اسلامی نظریاتی کونسل عدالت نہیں اسے فتوی اور اجتہاد کی حیثیت حاصل ہے ، مولانا شیرانی

اسلامی نظریاتی کونسل عدالت نہیں اسے فتوی اور اجتہاد کی حیثیت حاصل ہے ، ...

  



 اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانامحمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ کونسل نے بچوں پر تشدد کی روک تھام کا بل تیار کر لیاہے، یہ بل آئین کی شق 31 اور 35 کے تحت بنایاگیا، بل میں بچے کی پیدائش سے پہلے سے لیکر سن بلوغت تک حقوق کی بات کی گئی ،جمہوری حکومت کو اللہ نے توفیق نہیں دی اس لئے ہم یہ کام کررہے ہیں، صوبائی اسمبلیوں کے حقوق نسواں بل گلے سڑے تھے جنہیں مکمل طور پر مسترد کردیاہے، حکومت کو سفارش کی ہے کہ آرٹیکل 237 کے تحت ایسا حقوق نسواں بل ڈرافٹ کیا جائے جو اسلامی احکامات کے عین مطابق ہو،بصورت دیگر ہم آئین 229 کے تحت خود بل ڈرافٹ کرکے حکومت کو بھجوائیں گے،آئندہ کونسل اجلاس کی تمام کاروائی،سفارشات حکومت کو بھجوائی جائے گی، اسلامی نظریاتی کونسل سے اگر کسی کو تکلیف ہے تو پارلیمنٹ میں بل پیش کرے، اسلامی نظریاتی کونسل عدالت نہیں لیکن فتوی اور اجتہاد کی حیثیت حاصل ہے،ڈی این اے کے معاملہ پر فیصلہ دیا لوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا،مغرب کی رہنمائی مانتے ہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی نہیں،اسلامی نظریاتی کونسل عدالت نہیں لیکن فتوی اور اجتہاد کی حیثیت حاصل ہے، اجلاس میں کونسل میں متعدد عالمی ڈیسک بنانے کی سفارش کی ہے۔ وہ منگل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے 2روزہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین محمد خان شیرانی نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس حکومت کو اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد کیلئے مشورہ دینے کا حق حاصل ہے،آئندہ کونسل اجلاس کی تمام کاروائی،سفارشات حکومت کو بھجوائی جائے گی، اسلامی نظریاتی کونسل عدالت نہیں لیکن فتوی اور اجتہاد کی حیثیت حاصل ہے۔

مزید : علاقائی


loading...