بجٹ سازی میں نجی شعبہ کی سفارشات کو شامل کیا جائے گا ، وزیر خزانہ

بجٹ سازی میں نجی شعبہ کی سفارشات کو شامل کیا جائے گا ، وزیر خزانہ

  



 کراچی(اکنامک رپورٹر)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ بجٹ سازی میں نجی شعبہ کی سفارشات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے بعد قابل عمل سفارشات کو شامل کیا جائے گا تاکہ اقتصادی ترقی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ حکومت ایف پی سی سی آئی، دیگر چیمبروں اور تجارتی تنظیموں کی تجاویز کو قدر کی نظر سے دیکھتی ہے اور ان پر ممکنہ حد تک عمل کیا جاتا ہے۔نجی شعبہ کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کے بغیر ملکی ترقی کا خواب پورا نہیں ہو گا۔ یہ بات وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرؤف عالم کی قیادت میں آنے والے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پروزیر اعظم کے مشیر ہارون اختر خان، چئیرمین ایف بی آر نثار محمد خان، ممبران ایف بی آر رحمت اللہ وزیر، ڈاکٹر محمد ارشاد اور ناصر مسعود بھی موجود تھے۔ چار گھنٹے کی میٹنگ کے دوران ایف پی سی سی آئی کے وفد نے موجودہ حکومت کے دوران ٹیکس کی شرح میں 19.7 فیصد اضافہ کی تعریف کی اور سیلز ٹیکس انکم ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے نظام میں بہتری کیلئے قابل عمل سفارشات پیش کیں۔ اسکے علاوہ نئی صنعتوں کے قیام کیلئے مراعات کا مطالبہ بھی کیا گیا تاکہ بے روزگاری کم ہو اور حکومت کی آمدنی بڑھ سکے۔ایف پی سی سی آئی کے وفد نے سال رواں کا ریونیو ہدف حاصل کرنے میں ایف پی آر سے ہر ممکن تعاون کا یقین بھی دلایا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ اقتصادی ترقی حکومت کا ایجنڈا ہے جس کو یقینی بنانے میں کاروباری برادری کا کردار اہم ہے جس کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ خالد تواب، سی ای او ٹڈاپ ایس ایم منیر، یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چئیرمین افتخار علی ملک، ظفر بختاوری، زبیر طفیل ، گلزار فیروز،شکیل ڈھینگڑا اور ملک سہیل شامل تھے۔

مزید : کامرس