بھارت سعودی تعلقات۔ ایک نئی جہت

بھارت سعودی تعلقات۔ ایک نئی جہت
بھارت سعودی تعلقات۔ ایک نئی جہت

  



بین الاقوامی سطح پر خارجہ پالیسی مرتب کرتے وقت صرف باہمی مفادات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ اس میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی مستقل دشمن ۔۔۔ دو اپریل 2016ء کو نریندر مودی کا سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل جواہر لال نہرو 1965ء میں، اندراگاندھی 1982ء میں، جبکہ من موہن سنگھ 2010ء میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر نے عرب ممالک کو خوشحالی کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر بھی مستحکم کیا ہے۔ خدا کے فضل کے شامل ہونے کے علاوہ امریکی آشیر باد بھی ساتھ ہے۔ چین، جاپان امریکہ اور جنوبی کوریا کے بعد بھارت سعودی عرب کا پانچواں بڑا تیل کا خریدار ہے۔ تجارتی سطح پر دیکھا جائے تو دونوں ممالک میں 2014-15 ء کے دوران 39.4 ارب ڈالر کی تجارت ہو چکی ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم صرف 6.1 ارب ڈالر کے قریب ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب عالم اسلام کے لئے ایک مقدس سرزمین ہے اور پاکستان کی وابستگی بھی مذہبی اور روحانی بنیادوں پر جذباتی طور پر استوار ہو چکی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو جب اور کہیں پناہ نہیں ملتی تو اس ملک کے دروازے وا ہو جاتے ہیں۔

نریندر مودی ایک شاطر اور مکار سیاستدان ہے۔ کل کی بات ہے جب اس کی شہ پر بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا ،بابری مسجد کے انہدام میں بھی یہ شخص پیش پیش تھا۔ خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بھارت کے حکمران شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر سعودی عرب تشریف لاتے ہیں تو انہیں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ سعودی عرب کا سب سے بڑا اعزاز شاہ عبدالعزیز ایوارڈ پیش کیا جاتا ہے۔ ان مراسم کا تعلق تجارتی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے اور بدلے میں نریندر مودی سعودی حکمران کوکیرالا کی سب سے پہلی جمعہ مسجد کا سنہری ماڈل پیش کرتے ہیں۔ اس مسجد کی ایک کہانی ہے جو تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکی ہے۔ آؤ اس گم گشتہ داستان کو دہرائیں۔ ساتویں صدی عیسوی میں جنوبی ہند کی ریاست کیرالا میں چیراپرومل بادشاہ حکمران تھا،اس نے خواب میں چاند کو دو ٹکرے ہوتے دیکھا۔ دربار میں جوتشیوں کو بلایا گیا اور اس خواب کی تعبیر دریافت کی گئی۔ اس دور کا کوئی دانشور راجہ کو تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا۔

آخر ایک عرب تاجر کو پیش کیا گیا۔ اس نے بتایا کہ یہ عرب میں اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا معجزہ ہے کہ انہوں نے انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کیا راجہ پرومل عرب تاجر کی تعبیر سے اس قدر متاثر ہوا کہ وہ مکہ کی طرف عازم سفر ہوا اور وہاں جا کر مشرف بہ اسلام ہوگیاراجہ کیرالا واپسی سے پہلے ہی فوت ہو گیا، لیکن مرنے سے پہلے اس نے مالک بن دینار کو ہدایت کی کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لئے کیرالا کا سفر کرے۔ اس دور میں کیرالا میں بدھ مت آخری سانس لے رہا تھا۔ حاکم وقت نے پرومل کی خواہش کے مطابق نئے مذہب کی پذیرائی کرتے ہوئے اس مسجد کی بنیاد رکھی۔ ایک روایت کے مطابق یہ مسجد بدھوں کے وہارا کی جگہ تعمیر کی گئی، لیکن یہ ایک کمزور روایت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مندر کو مسجد میں تبدیل کیا گیا اور اندرونی نقش و نگار کو اصلی حالت میں رہنے دیا گیا۔ اس مسجد کی انفرادیت یہ ہے اس کا قبلہ رخ مشرق کی طرف ہے جبکہ دنیا کی تمام مساجد کا قبلہ رخ مکہ کی جانب ہے۔

نریندر مودی نے اس مسجد کے ماڈل کا تحفہ پیش کر کے عربوں کو ہند کے ساتھ تجارتی مراسم کی یاد دہانی کرائی ہے۔ اس سے کیرالا کے لوگوں میں مذہبی رواداری ا ور اسلام سے محبت کا اظہار بھی جھلکتا ہے۔ برصغیر میں بہت سارے مذاہب نے جنم لیا اور بیرونی حملہ آور بھی اپنے ساتھ مختلف مذاہب لے کر آئے۔ مذہبی ہم آہنگی یہاں کی روایت میں شامل رہی ہے۔ ظہور اسلام سے بھی پہلی صدی کے آغاز سے عرب آبی گزر گاہوں کے ذریعے بین الاقوامی تجارت میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ ہندوستان میں مصالحہ جات کثرت سے پائے جاتے ہیں، ان کی برآمدات مصر، چین اور یونان تک ہوتی رہی ہیں۔ پرتگیزوں سے ایک ہزار سال قبل عرب ہندوستان کے ساتھ منسلک ہو چکے تھے۔ اس کے بعد یورپ نے برصغیر کا رخ کیا۔ تیرہویں صدی عیسوی سے بہت پہلے ہندوستان میں اسلام پھیل چکا تھا اور لوگوں نے اسے نئے مذہب کے طور پر قبول کر لیا تھا۔

یہ تو ایک اقتصادی پہلو تھا، جس کے پس منظر میں بھارت اور سعودی عرب کا قریب آنا ایک فطری عمل ہے۔ آج کے جدید دور میں تمام ممالک اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے سے جڑئے ہوئے ہیں۔ اب ایک اور اہم پہلو پر بات کرنے کی ضرورت ہے اور وہ سیاسی جوڑ توڑ ہے۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ۔ عالمی سطح پر تمام مذاہب کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جائے۔ اس مسئلے نے ایک طرف لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے تو دوسری طرف گروہ بندیاں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب نے 34 ممالک کا مسلم اتحاد کے نام سے ایک حربی گروپ تشکیل دیا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پاکستان نے یمن کی جنگ میں اپنی فوج نہ بھیج کر غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ اس میں ایران کی مداخلت کی وجہ سے اس جنگ میں فرقہ وارانہ پہلو نمایاں تھا ،پاکستان نے شام میں بھی عدم مداخلت کا عندیہ دیا ہے۔

ان حالات کا تجزیہ کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن بدل چکا ہے، تیسری ایٹمی طاقت چین ہے جو ایک بڑی معیشت بھی ہے بھارت امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بحال کر رہا ہے۔ بھارت کے ایران کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ سعودی عرب ایران کو اپنا حریف سمجھتا ہے۔ مودی نے سعودی لیڈر شپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ان کے ساتھ تعاون کر کے خطے میں امن کو یقینی بنائیں گے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ سعودی عرب اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط کرنے کے لئے بھارت سے قریبی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے خلاف بھارت کو ترجیح دے رہا ہے۔ چین کی بھارت کے ساتھ وسیع پیمانے پر تجارت ہو رہی ہے۔ دوسری جانب چین اقتصادی راہداری کے ذریعے پاکستان میں ترقی کا خواہاں ہے۔

مندرجہ بالا واقعات و حالات کی روشنی میں چند نتائج اخذ کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آ رہی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان سال ہا سال سے سعودی عرب کا قریبی دوست اور حلیف رہا ہے اور ہمیشہ اقتصادی امداد سے مستفید ہوتا رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم کا سعودی عرب میں پرتپاک استقبال اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں قومی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے نہ کہ مذہبی اور نظریاتی رشتوں کو۔سعودی عرب اور بھارت کی قربت کی وجہ خالصتاً تزویراتی معاملات اور اقتصادی لین دین سے متعلق ہے۔ امریکی آشیر باد سے سعودی عرب بھارت سے مل کر خطے میں اپنا ایک سیاسی کردار ادا کرنا چاہتا ہے جس کے پیچھے ایران کو نیچا دکھانے کی حکمت عملی بھی شامل ہے۔ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی ہے اور ہمارے لاکھوں لوگوں کو روز گار مہیا کیا ہے، مگر آج تک کسی پاکستانی لیڈر کوایسے سویلین اعزاز سے نہیں نوازا جس سے نریندر مودی کو نوازا گیا ہے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں کے لئے یہ امر تشویش کا باعث ہونا چاہئے مگر وہ خاموش ہیں۔ جانے کون سی مصلحت آڑے آ رہی ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے ہمیں دوستی اور دشمنی کے معیار بدلنے ہوں گے۔ ایک آزاد خارجہ پالیسی ہی ملکی سلامتی اور فلاح کی ضامن ہو سکتی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ بھارت کے سعودی عرب سے تعلقات مستحکم ہونے سے ہم نے کیا کھویا ہے اور بھارت نے کیا پایا ہے؟

مزید : کالم


loading...