ججز نظر بندی کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے مشرف کی عبوری ضمانت میں چھ روز کی توسیع کردی

ججز نظر بندی کیس ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے مشرف کی عبوری ضمانت میں چھ روز کی ...

ا سلام آباد(این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز نظر بندی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی عبوری ضمانت میں چھ روز کی توسیع کرتے ہوئے پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے ¾سابق صدر18 اپریل کو دوبارہ پیش ہوں گے جبکہ عدالت نے تاخیر سے پہنچنے پر سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین مرتبہ پرویزمشرف کے کیس کی کال ہو چکی ہے ¾مزید انتظار نہیں کر سکتے ۔ جمعہ کو سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف ججز نظر بندی کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کی ۔ ججز نظر بندی کیس میں ضمانت کیلئے سابق صدر کو صبح نو بجے عدالت میں پیش ہونا تھا تاہم وہ تاخیر سے پہنچے جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہاکہ تین مرتبہ مشرف کے کیس کی کال ہو چکی ہے ان کا مزید انتظار نہیں کر سکتے جس پر سابق صدر کے وکیل قمر افضل ایڈووکیٹ نے کہاکہ سیکیورٹی خدشات کے باعث ان کے موکل تھوڑی تاخیر کا شکار ہوئے۔ سابق صدر عدالت پہنچے تو چائے کا وقفہ کردیا گیا اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کمرہ عدالت سے اٹھ کر چلے گئے جس کے باعث پرویز مشرف کو پچیس منٹ تک اپنی گاڑی میں انتظار کرنا پڑا۔ چائے کا وقفہ ختم ہوا تو سابق صدر اپنی گاڑی سے اتر کر کمرہ عدالت میں پہنچے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے سابق صدر کی اٹھارہ اپریل تک عبوری ضمانت میں توسیع کی منظوری دیدی اور انہیں پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پرویز مشرف نے پہلے سیشن کورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا جس پر جواب میں پرویز مشرف نے کہا کہ ہائیکورٹ کے پاس زیادہ اختیارات ہیں اسی لئے ہم ہائیکورٹ آئے ہیں اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پرویز مشرف کو دوران تفتیش مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائےگی۔ پرویز مشرف کی آمد سے قبل جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ عدالت کا تقدس ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔ سابق صدر کی آمد کے موقع پر وکلاءنے سخت احتجاج کیا اور کمرہ عدالت میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے وکلا کو روک لیا، سابق صدر کی اسلام آباد ہائیکورٹ آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے۔ پولیس اور رینجرز کے ساتھ ساتھ کمانڈوز کو بھی تعینات کیا گیا تھا جبکہ کمرہ عدالت میں موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو باہر نکال دیا گیا تھا۔ سابق صدر کو حاضر صدر مملکت اور آرمی چیف کی سیکیورٹی دی گئی اور ہیلی کاپٹرز سے اسلام آباد ہائیکورٹ کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی ¾ سابق صدر کی آمد پر ہائیکورٹ کی عمارت کے باہر آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکن اور مخالف وکلا نے نعرے بازی کی ۔ واضح رہے کہ سابق صدر کے خلاف اگست 2009ءمیں اسلم گھمن ایڈووکیٹ نے بائیس اے کی درخواست دی تھی جس پر پرویز مشرف خلاف اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹریٹ میں دفعہ 44 اور 344 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تاہم مشرف بیرون ملک چلے گئے تھے -

مزید : صفحہ اول