بریکنگ نیوز کا قحط

بریکنگ نیوز کا قحط
بریکنگ نیوز کا قحط

  

پچھلے دنوں ہمارا پیارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پریشان کہ دھرنے ختم ہوئے،تحقیقاتی کمیشن بھی بن گیا، دہشت گردی میں جان باقی بچی نہ دہشت گردوں میں، کچھ واصلِ جہنم ہوئے اور بچے کھچے کونوں کھدروں میں۔ سعودی عرب اوریمن کی جنگ میں بھی کوئی کشش نہیں کہ حکومت، اپوزیشن اورفوج ایک صفحے پر، یک زبان ،متفقہ قرارداد بھی آ چکی۔ اِن حالات میں الیکٹرانک میڈیا ’’بریکنگ نیوز‘‘کو ترساہوااورگزارا ایسی بریکنگ نیوز پر کہ سائیکل فُٹ پاتھ سے ٹکرا گیا یا بھینس نے چہل قدمی کرتے ہوئے فیروز پور روڈ بند کر دی۔اُن دنوں الیکٹرانک میڈیا کی حیرانی وپریشانی دیدنی تھی، لیکن اللہ بھلاکرے کپتان صاحب کا، جنہوں نے ’’جھپٹنا ، پلٹنا،پلٹ کر جھپٹنا‘‘کی عملی تصویر بنتے ہوئے اپنی توپوں کا رُخ ایم کیو ایم کی طرف موڑتے ہوئے کراچی کے حلقہ 246 کے ضمنی انتخاب میں حصّہ لینے کا ’’کھڑاک‘‘ کر دیا، جس پرایم کیوایم بڑی چیں بچیں ہوئی، کیونکہ اِسی حلقے میں ’’نائن زیرو‘‘ بھی ہے ۔شروع میں تو ایم کیو ایم کو یہی محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بیرونی طاقت اُن کی سلطنت پر حملہ آور ہو گئی ہو۔ اِسی لئے ایم کیو ایم کا ردعمل بھی بہت سخت تھا، لیکن پھر حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے الطاف بھائی نے اپنے کارکنوں کو تحریک انصاف کی ریلی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے اور ایم کیو ایم کی ساری قیادت کو کپتان صاحب کا استقبال کرنے کا حکم صادر فرما دیا۔

الیکٹرانک میڈیا نے یہ جانا کہ جیسے حلقہ 246 کا نام ہی پاکستان ہے اور واحد لیڈر عمران خاں یا پھر اُن کی اہلیہ ،مستقبل کی ’’خاتونِ اوّل‘‘ ریحام خاں۔ بریکنگ نیوز پہ بریکنگ نیوزچلتی رہیں اور الیکٹرانک میڈیا قوم کو یہ ’’مفید‘‘ اطلاعات پہنچا کر نہال ہوتا رہا کہ خاں صاحب کراچی جانے کے لئے بنی گالا سے باہر نکل آئے ،گاڑی کے پاس پہنچے ،گاڑی کا دروازہ کھلا،خاں صاحب اندر بیٹھ گئے ،ریحام خاں نے رخصت کیا۔۔۔ ایئرپورٹ پہنچ گئے ، گاڑی کا دروازہ کھلا ، خاں صاحب نے ایک قدم باہر نکالا اور وہ دوسرا قدم بھی باہر نکل آیا، خراماں خراماں خصوصی طیارے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے ،جہاز کا دروازہ بند ہوا اور خاں صاحب پرواز کر گئے ۔یہی پریکٹس ریحام خاں کے کراچی جانے پر بھی دہرائی گئی اور کراچی میں خاں صاحب اور ریحام خاں کی مصروفیات کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹس تو اتنی زیادہ کہ لکھنے کے لئے کئی سو صفحات درکار۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میڈیا کی سوئی عمران خاں اور ریحام خاں پر اٹک گئی ہو۔

انتہائی افسوسناک امر یہ کہ الیکٹرانک میڈیا بے نیل و مرام، کہیں لاٹھی چلی نہ گولی ،اگرایسا ہو جاتا تو ہمارے میڈیا کی چاندی ہو جاتی۔ ریحام خاں نے سارا کریڈٹ کپتان صاحب کو دے دیا۔انہوں نے کہا ’’جب عمران خاں نے کہا، بس بہت ہو چکا، ہم یہ غنڈا گردی کب تک برداشت کریں گے ،تب لہجوں میں تبدیلی آئی‘‘۔ مستقبل کی ’’خاتونِ اول ‘‘شاید نہیں جانتی کہ ایم کیو ایم تو پہلے ہی رینجرز کے ہاتھوں ’’وَخت‘‘ میں پڑی اپنا وجود بچانے کے لئے اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مار رہی ہے ۔اِن حالات میں وہ کوئی نیا محاذ کھولنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔اسی لئے تو فاروق ستار نے کہہ دیا ’’ہمارے پاس ڈنڈا ہے نہ انڈا اور نہ ہی ٹماٹر‘‘۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر خاں صاحب کی دھمکیاں؟۔۔۔چہ پِدّی ، چہ پِدی کا شوربہ ۔یہ وہی حلقہ ہے، جس میں2013ء کے انتخابات کے موقعے پر تحریک انصاف کو کوئی پولنگ ایجنٹ بھی میسرنہ تھا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ اب کسی کا ’’دستِ شفقت‘‘ہو جس نے خاں صاحب کو سینہ تان کرایم کیو ایم کے گھر میں گھسنے پہ قائل اور مائل کیا؟ کیا قوم ایک بار پھرکسی ’’امپائر‘‘کی انگلی کھڑی ہونے کا انتظار کرے؟

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خاں صاحب نے انکشاف کیا کہ ’’آدھے‘‘ مہاجر وہ بھی ہیں، کیونکہ اُن کی والدہ بھی ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آئی تھیں۔ دَرجوابِ آں غزل ،محترم الطاف حسین نے فرمایا کہ عمران خاںآدھے نہیں ’’پورے‘‘ مہاجر ہیں ۔پہلے ہم دونوں پاکستانی تھے ،اب ’’مہاجر‘‘ اِس لئے بھائی بھائی ہیں۔ اُنہوں نے کہا ’’خاں صاحب نائن زیرو آئیں اور بھابھی ریحام خاں کو بھی ساتھ لائیں ،ہم اُن کی دعوت کریں گے اور بھابی کو تحفے بھی دیں گے ‘‘۔ریحام خاں نے تو یہ کہہ کر نائن زیرو جانے سے صاف انکار کر دیا کہ وہ کسی ’’غیر ملکی‘‘ کی دعوتِ قبول نہیں کر سکتیں، لیکن گئے عمران خاں بھی نہیں اور یوں نائن زیرو پر کئے جانے والے سارے انتظامات دھرے کے دھرے رہ گئے ۔اب الطاف بھائی نے حکم دیا ہے کہ خریدے گئے تحائف خاں صاحب تک پہنچائے جائیں اور اگر وہ وصول کرنے سے انکار کر دیں تو بنی گالا کی سیڑھیوں پر رکھ کر لوٹ آئیں۔ کراچی سے تو خاں صاحب تحائف وصول کئے بغیر ہی واپس آ گئے، لیکن آخری خبریں آنے تک اُنہوں نے اِس سے ہر گز انکار نہیں کیاکہ وہ بطور مہاجر الطاف حسین کے بھائی نہیں۔

اب جبکہ دونوں بھائی بھائی بن ہی چکے تو بہتر ہے کہ خاں صاحب کو بھی ’’عمران بھائی‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جائے البتہ ریحام خاں کو احتیاط برتنی ہو گی، کیونکہ اگر انہوں نے بھی ’’روا روی‘‘میں خاں صاحب کو ’’عمران بھائی‘‘ کہہ دیا تو مولانا فضل الرحمن ٹھک سے فتویٰ جاری کر دیں گے کہ ’’حلالہ‘‘ واجب ہو گیا۔ پارلیمنٹ میں واپسی پر ایک ’’حلالہ‘‘ تو تحریک انصاف پر پہلے ہی واجب ہوا پڑا ہے اور سبھی مولوی و غیر مولوی ،مفتی و غیر مفتی شور مچا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کے مستعفی اراکین پارلیمنٹ حلالہ دیتے ہوئے اسمبلیوں کے الیکشن دوبارہ لڑیں۔ شرعی حلالے کا تو ہمیں کچھ کچھ ادراک ہے، لیکن سیاسی حلالے کے بارے میں ہمارا علم ناقص۔ اگر مولانافضل الرحمن سے رجوع کریں تو ہمیں ڈر ہے کہ وہ تو یہی کہیں گے کہ تحریک انصاف کے اراکین پہلے کسی دوسرے ملک کی اسمبلی کا الیکشن لڑیں ،پھر وہاں سے مستعفی ہو کر پاکستان آئیں اور الیکشن لڑیں تو تبھی حلالے کی شرائط پوری ہوتی ہیں البتہ اگر محترم سراج الحق صاحب سے فتویٰ لیا جائے تو وہ کہیں گے کہ کسی ’’حلالے ولالے‘‘ کی ضرورت نہیں۔ ہمیں تو تحریک انصاف کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اُس نے اسمبلیوں میں’’ قدم رنجہ‘‘ فرما کر جمہوریت بچا لی۔

ہمارے محترم سراج الحق بھی ’’بھولے بادشاہ‘‘ ہیں۔ ’’پیوستہ رہ شجرسے ، اُمیدِ بہار رکھ‘‘ کے قائل محترم سراج الحق اب بھی خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف سے جُڑے بیٹھے ہیں اور پروگرام یہی کہ بلدیاتی الیکشن بھی ایک ہی پلیٹ فارم سے لڑیں گے، لیکن ہم سمجھتے ہیں اُن کے ہاتھ ’’کَکھ‘‘ نہیں آنے والا، کیونکہ تحریک انصاف ’’سیاسی ریوڑیاں‘‘ آپس میں ہی بانٹ کھائے گی۔ہمارے’’ارسطوانہ تجزیے ‘‘کی بنیادیہ ہے کہ اگرتحریک انصاف مخلص ہوتی تو پھرکراچی میں جماعتِ اسلامی کامطالبہ تسلیم کرتے ہوئے اپنااُمیدوار اُس کے حق میں دست بردار کروادیتی ۔سبھی جانتے ہیں کہ کراچی میں جماعت اسلامی کی کوششوں ،کاوشوں اور قربانیوں کی ایک تاریخ ہے اوربدترین حالات میں بھی اِس منظم جماعت کااچھّا خاصہ حلقۂ اثرموجود رہاہے ۔آج بھی متحدہ قومی موومنٹ کواصل خطرہ تحریک انصاف سے نہیں ،جماعت اسلامی سے ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایم کیوایم نے جماعت اسلامی کی انتخابی ریلیوں پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔ اِن حالات میں ایم کیوایم کی ’’غُنڈہ گردی‘‘ کا مل کرمقابلہ کرنے سے ہی بہترنتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔یہ عین حقیقت ہے کہ ایم کیوایم کے گھر (حلقہ 246)سے اُسے شکست دینافی الحال ممکن نہیں، لیکن اگرمقابلہ کرناہی ٹھہرگیا توپھر تحقیق کہ ہرلحاظ سے جماعت اسلامی کاحق ہی فائق ہے۔

مزید :

کالم -