سب پرانا سکرپٹ ہے۔ ذرا غور سے دیکھیں؟

سب پرانا سکرپٹ ہے۔ ذرا غور سے دیکھیں؟
 سب پرانا سکرپٹ ہے۔ ذرا غور سے دیکھیں؟

  



ویسے تو وزیر اعظم میاں نواز شریف ایک مرتبہ پھر عمران خان اور ان کے تھرڈ ایمپائر کے اعصاب سے کھیل رہے ہیں۔ وہ کسی نئی حکمت عملی پر عمل نہیں کر رہے، بلکہ جس طرح عمران خان اور تھرڈ ایمپائر پران کا سکرپٹ ہی دھرانے کے موڈ میں ہیں۔ میاں نواز شریف بھی پرانی حکمت عملی کو ہی دھرانے پر یکسو ہیں۔ ہ لندن جا رہے ہیں۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ وہ سابق صدر آصف زرداری کو ملیں گے۔ یہ ایک ایسی ملاقات ہو گی جو ہو گی بھی اور نہیں بھی ہو گی۔ یہی اس کی خوبصورتی ہو گی۔ جیسے گزشتہ دھرنے سے قبل لندن میں عمران خان اور طاہر القادری کی ملاقات ہوئی بھی تھی اور نہیں بھی ہوئی تھی۔

یاد کیجئے ۔ کیونکہ ہماری قوم کو یاد داشت کا ہی مسئلہ ہے۔ گزشتہ دھرنے سے پہلے کے دن یاد کیجئے۔ عمران خان اسی طرح دھاندلی کے خلاف الٹی میٹم پر الٹی میٹم دے رہے تھے۔ شرائط پر شرائط ہی تھیں۔ دھرنوں کی باز گشت تھی۔ ماحول گرم تھا۔ بلکہ ماحول کی گرمی روز بروز بڑھ رہی تھی۔ لیکن تب بھی پیپلزپارٹی جمہوریت کے ساتھ کھڑی تھی۔ بلکہ دیگر پارلیمانی جماعتیں بھی جمہوریت کے ساتھ ہی کھڑی تھیں۔ دیکھیں آج بھی کچھ ایسا ہی ماحول ہے۔عمران خان نے پھر الٹی میٹم دے دیا ہے۔ پھر دھرنوں کی باز گشت ہے۔ ماحول پھر روز بروزگرم ہو رہا ہے۔ لیکن آج بھی پیپلزپارٹی ماضی کی طرح وزیر اعظم کے استعفیٰ کے معاملے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔ ماضی میں بھی پیپلزپارٹی وزیر اعظم کے استعفیٰ سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔ بات ایک کمیشن پر طے ہو گی جس کو پارلیمنٹ کی توثیق حاصل ہو گی۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر دورہ لندن کامیاب رہا تو کمیشن آئینی بھی ہو سکتا ہے۔ مسئلہ دو تہائی کا ہے تا کہ تحفظ مل سکے۔

جہاں تک سوال ہے کہ پیپلزپارٹی کا رویہ ماضی کی نسبت جارحانہ ہے۔ تو اس کی ایک فطری وجہ ہے۔ پیپلزپارٹی کے اندر یہ رائے موجود ہے کہ پیپلزپارٹی پر کرپشن کا دھبہ لگانے میں مسلم لیگ (ن) اور شریف برادران کا بنیادی کردار ہے۔ شریف برادران اور مسلم لیگ (ن) کی دیگر مرکزی قیادت نے آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کو کرپٹ ثابت کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے پیپلزپارٹی کا یہ خیال ہے کہ اب حساب واپس چکانے کا وقت آگیا ہے۔ کرپشن کا داغ واپس کرنے کا وقت آگیا ہے۔ بڑی مشکل سے میاں نواز شریف پھنسے ہیں اب انہیں نکلنے نہ دیا جائے۔ جس طرح کرپشن سکینڈلز نے پیپلزپارٹی کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا یا ہے۔ اس طرح اب میاں نواز شریف کی سیاست کو بھی نقصان پہنچا یا جا سکتا ہے۔ ان کا ووٹ بنک ختم کیا جا سکتا ہے۔

لیکن شائد تحریک انصاف اس ساری صورتحال کے حوالہ سے کسی خوش فہمی کا شکار ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف کا کیمپ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ پیپلزپارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے۔ حالانکہ پیپلزپارٹی پانامہ کے مسئلہ کو میاں نواز شریف کی سیاسی ساکھ کو خراب کرنے اور اس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے لئے تو استعمال کرے گی لیکن اس سے آگے نہیں جائے گی۔ جہاں پیپلزپارٹی سمجھے گی کہ معاملہ دوسری طرف جا رہا ہے۔ وہ رخ بدل لے گی۔

گزشتہ دھرنے سے پہلے بھی میاں نواز شریف نے قوم ے خطاب میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ لیکن اس اعلان کے بعد چونکہ دھرنا نہیں رکا تھا۔ دھرنا ہوا تھا۔ اس لئے جوڈیشل کمیشن بھی روک دیا گیا۔ جب دھرنا اپنی موت مر گیا تو جیوڈیشل کمیشن بھی بن گیا۔ اور اس کا فیصلہ بھی میاں نواز شریف کے حق میںآگیا۔ا س دفعہ بھی میاں نواز شریف نے کسی بھی دھرنے سے قبل ہی جیو ڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن ان کا یہ اعلان بھی دھرنے کو اس بار بھی نہیں روک سکے گا۔ اس لئے کمیشن بھی ماضی کی طرح روک دیا گیا۔ لگ یہی رہا ہے کہ اس دھرنے کے بعد ہی کمیشن بنا یا جا ئے گا۔

حکمران جماعت کے اندر اس وقت ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس بار عمران خان اتنے مضبوط نہیں ہیں۔ جیسے پہلے تھے۔ ان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔ اس لئے دھرنا بھی کمزور ہو گا۔ عمران خان کا لاہور رائے ونڈ کا انتخاب اس لئے بھی درست نہیں ہے کہ وہاں دھرنے کے انتظامات ایک مشکل کام ہو گا۔ وہ ڈی چوک نہیں ہے۔

سیاسی حلقوں میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دے دیا تو میاں نواز شریف کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی اور پھر ان پر استعفیٰ دینے کا دباؤ بڑھ جائے گا۔ لیکن اگرڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ نہ دیا تو میاں نواز شریف کے لئے مشکلات آسان ہو جائیں گی۔

ایک قیاس آرائی یہ بھی کی جا رہی ہے کہ میاں نواز شریف وقتی طور پر استعفیٰ دیکر اپنے بھائی میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنا دیں۔ جب تحقیقات مکمل ہو جائیں تو واپس وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ لیکن یہ سیاسی طور پر ایک نا قابل عمل تجویز ہے۔ میاں نواز شریف اور ان کی سیاسی جماعت ان کی ذات کے گرد ہی گھومتی ہے۔ ان کی ذات کو منفی کر کے ان کی جماعت کی سیاست کا کوئی وجود ممکن نہیں ہے۔ اس پر تو وہ 1999 میں بھی نہیں مانے تھے۔ اعجاز الحق ایک فارمولہ لیکر پھرتے رہے تھے کہ مائنس میاں نواز شریف اسمبلیاں بحال کر لی جائیں ۔ لیکن وہ نا کام ہی ہوئے تھے۔ اس لئے ان قیاس آرئیوں کے متحرک بھی نا کام ہی نظر آتے ہیں۔ میاں شہباز شریف تب بھی نہیں مانے تھے اور اب بھی نہیں مانیں گے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں میاں نواز شریف کو پہلے کی طرح حوصلہ اور صبر سے انتظار کرنا چاہئے۔ پہلے سب تھک جائیں پھر کمیشن بنائیں۔ ابھی بنائیں گے تو نقصان ہو گا۔ چیف جسٹس کو ہی خط لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن ابھی اس کا بھی وقت نہیں ہے۔ ابھی عمران خان کو ذرا میدان میں نکل لینے دیا جائے۔ بلی کو تھیلے سے باہر آنے دیا جائے۔ اس دھرنے کے تھرڈ ایمپائر کے اہداف پر بھی مفروضے اور تجزیہ مارکیٹ میں آگئے ہیں ۔ اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔

مزید : کالم


loading...