور 5، 5 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی، احتساب عدالت راولپنڈی نے 12 اپریل 2004ءکو حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کے ریفرنس میں مسلم لیگ ن کے رہنما مخدوم جاوید ہاشمی کو مجموعی طور پر 23 سال قید اور 42 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی، یہ سزا الگ الگ دفعات کے تحت سنائی گئی، احتساب عدالت راولپنڈی نے اکتوبر 2002ءمیں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے ریفرنس میں الزام ثابت ہونے پر قومی اسمبلی کے سابق سپیکر پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی کو 5 سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی، لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس گل محمد خان اور بریگیڈیئر مظفر حسین خاں پر مشتمل خصوصی ٹریبونل نے 2 مئی 1978ءکو سابق صوبائی وزیر خالد ملک کو فنڈز کے ناجائز استعمال کے الزام میں جرم ثابت ہونے پر سات سال کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا، اینٹی کرپشن کے سپیشل جج نے 18 اکتوبر 1977ءکو سابق صوبائی وزیر میاں افتخار احمد تاری کو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 2 سال قید اور 70 ہزار روپے جرمانے کا حکم سنایا، 22 اکتوبر 1977ءکو اینٹی کرپشن کے سپیشل جج نے سابق وزیراعلیٰ حنیف رامے کے مشیر راجہ منور احمد کو بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوز کرنے کے چار مقدمات میں مجموعی طور پر 6 سال قید اور 20 ہزار روپے جرمانہ کا حکم سنایا، لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سلیم مظہر اور بریگیڈئیر محمد شریف پر مشتمل ٹریبونل نے 29 اپریل 1978ءکو سابق وزیراعظم معراج خالد کو اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزام میں جرم ثابت ہونے پر 7 سال کے لیے نااہل قرار دے دیا، 10جنوری 1975 ءکو دادو کی ایک عدالت نے سابق وزیر مملکت ملک معراج محمد خان کو حکومت مخالف تقاریر کرنے کے جرم میں 4 سال قید کا حکم سنایا، 30 اکتوبر 1975ءکو سپریم کورٹ میں نیب کے رہنما خان عبدالولی خان کو غداری کے جرم میں 2 سال قید کا حکم سنایا، 13 اکتوبر 1962ءکو فوجی عدالت نے حکومت مخالف تقاریر کرنے کے جرم میں پاکستان مسلم لیگ کے صدر خان عبدالقیوم خاں کو 3 سال قید کا حکم ایبڈو کے قانون کے تحت سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کو اختیاات سے تجاوزات کے الزام میں 9ماہ تک قید میں رکھا گیا، سابق وزیراعلی سندھ پیر الٰہی بخش کو اقرباپروری رشوت ستانی اور مجرموں کو پناہ دینے کے الزامات میں نااہلی قرار دے دیا گیا تھا، 1974ءکے پروڈا قانون کے تحت سابق وزیراعلی سندھ ایوب کھوڑو کو 2سال قید اور نااہل قرار دے دیا گیا ان کے خلاف رشوت ستانی اور فرائض کی ادائیگی میں غفلت برتنے جیسے الزامات تھے، 11 مئی کو فوجی عدالت نے ”قادیانی مسئلہ“ لکھنے پر مولانا مودودی کو سزائے موت سنا دی تھی، مئی 1953ءکو مولانا عبدالستار نیازی کو بھی سزائے موت سنا دی گئی تھی۔اگرچہ نواز شریف ،جاوید ھاشمی ، بے نظربھٹو ، صدر آصف علی زرداری سمیت متذکرہ بالا بہت سے سیاستدانوں کو دی جانے والی سزائیں اعلیٰ عدالتوں نے ختم کردیں۔لیکن ان رہنماﺅں کو دی جانے والی سزائیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان میں سیاست کا سفر آسان نہیں ہے۔

سیاستدان کارروائی

مزید : الیکشن ۲۰۱۳