62,63عملدرآمد کیس500امید وارنادہندہ 10ہزا ر ٹیکس نہیںدیتے ،سٹیٹ بنک نے لاہو ر ہائیکورٹ کو آگاہ کردیا

62,63عملدرآمد کیس500امید وارنادہندہ 10ہزا ر ٹیکس نہیںدیتے ،سٹیٹ بنک نے لاہو ر ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی) قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے قریباً سبھی امیدوار اگرچہ رسمی کارروائی کے طور پر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کا مرحلہ کامیابی سے طے کرنے کے بعد بظاہر مطمئن نظر آتے ہیں اس کے باوجود نادہندہ ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گنجائش موجود ہے، یہ گنجائش لاہور ہائی کورٹ کی اس ہدایت سے واضح ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نادہندگان کے کوائف الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کئے جائیں تاکہ سکروٹنگ میں بچ نکلنے میں کامیاب ہونے والوں پر چیک رکھا جاسکے۔آئین کے آرٹیکل 63،62پرعمل درآمد کیس کی سماعت کے موقع پر سٹیٹ بینک کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ 500 سے زائد امیدواراور ان کے اہلخانہ نادہندہ ہیں اور ان کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوادی گئی ہے۔ عدالت نے واسا،پی ٹی سی ایل اور واپڈا سے نادہندہ افراد کی فہرست پیر کے روز طلب کرلی ۔لاہورہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر ایف بی آر نے بتایا کہ 24ہزار امیدواروں میں سے10ہزار امیدواروں کے نیشنل ٹیکس نمبر ہی نہیں ہیں۔ اثاثوں سے متعلق اسٹیٹ بنک نے امیدواروں کا ڈیٹا دینے سے انکار کردیا تھاتاہم اس کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیاگیاکہ نادہندہ امیدواروں کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوادی ہے اور ریکارڈ کے مطابق500سے زائد امیدوار اور ان کے اہل خانہ نادہندہ ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ ان درخواستوں کی سماعت سے الیکشن موخر ہونگے ،الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں۔سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے بعد نادہندہ افراد سے 7ارب روپے کی ریکوری ہوئی ۔فاضل بنچ نے کیس کی سماعت سوموارتک ملتوی کردی۔ ثناءنیوز کے مطابق عدالت نے قرار دیا کہ انتخابات وقت پر ہوں گے انہیں کوئی روک نہیں سکتا جسٹس اعجاز الاحسن نے ہدایت کی کہ نادہندہ امیدواروں کے کوائف الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کئے جائیں تاکہ اگر کوئی امیدوار الیکشن کمیشن کی سکروٹنگ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجائے تو بھی اس پر چیک رکھا جاسکے۔ اس موقع پر ایف بی آر کے نمائندہ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ امیدواروں کے اثاثوں سے متعلق معلومات ایف بی آر کے پاس دستیاب نہیں ہیں کیونکہ بینکوں نے امیدواروں کے اکاﺅنٹس کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔ ایف بی آر کے پاس صرف این ٹی این ہیں، 10754امیدواروں کے این ٹی این بھی ایف بی آر کو فراہم نہیں کئے گئے جبکہ سٹیٹ بینک کے نمائندہ نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ نادہندہ امیدواروں اور ان کے اہلخانہ کی فہرست الیکشن کمیشن کو بھجوادی گئی ہے جن کی تعداد 500 سے زائد ہے۔ عدالت عالیہ نے ہدایت کی کہ تمام نادہندہ امیدواروں کے کوائف کی تفصیلات الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کی جائیں۔

مزید : صفحہ اول