ہمار ی حکومت نے وزیر اعلیٰ ہاﺅس کا کروڑوں کا سیکرٹ فنڈ ایک پائی خرچ کئے بغیرواپس کردیا ‘ شہباز شریف

ہمار ی حکومت نے وزیر اعلیٰ ہاﺅس کا کروڑوں کا سیکرٹ فنڈ ایک پائی خرچ کئے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور( این این آئی)سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی پنجاب اور مرکز کی سطح پر کامیابیاں عوام میں ہماری مقبولیت کی ضامن ہیں اور ہمیں اپنے مخالفین کے برعکس عوام کے پاس خالی وعدے اور جھوٹے وعدے لیکر جانے کی ضرورت نہیں‘ہماری پنجاب حکومت کے میگا پراجیکٹ کی طرح آئندہ انتخابات کے لیے میڈیا پالیسی بھی شفافیت پر مبنی ہو گی۔ وہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں میڈیا سیل کے اراکین سے خطاب کر رہے تھے۔محمد شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے اپنی ٹکٹوں کی تقسیم کے لئے ہونے والے پارٹی اجلاسوں میں میڈیا کے نمائندوں کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا پیغام عوام تک پہنچاتے ہوئے ہمارے کسی کارکن کو صداقت، دیانت اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اہل صحافت مجموعی طور پر پرامن اور شفاف الیکشن کے انعقاد میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن ان میں شامل” بعض کرائے کے ٹٹو“ اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کی مقبول ترین جماعت کی قیادت پر تواتر کے ساتھ بے بنیاد الزامات کی شکل میں کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کے خلاف اس مذموم مہم کے ڈانڈے سیکرٹ فنڈ کی ان بھاری رقوم سے ملتے ہیں جو پیپلز پارٹی نے وزارت اطلاعات کے ذریعے اس مقصد کے لیے تقسیم کی تھیں اور جن کا گزشتہ روز عدالت عظمیٰ نے سختی سے نوٹس لیا ہے۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت کویہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس نے وزیراعلیٰ ہاﺅس کاکروڑوں روپے کا سیکرٹ فنڈ ایک پائی خرچ کئے بغیر سرکاری خزانے کو واپس کر دیا تھا۔ محمد شہباز شریف نے کہا کہ نوجوان بڑی تعداد مسلم لیگ (ن) کو سوشل میڈیا میں کام کرنے کے لیے اپنی رضا کارانہ خدمات پیش کر رہے ہیں۔ یہ امر نوجوان طبقے میں میاں محمد نواز شریف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی دلیل ہے۔ اجلاس میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک نئی سیاسی جماعت کے حامیوں کی طرف سے انٹرنیٹ اور فیس بک پر ناشائستہ تبصروں اور دشنام طرازی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے جس پر محمد شہباز شریف نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے مگر اس کے باوجود ہمیں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے تہذیب اور شائستگی سے کام لینا چاہیے اور اپنی عظیم روایات کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔

مزید :

صفحہ اول -