عمران خان اور پانامہ پیپرز (2)

عمران خان اور پانامہ پیپرز (2)
عمران خان اور پانامہ پیپرز (2)

  



عمران خان اس وقت عاقبت نااندیش، نا م نہاد، دانشوروں کے نرغے میں آ چکے ہیں انہیں اب آنکھیں کھول کر چلنا ہو گا اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی کی خواہش مند سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا، کیا ایک عظیم کھلاڑی قوم کا مسیحا ہے یا تارا مسیح یا ایک سراب، فیصلہ عوام نے کرنا ہے آمریت ان کے لئے سوائے بربادی کے کچھ نہ لائے گی جیسا کہ ماضی میں ہو چکا ہے، میں عمران خان کے لئے نیک خواہشات رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرائیں گے ،لیکن تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہم اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے آج کل پوری دنیا میں پانامہ لیکس کے چرچے ہیں جرمن اخبار نے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کے اشتراک سے اور 76 ممالک کے لگ بھگ 270 صحافیوں کی مدد سے آف شور کمپنیوں کے حوالے سے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ آف شور کمپنیاں جہاں قانونی طور پر مغرب میں کاروبار اور اثاثہ جات کی ملکیت میں آزاد ہیں، وہیں مغرب کی اقتصادیات جس کی جان روپے پیسے میں ہے اس کے لئے بیرونی سرمایہ کاری روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ تمام تر قانونی لوازمات اور ذرائع ہونے کے باوجود مغربی ممالک کے بینک اور سرمایہ کاری کے ادارے بیرونی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتے ہیں، لیکن مالی رازداری کی تحقیق کرنے والی عالمی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ سب سے کم مالی شفافیت کی فہرست کے پہلے دس ممالک میں پانامہ تاحال شامل نہیں ہے۔ بین الاقوامی ٹیکس اور مالی فوائد کا تجزیہ کرنے والے خود مختار ادارے ’ٹیکس جسٹس نیٹ ورک‘ کی فہرست کے مطابق مضبوط قوانین رکھنے والے ممالک میں سوئٹزرلینڈ سر فہرست، ہانگ کانگ، سنگا پور اور امریکہ تیسرے نمبر پر ہیں۔ بینکاری میں رازداری کے سخت قوانین کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ یہاں تک کہ اس نے عالمی دباؤ کے بعد حال ہی میں بین الاقوامی ٹیکس چوری کی تحقیقات میں سامنے آنے والے اکاؤنٹس یا کھاتوں کے مالکان کی نشاندہی کرنے کی منظوری دی ہے۔ اِن اکاؤنٹس میں کتنے پاکستانی سرمایہ کار ہیں، یہ بات تاحال حل طلب ہے اور شنید ہے کہ اگر سوئٹزرلینڈ کے اکاؤنٹس میں چھپایا ہوا سرمایہ پاکستان لوٹ آئے تو شاید پاکستان کو عرصہ درازتک قرضوں کی ضرورت نہ رہے۔

کمپنیوں کا ایک تہائی کاروبار ہانگ کانگ اور چین میں قائم دفاتر سے بھی ہوتا ہے۔ امریکی سرحد کے اندر اور وائٹ ہاؤس سے انتہائی قریب ڈیلاوئیر کی مشرقی ساحلی ریاست میں تقریباً 9 لاکھ 45 ہزار کمپنیاں قائم ہیں۔ ڈیلاوئیر اِن چار امریکی ریاستوں میں شامل ہے جن پر خراب مالی قواعد کی وجہ سے تنقید کی جاتی ہے۔ نیواڈا ایروزونا اور ویاؤمنگ باقی تین امریکی ریاستیں باعث تنقید ہیں۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ڈیلاوئیر کو بین الاقوامی جرائم کی پناہ گاہ قرار دیا ہے اور تو اور برطانیہ میں بھی اِس معاملے میں تضاد برقرار ہے۔ آکلینڈ ہاؤس کی ایک عمارت جس میں 12 ہزار کمپنیاں اپنے آف شور دفاتر بنائے ہوئے ہیں نے بین الاقوامی طور پر کیمن آئس لینڈ کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے۔ یہ ریکارڈ پر آنے والا سب سے بڑا ٹیکس سیکنڈل ہے۔ کیمن آئس لینڈ خود مختار برطانوی علاقہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ برٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ کمپنیوں کے ڈانڈے بھی پانامہ میں پائے گئے ہیں۔ حیرت ناک بات یہ ہے کہ صرف لندن شہر میں ایک لاکھ پراپرٹیز آف شور کمپنیز کی ملکیت ہیں اور تو اور بین الاقوامی دنیا میں مایہ ناز سرمایہ دار کمپنیاں "Tax Heaven Offshore" کا استعمال کرتی ہیں تا کہ مقامی ٹیکس نیٹ سے بچ سکیں۔ حال ہی میں اس سلسلے میں گوگل پر ہونے والی تنقید قابل ذکر ہے۔ پاکستانی سابقہ حکمرانوں نے اِن آف شور کمپنیوں کی سہولتوں کو متواتر استعمال کیا ہے اور آیا یہ اثاثہ جات قانونی ہیں اور یہ اثاثے پاکستان کے ٹیکس نیٹ میں ڈکلیرڈ ہیں اور کوئی قانونی بے ضابطگی نہیں کی گئی، یہ معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمے آتا ہے کہ وہ متواتر اپنی قانونی کارروائیاں جاری رکھیں اور کسی مغربی پریس سٹوریز کا انتظار نہ کریں۔ پاکستان میں ریکارڈ حقیقت اور ماضی بہر حال اس کے برعکس ہے۔

2013ء میں جی ایٹ کے اجلاس میں اہم معاشی طاقتوں نے منی لانڈرنگ میں ملوث افراد، ٹیکس چوروں اور کارپوریٹ ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف نئے اقدامات پر آمادگی ظاہر کی تھی اور ٹیکس چوری کی لعنت کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ حالیہ پانامہ پیپرز ایک موقع فراہم کریں گے کہ عالمی سطح پر قانون سازی کی جائے اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں کو کسی بین الاقوامی ضابطہ کار میں لایا جائے۔ اِن ہوشربا لیکس میں امریکی کمپنیوں کے نام نہ ہونے سے یہ بات ظاہر ہے کہ ابھی راز مکمل طور پر افشاء ہونے باقی ہیں۔

باقی پانامہ میں قانونی فرم موساک فونیسکاکے دفتر سے لگ بھگ ایک کروڑ 15 لاکھ کاغذات جو کہ 1977ء سے لے کر 2015ء تک ایک لاکھ 14 ہزار کلائنٹس کمپنیوں کے بارے میں ہیں، اس نے دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ امیر ممالک ایک دوسرے کے اوپر پوائنٹ سکورنگ کے لئے استعمال کر رہے ہیں، لیکن افریقہ اور ایشیاء کے ممالک میں اِن معاملات پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور کمزور سول اور کرمنل جسٹس کا نظام ہونے کی وجہ سے خلفشاروں کا خطرہ ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جو کہ براہ راست اِن کمپنیوں سے متاثر نہیں ہیں ،لیکن اِن کے خاندان کے افراد کے نام کمپنیوں کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے اپوزیشن نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور قوم سے خطاب کے بعد انہوں نے ججوں پر مشتمل اعلیٰ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کا اعلان کیا ہے جو اُن 200 سے زائد کھاتہ داروں کے مالی معاملات پر رائے قائم کرے گا کہ آیا خلاف قانون بے ضابطگی کی گئی اور اس کا تدارک کیسے ہو۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ پاکستان اِس سے کیا حاصل کر سکتا ہے پاکستان یا تو اِس موقع کو استعمال کر سکتا ہے کہ اپنا نظام اور مضبوط کرے اور 2013ء کے الیکشن کے بعد ہونے والے احتجاج کے بعد بننے والے کمیشن اور یہاں بھی جن کھاتہ داروں نے اثاثے ڈیکلیئر نہیں کئے اور وہ عوامی عہدوں پر براجمان ہیں، انہیں الیکشن کمیشن کے حوالے کرے۔ جو اشخاص سرکاری ملازمت اور کنٹریکٹ کے زمرے میں آتے ہیں اُن پر نیب کو کارروائی کے لئے کہے اور جن کھاتہ داروں نے پاکستان میں رہائش پذیر اور کاروبار ہونے کے باوجود اثاثے آف شور کمپنیوں میں رکھے اور ایف بی آر کو مطلع نہیں کیا، اُن سے ٹیکس کی وصولی اور ٹیکس سے خفیہ چھٹکارہ حاصل کرنے کی پاداش میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لئے کہیں۔ کمیشن کے ذمے بھاری ذمہ داری ہوگی، کیونکہ چلتے چلتے پانامہ پیپرز کی دوسری قسط یا سوئٹزرلینڈ کے اکاؤنٹس کی بابت یا امریکہ سے موساک فونیسکا جیسی کسی تنظیم کی بابت نئے ہو شربا انکشافات بھی ہو سکتے ہیں۔ اِن تمام کھاتہ داروں کی صفائی کمیشن کی ذمہ داری ہے اور مستقبل کے لئے راہنما اصول، گائیڈ لائن اور سفارشات پارلیمان کے سپرد ذمہ داری سے کر سکتا ہے تا کہ پاکستان اِس مشکل کوموقع میں بدل کر اِس بین الاقوامی ’پاکھنڈ‘ سے قومی اصلاح کا پہلو نکال سکے۔ میاں نواز شریف ایک مشکل کام سر انجام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ اور پاک چائنہ کوریڈور کو حقیقت میں بدلنا، گوادر کو حقیقی خواب بنانا اور پانی اور توانائی کے بحران سے نبرد آزما ہونا بڑے بڑے کام ہیں اور انہوں نے دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے طرح طرح کی بولیاں بولنے والے بھان متی کے کُنبے کو کمیشن کے سپرد کر دیا ہے اور اب کمیشن جانے، وہ جانیں اور خدا جانے فیفا کرپشن ہو یا وکی لیکس، راتھرم کے جنسی سکینڈل کا قصہ ہو یا سٹیفن لارنس انکوائری، برطانیہ میں ممبران پارلیمنٹ کے اخراجات کا سکینڈل ہو یا HSBC بنک کے فون ٹیپ کرنے کا معمہ ہو، اگر صحافی صحافت چھوڑ دیتے تو حکومتیں کبھی بھی اِن ہوشربا داستانوں سے پردہ نہ اٹھانے دیتیں۔ صحافیوں کا کام اِن پوشیدہ طور طریقوں سے پردہ اٹھانا ہے جو معاشرے میں موجود تو ہیں، لیکن کرنے والے قانون ہونے کے باوجود اُن جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اُن پر فخریہ اعزازات بھی حاصل کرتے ہیں اور ریاستی، عوامی اور حکومتی کمزوری اور عملداری نہ ہونے کے باعث اُن پر نفسیاتی وار کرتے ہوئے بے شرمی سے مسکراتے ہیں۔ امریکہ کے سب سے بڑے ڈان شگاگو کے ’الکیپون‘ نے بھی آخر کار 17 اکتوبر 1931ء کو انکم ٹیکس چھپانے کے جرم میں 11 سال کی قید پائی۔ حالانکہ ان کا شکاگو انڈرورلڈ میں طوطی بولتا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ کر اور جنرل پرویز مشرف نے این آر او کے ذریعے8 ہزار کے لگ بھگ مجرمان کو قانونی رعایت دے کر ریاستی عملداری پر کاری ضرب لگائی ہے۔ آئیے اب موقع ہے کہ ہم قانون کی حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور آئین کی پاسداری اور بالا دستی کو حقیقت میں بدل دیں۔ (ختم شد)

مزید : کالم