سیشن کورٹ ، ریکارڈ روم میں کیسوں کی تعداد بڑھنے سے ہاؤس فل کا بورڈ چسپاں

سیشن کورٹ ، ریکارڈ روم میں کیسوں کی تعداد بڑھنے سے ہاؤس فل کا بورڈ چسپاں

  



 لاہور(نامہ نگار)سیشن کورٹ کے ریکارڈ روم میں کیسوں کی تعداد حد سے تجاوز کر گئی، 178سال پرانے ریکارڈ روم میں گنجائش نہ ہونے کے باعث انچارج نے "ہاؤس فل "کا نوٹس چسپاں کر دیا،تفصیلات کے مطابق سیشن کورٹ میں 55 کے قریب ایڈیشنل جج کام کر رہے ہیں جن کی عدالتوں سے 5 سے 10 مقدمات فیصلے کے بعد ریکارڈ روم بھجوائے جا رہے ہیں۔ سیشن کورٹ میں دو ریکارڈ روم ہیں جہاں 1838ء سے لے کر 2016ء تک کے کیس داخل دفتر ہیں۔ ریکارڈ روم مکمل طور پر بھر چکے ہیں جہاں مزید ریکارڈ رکھنے کی گنجائش نہیں جو کیس وہاں موجود ہیں ان کو فرش، کھڑکیوں اور برآمدوں میں ڈال رکھا ہے۔ ریکارڈروم کے انچارج نے ‘‘ہاؤس فل’’ کا نوٹس چسپاں کر دیا ہے۔ جس پر تحریر ہے کہ کیس رکھنے کی گنجائش نہیں، فائلز کونہ بھجوایاجائے۔ اس صورتحال کے بعد ریکارڈ کو عدالتی اہلکاروں کی الماریوں میں رکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے وکلاء کا کہنا ہے کہ فیصلوں کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کیلئے نئے ریکارڈروم بنائے جائیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...