مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کی تقسیم

مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کی تقسیم
مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں کی تقسیم

  



اگرچہ عراق، افغانستان ، پھر شام اور لیبیا میں جہادی جنگجوؤں کی بڑی تعداد عرب ممالک سے آئی تاہم اب شام کی خانہ جنگی میں بڑی تعداد میں جہادی مغرب کے بڑے مسلم گروہوں کی طرف سے آئے تھے 19 لاکھ سے زیادہ مسلمان یورپی ممالک میں آباد ہیں اور دو ملین کے قریب امریکہ کو اپنا گھر قرار دیتے ہیں۔ امریکہ کی سیکیورٹی امور کے متعلق مشاورتی فرم کے اعداد و شمار کے مطابق شام کی خانہ جنگی اور بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لئے 25 ہزار کے قریب مذہبی جنونی ،جن میں زیادہ تر سنی مسلک کے جہادی حصہ لے رہے ہیں۔ ان مغربی مسلمانوں میں سے اکثر جو آج شام میں لڑنے کے لئے نکلے ہیں،وہ اپنے گھر واپس جانے کا ارادہ ترک کرکے آئے ہیں، بشار الاسد کے حامیوں اور ان کے دشمنوں کے درمیان مسلسل جنگ ہو رہی ہے۔ دونوں اطراف سے غیر ملکی جنگجوؤں کا ممکنہ کردار ختم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے، کیونکہ دونوں اطراف سے بڑی طاقتوں کے ایجنڈے کی پذیرائی میں تبدیلی آ چکی ہے ،ان جہادی لشکروں کی تباہ حالی کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان قتل ہو چکے ہیں اور بڑی تعداد ان مغربی ممالک میں بے یارو مدد گار ذلیل و رسوا ہو رہی ہے۔

تمام مذاہب کی تہذیب و تمدن ،خاص طور پر مسلمانوں کے مقدس مقامات کی نشانیاں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، اب کسی جہادی لشکر کی وہاں پر ریاست کا امکان جو دور دور تک نظر نہیں آتا ،بچوں کی بڑی تعداد بے یارو مدد گار داعش اور دوسرے جہادی لشکروں کے رحم و کرم پر ہے۔ قارئین یہ تو تصویر کا ایک رخ ہے، شام کی صورت حال دن بدن ایک نئے رخ کی طرف جا رہی ہے، کیونکہ شام میں روس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بڑے پیمانے پر عسکری قوت کی موجودگی کم کر رہا ہے اور وہاں سے واپسی کا اعلان کر دیا ہے ،لیکن بظاہر دنیا اس بات کی جواب طلبی کے کوشاں ہے، ایسے لگتا ہے روس نے اس وارننگ کے ساتھ کہ وہ واپس بھی آ سکتا ہے، اپنی عسکری قوت کو شامی نیول بیس ٹورٹوس (Tartous) اور ایئرفورس کو ایئربیس قیاس (Khneymis) تک محدود کر لیا ہے، مگر واپسی کا رخ نہ واپسی کا ارادہ لگتا ہے، ساری واپسی بشارالاسد کے لئے ایک پیغام ہے۔ روسی افواج کی مدد کو گرانٹ کے طور پر نہیں لینا چاہئے تھا، بلکہ آئندہ امن کانفرنس کے لئے مزید نرم مزاجی سے کام لیا جائے۔ امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے بھتیجے رابٹ ایف کینیڈی جو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں، اپنے خیالات کی وضاحت کے ذریعے وجوہات بتاتے ہیں کہ مغربی ممالک صرف بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ اور بڑے بڑے جہادی جنگجوؤں کو ذہنی طور پر تیاری اور ان کو خانہ جنگی میں جھونکنے کا مقصد گیس اور تیل کی پائپ لائن کو قطر سے شام تک لانا ہے، تاکہ تیل ،گیس اوردوسری معدنیات کے خزانوں پر قبضہ کیا جا سکے اور پھر اس کو ترکی کے ذریعے مشرقی یورپ تک لایا جا سکے تاکہ اس کاروبار کے بڑے حریف روس کی کمپنیوں کو آؤٹ کلاس کر دیا جائے ۔

اس عظیم کھیل کے درمیان روس نے دخل اندازی کر کے ایک دیوار کھڑی کر دی جو قطر سے گیس پائپ لائن لانے کے سامنے مکمل رکاوٹ بن چکی ہے جبکہ روس اور دوسرے ان کے گروپ میں شامل ممالک کے ساتھ مل کر نئے علاقوں ،جن میں ترکی مڈل ایسٹرن بشمول اسرائیل سائپرس اور یونان میں تیل کی تلاش پر گامزن ہے یہ طویل عرصے میں غیز پورن (Gazpom) کا منصوبہ جو کھٹائی میں پڑا تھا پایہ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے اور دوسری پائپ لائن بالٹک سمندر میں سے ہوتی ہوئی جرمنی تک رسائی حاصل کر سکتی ہے ۔خاص بات یہ بھی ہے کہ رائیل ڈچ بش ’’جرمنی ای اون‘‘ اور آسٹریلین اور ایم دی کی کمپنیوں کی حصہ داری بھی ہو گی، اگرچہ شام کے معاملے میں عسکری قوت ملوث ہے اور کوشش ہو گی کہ شام کو تقسیم کر کے منصوبے پر عمل ہو جائے اور دیرپا عمل و سیاسی حل بھی مل جائے گا ،توازن بھی برقرار رکھا جا سکے گا۔ آخر کار دوسری ساری تجاویز غیر موثر ہونے پر سیاسیات کے ماہرین کے سامنے یہی مسئلہ ہے کہ کیا شام کی تقسیم ہی مقصد کا آخری حل تھا۔

ایسی پالیسیوں کو جیوپولٹیکل کے ماہرین پہلے سے منظر عام پر لا چکے تھے، مثال کے طور پر خارجہ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ 2013ء میں شائع کر چکا ہے جس پر عملدرآمد اب کیا جا رہا ہے جس میں شام کو تقسیم کر کے اس پر سنی عرب کی مکمل دسترس ہو سکے گی جس میں دو سے زیادہ ریاستوں میں تقسیم کر کے ان کی کنفیڈریشن بنا دی جائے جسے خود مختاری حاصل ہو گی جو انتہائی کمزور ریاستوں پر مشتمل ہو گی جیسے بوسنیا میں کیا گیا ہے جیسے 1975ء اور 1990ء کی سول جنگوں میں ڈی فیکٹو پارٹیشن جو ہر روز کی جاتی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بین الاقوامی کمیونٹی کو ایسی بحالی کی حمایت کرنی چاہئے جو انسٹیٹیوشنلائز تقسیم جن کی بنیادپر ایک طرف فتح اور دوسری طرف تقویت دی جائے گی۔ اس طرح اردن، شایددروز (Druze) بغیر ملک کے دوست مل جائیں گے ،اس اثناء میں سمندری کناروں پر آباد الوئٹی (Alawite) کی غالب اکثریت ایران کے ساتھ اتحاد کرے گی اور روس کی سب سے بڑی امید کہ وہ نیول اور ایئر بیس پر قبضہ جمائے اپنے مقاصد حاصل کر سکے گا اور کرد کا علاقہ عراق کے ساتھ تعاون کر سکے گا۔ گلف ممالک مرکزیت پر کنٹرول کریں گے۔ہمیں اس بات پر غور و غوض کرنا چاہئے برطانوی سامراجیت کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو پر برطانیہ کے تقسیم اور حکومت کرنا شام سے عراق، لیبیا تک عمل ہو جائے گا۔

مزید : کالم