اسرائیلی وزیراعظم کا شام میں فضائی کارروائیوں کا اعتراف

اسرائیلی وزیراعظم کا شام میں فضائی کارروائیوں کا اعتراف

  



مقبوضہ بیت المقدس(آن لائن)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے باضابطہ طور پر اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شام کے اندر دسیوں فضائی حملے کیے ہیں جن میں مبینہ طور پر لبنانی دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے اسلحہ بردار گاڑیوں کے قافلوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل ایک جانب شام کے تنازع میں خود کو غیر جانب دار قرار دینے کا دعویٰ کرتا ہے تاہم دوسری جانب شام میں فضائی آپریشن میں بھی مسلسل شامل ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ شام میں ان کی فوج کا ہدف حزب اللہ کے جنگجو اور تنظیم کے اسلحہ سے لدے کنٹینر ہیں جو حزب اللہ کو ایران اور دوسرے ملکوں سے فراہم کیے جاتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہماری فوج کی فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں حزب اللہ کی جانب سے حملوں کی کئی کوششیں ناکام بنائی گئی ہیں۔وادی گولان میں فوجی کیمپوں کے دورے کے دوران ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ ’ہم جب بھی مناسب سمجھتے ہیں شام میں حزب اللہ کے اسلحہ بردار ٹرکوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ ہماری کارروائیوں کا مقصد حزب اللہ کو ایران کی طرف سیملنے والے اسلحے کو اس کے استعمال سے قبل ہی تباہ کرنا ہے تاکہ حزب اللہ بھاری ہتھیاروں کو اسرائیل کے خلاف استعمال نہ کرسکے۔اسرائیلی وزیراعظم نے شام میں فضائی حملوں اور ان کے اہداف کا تذکرہ کیا تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا یہ حملے کب کیے گئیتھے اور ان کی نوعیت کیا تھی۔رواں سال فروری میں شام میں جنگجو گروپوں اور شامی فوج کیدرمیان عارضی جنگ بندی کے معاہدے کو اسرائیل نے بھی سراہا تھا تاہم تل ابیب کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے کا خطرہ ہوا تو ہماری فوج فوری کارروائی کرے گی۔پچھلے سال جب روس نے شام میں فوجی مداخلت کا آغاز کیا تو اسرائیل نے ماسکو سے اس بات کی ضمانت لی تھی کہ روسی فوج کے انخلاء کے بعد حزب اللہ اور ایران شام کے تنازع سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔

مزید : عالمی منظر


loading...