ریلوے میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کیلئے اعلٰی افسران پر مشتمل کمیٹی قائم

ریلوے میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کیلئے اعلٰی افسران پر مشتمل کمیٹی قائم

  



اسلام آباد (آن لائن) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقوں میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان ریلوے میں گھوسٹ ملازمین موجود ہیں اور اس حوالے سے ریلوے حکام نے ایک اعلی سطحی کمیٹی بھی قائم کر دی جو گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کے بعد رپورٹ پیش کرے گی۔ چیئرمین کمیٹی عثمان خان کاکڑ نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کے ایک انجن کے لئے 175 ملازمین ہیں جو کہ عوام کے ساتھ ظلم عظیم ہے کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ریلوے زمین پر قابضین کے خلاف کارروائی کی جائے اور زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کینسل کروائی جائے۔ مغربی روٹ پر ریلوے کے منصوبوں پر کوئی پیشرفت نہیں کی جا رہی جو کہ قابل افسوس ہے اور مغربی روٹ پر ریلوے لائن منصوبوں سمیت تمام منصوبے ترجیحی بنیادوں پر بنائے جائیں۔ سیکرٹری ریلوے نے کہا ہے کہ ریلوے کی بہتری کے لئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے 20 سال کے بعد ریلوے میں بہتری آئے گی ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقوں کا اجلاس گزشتہ روز چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں ہوا جس میں سینیٹر میر کبیر احمد ، سنیٹر روبینہ عرفان ، سینیٹر نثار محمد ، سینیٹر خالدہ پروین ، سینیٹر گیان چند اور سینیٹر میر نعمت اللہ زہری نے شرکت کی ہے پاکستان ریلوے کے اعلی حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریلوے میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی ہوئی جس پر ریلوے کے اعلی آفیسران پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے کمیٹی گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی اور ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا چیرمین کمیٹی نے کہاہے کہ پاکستان ریلوے کے ایک انجن پر 175 ملازمین ہیں اور انڈیا میں ایک انجن کے لئے 145 ملازمین ہیں پھر بھی انڈین ریلوے فائدے میں جا رہی ہے اور ہم مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں انہوں نے سفارش کی ہے کہ ریلوے کی زمین پر ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کی جاےء اور غیر قانونی الاٹمنٹ کو بھی کینسل کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان راہداری منصوبہ پر سرمایہ کاری کو ہڑپ کیا جا رہا ہے اور حکومت کی پالیسی ہے کہ مغربی روٹ کو نہ بنایا جائے جس کی وجہ سے مغربی روٹ پر تمام منصوبے 2025 اور 2030 کے لئے رکھ دیئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور پسماندہ علاقوں سے امتیازی سلوک بند کیا جائے اور برابری کی بنیاد پر تمام پاکستانیوں کو حقوق دیئے جائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں دو پاکستان ہیں ایک پاکستان جو ترقی یافتہ اپر پنجاب اور دوسرا پاکستان پسماندہ ترین علاقے ہیں ۔سیکرٹری ریلوے نے کہا ہے کہ پاکستان میں 167000 ایکڑ زمین پاکستان ریلوے کی ہے اور زمین کو حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ صوبے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ زمین کی ملکیت صوبائی حکومت کی ہے انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ گزشتہ دو سال میں پاکستان ریلوے میں بہتری آئی ہے اور پاکستان ریلوے کا ریونیو 18ارب روپے سے بڑھ کر 36 ارب روپے ہو گیا ہے سیکرٹری ریلوے نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد صوبہ بلوچستان میں ایک فٹ ریلوے لائن کا اضافہ کیا گیا ہے سینیٹر خالدہ پروین نے کہا ہے کہ ریلوے کی تباہی کے پیچھے ٹرانسپورٹر مافیا ہے جو کہ پاکستان ریلوے کو تباہ کر کے اپنا کاروبار چمکانا چاہتاہے سینیٹر کبیر احمد نے کہا کہ بلوچستان ایکسپریس گزشتہ آٹھ سال سے بند ہے اس کو بحال نہیں کیا جا رہا ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ احسن اقبال سی پیک کو روزانہ تبدیل کر کے نیا نقشہ پیش کرتے ہیں سینیٹر گیان چند نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں ریلوے کا انفراسٹرکچر تباہ ہو چکا ہے اور اس حوالے سے اقدامات کئے جائیں ۔ سینیٹر نثار محمد نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے ژوب ریلوے ٹریک کو 15 سال پہلے کھول کرلے گئے ہیں اور نئی ٹریک بچھانے کا جھانسہ دیا گیا تھا جو کہ آج تک ایک بولٹ بھ نہیں لگایا گیا ۔ وزارت ریلوے کے ڈی جی پلاننگ مظہر خان نے کہا ہے کہ مغربی روٹ پر ریلوے کو منصوبہ کو لانگ ٹرم سے میڈیم ٹرم منصوبوں میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور پاکستان ریلوے اپنی کارکردگی بہتر بنا رہی ہے ۔سیکرٹری ریلوے نے مزید کہاہے کہ ریلوے کو مزید 15 سے 20 سال لگ سکتے ہیں اور پاکستان ریلوے کے لئے فنڈز میں اضافہ ناگزیر ہے کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ کوئلہ جام ، ژوب ، مستونگ اور کوئٹہ ریلوے منصوبہ کو سی پیک کے ترجیحی بنیادوں پر مکمل ہونے والے منصوبوں میں شامل کی جائیں اور ریلوے زمین پر ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کر کے زمین واگزار کی جائیں ۔

گھوسٹ ملازمین

مزید : علاقائی


loading...