ینگ ڈاکٹروں کی دھمکی؟

ینگ ڈاکٹروں کی دھمکی؟

  



ینگ ڈاکٹروں کی تنظیم کے اعلان کے مطابق آج وہ ہڑتال کرکے مظاہرے کریں گے اور لاہور کی ٹریفک بند کر دیں گے۔ ایک بار پہلے بھی ان ڈاکٹر حضرات نے ایسا کیا، یہ کوئی مشکل کام نہیں، شہر کے اہم چوراہوں پر اگر دو درجن کے قریب افراد اکٹھے ہو کر سڑک روکیں تو ٹریفک بند ہو جاتی ہے جس کے بعد پہیہ جام کی کیفیت خودبخود بن جاتی ہے۔ ڈاکٹروں کا اعلان اسی طرف اشارہ کرتا ہے، وہ اپنے مطالبات پر اصرار کر رہے ہیں کہ حکومت نے تسلیم شدہ امور پر عمل درآمد نہیں کیا، تادم تحریر حکومت یا انتظامیہ کی ڈاکٹروں کے ساتھ بات چیت یا خود ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے التوا کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اگر آج (13اپریل) ایسا ہوتا ہے تو شہریوں کو بہت زیادہ پریشانی ہوگی۔ اس کے باعث وہ حکومت کے بارے میں بھی اچھی رائے کا اظہار نہیں کریں گے تو ڈاکٹروں کو بھی ان کی حمائت حاصل نہیں ہوگی بلکہ وہ نفرت ہی مول لیں گے۔میڈیکل کا پیشہ خدمت انسانیت ہے اور ڈاکٹروں کا حلف بھی یہی ہے، لیکن یہاں چھوٹی چھوٹی بات پر ہڑتال کرکے مریضوں کو علاج سے محروم کردیا جاتا ہے، اس کے باعث نہ صرف بیماریاں زیادہ پیچیدگی اختیار کرتی ہیں بلکہ اموات بھی ہو جاتی ہیں، جو پیشہ طب کے مقاصد کے منافی ہے۔ڈاکٹروں سے یہ توقع بے جا نہیں کہ وہ اپنے مطالبات پیش کرنے کے لئے ہڑتال اور ٹریفک جام جیسے اقدامات سے گریز کریں گے اور حکومت سے گزارش ہے کہ وہ بھی مذاکرات کی راہ اپنائے اور ٹھوس بات چیت کرے۔ یہ سب کسی آخری اقدام سے پہلے ہونا چاہیے کہ ماننے والے مطالبات مانے جائیں تو پھر ان پر عمل بھی کیا جائے تاکہ دوبارہ احتجاج کی نوبت نہ آئے۔ توقع ہے کہ اب تک مذاکرات ہو کر کوئی مصالحت ہو چکی ہوگی۔ دوسری صورت بہتر نہیں، یہ انتظامیہ اور ڈاکٹر حضرات دونوں کے لئے مضر ہے۔

مزید : اداریہ