ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟
ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

  



پانامہ لیکس میں نیا کیا ہے، حسین نواز کہاں اور کیا کاروبار کرتے ہیں، حسن نواز کا پیشہ کیا ہے، لندن کے امراء والے علاقے میں شریف خاندان کے ملکیتی بنگلے ایک ہیں یا دو ،یہ سب باتیں ایک مدت سے سب کے علم میں ہیں۔ اتفاق فونڈریز کو قومیائے جانے سے قبل شریف خاندان کا شمار غرباء اور حاجت مندوں میں ہوتا تھا کیا؟ نواز شریف نے میدان سیاست میں قدم رکھا تو ان کا اصل تعارف ہی یہی تھا کہ وہ ایک انتہائی دولت مند گھرانے کے فرد ہیں ،اس وقت سے لے کر آج تک شریف خاندان کے سپوت حکومت بھی کرتے رہے اور نکالے بھی گئے۔ مشرف دور میں تو موت کے منہ سے بچ کر نکلے۔ ہر بار ان کے مالی معاملات کا بے رحمی سے جائزہ لینے کے دعوے کیے گئے۔ عملی اقدامات بھی ہوئے ،لیکن کچھ خاص نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ پانامہ لیکس کے بعد آخر ایسا کیا ہونے جارہا ہے کہ سیاسی مخالفین کی رالیں ٹپکنا شرو ع ہو گئی ہیں۔ خود نواز شریف بھی پریشان نظر آتے ہیں۔ قوم سے خطاب کو کئی حلقے غیر ضروری قرار دے رہے ہیں پھر یہ کہ اندرون ملک تھر اور کراچی کے دورے منسوخ کرنا، اگلے ہی روز ترکی جانے کا ارادہ ملتوی کر کے اپنی جگہ صدر ممنون حسین کو بھجوانے کا فیصلہ، کچھ نہ کچھ گڑ بڑ کی نشاندہی تو کرتا ہے۔ اس سارے معاملے میں اپنی صفائی خود وزیراعظم اور پروپیگنڈا کی زد میں آئے ان کے اہل خانہ کو خود ہی دینا ہو گی۔ تمام صورتحال کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنا ،مگر اہل قلم کا حق ہے، جس سے کسی طور دستبردار نہیں ہوا جا سکتا۔

سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہو گا کہ حسن اور حسین بیرون ملک کوئی کاروبار کرتے ہیں یا نہیں۔ اس بات کا پتہ نہایت آسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں ہی بیرون ملک بزنس کررہے ہیں اور ایک طویل عرصے سے کررہے ہیں ۔جب کوئی آدمی ملک سے باہر کاروبار کرنے جائے گا تو یقینی طور پر کمپنی بھی بنائے گا ،اسی لئے تو مخالفین بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسی کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں ،پھر بھی وزیراعظم کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تو نہایت قلیل پاکستانیوں کے بارے میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت کی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس میں بھی بعض ایسے ہیں جن کا بیرون ملک حقیقت میں کوئی کاروبار ہی نہیں، لیکن اثاثے اربوں، بلکہ کھربوں میں ہیں ،نکتہ چینی کرنے والوں کا ایسے افراد کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہا جارہا ہے کہ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے پونے پانچ سو افراد کی ایک اور لسٹ ابھی سامنے آنے والی ہے۔ اس طرح کئی اور شخصیات بے نقاب ہوں گی۔ہو سکتا ہے یہ اطلاع درست ہو اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھی سمندر سے قطرہ نکالنے کے مترادف ہے۔ امرا ء تو امراء پاکستان کی اپر مڈل کلاس کے بے شمار افراد ایسے ہیں، جنہوں نے بیرون ملک جائیدادیں خریدنے کے ساتھ ساتھ آف شور کمپنیاں بھی بنارکھی ہیں۔ غیر سیاسی طبقات سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی بھاری اکثریت یہ بتانے کا خطرہ بھی مول نہیں لے سکتی کہ ان کے پاس اتنا مال کہاں سے آیا؟ اقتصادی امور پر نظر رکھنے والوں کو یقین ہے کہ بیرون ملک مالی مفادات رکھنے والی پاکستانی شخصیات کی مکمل فہرست تیار کرنا پڑی تو پورا ’’دیوان‘‘ مرتب کرنا پڑے گا۔ دیکھنا مگر یہ ہے کہ اس حوالے سے ملکی قوانین کیا کہتے ہیں۔ اگر پاکستان سے باہر جا کر کاروبار کرنا جائز ہے تو اسے تسلیم کرنا ہو گا۔ ’’غیر اخلاقی‘‘ وغیرہ کے الفاظ کا استعمال محض پوائنٹ سکورنگ کے لئے ہے۔ بیرون ملک سرمایہ کاری رکوانا ہے تو ملکی قوانین تبدیل کرنا ہوں گے۔ ہاں !مگر قوم یہ ضرور چاہتی ہے کہ اسے اچھی طرح سے علم ہو کہ بیرون ملک انویسٹ کی جانے والی رقوم کہیں لوٹ مار سے حاصل کردہ تو نہیں۔ نائن الیون کے بعد اس حوالے سے بیرون ملک بھی قوانین بہت سخت ہو گئے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے حوالے سے جو معاملہ اٹھایا جارہا ہے اسکا جائزہ بھی قوانین کی روشنی ہی میں لینا ہو گا۔ اچھی بات ہے کہ وہ خود انکوائری کرانے پر تیار ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس حوالے سے زیادہ طاقتور تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے، اگرچہ اس حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں کہ اپوزیشن خصوصاً تحریک انصاف کسی بھی رپورٹ کو نہیں مانے گی (اور یہ تاثر ایسا بے جا بھی نہیں ہے)پھر بھی وزیراعظم کو اپنی طرف سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑنی چاہیے۔ پانامہ لیکس کے حوالے سے سارا ہنگامہ ایک عالمی ایجنڈے کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔ مقامی سطح پر اسے جس طرح اچھالا جارہا ہے اس کے پس پردہ محرکات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ معاملہ سامنے آتے ہی بعض مخصوص چینلوں نے ’’ات مچا دی‘‘۔ ان سے منسلک اینکر اور اینکرنیاں باقاعدہ بین ڈالتی دکھائی دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاملہ غیر قانونی ہو یا نہ ہو وزیراعظم ہر صورت استعفیٰ دیں ۔ایک نے تو جوش خطابت میں پوری سول حکومت کو ہی ’’بدکار‘‘ قرار دے دیا۔ لوگ حیران تو تھے ہی پریشان بھی ہو گئے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اعتزاز احسن بھی حکومت پر برس پڑے۔ اینکر اور اینکرنیاں تو خیر ادھر ادھر کی ہانکنے کے دوران بھی ڈیوٹی پوری کررہے ہوتے ہیں۔ اعتزاز احسن جیسے ذہین و فطین وکیل کو تو اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے تھا کہ خود بینظیر بھٹو اور رحمن ملک کے نام بھی آف شور کمپنیوں کے مالکان کی اسی فہرست میں شامل ہیں۔اعتزاز احسن شاید 2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے ہاتھوں اپنی اہلیہ کی شکست فاش کے صدمے سے تاحال باہر نہیں آسکے۔ حیرانی کی بات ہے کہ پورے لاہور کے شہریوں کے برعکس انہیں لگتا تھا کہ بشریٰ اعتزاز قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہو جائیں گی۔ دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے وہ عمران خان کے ہمنوا بھی شاید اسی لئے رہے۔تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ مزید فہرستیں سامنے آنے کی صورت میں پیپلز پارٹی کو ہی نہیں دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سیاسی جماعتیں ہی کیوں ہر محکمے، ہر ادارے، ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے نام سامنے آسکتے ہیں۔

فی الحال تو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ مخصوص چینلوں پر اینکروں کی چیخ و پکار( اب تو لگتا ہے کہ ان میں اکثر کا ڈوپ ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ داغ ہی دیا جائے) اور رائے ونڈ جا کر دھرنا دینے کے لئے عمران خان کے دعوؤں کے پیچھے کوئی نہ کوئی سکرپٹ رائٹر ضرور موجود ہے۔ کہا جارہا ہے کہ بعض ریٹائر صاحبان اب بھی تحریک انصاف کی ’’رہنمائی‘‘ فرمارہے ہیں، مگر جہاں تک چینلوں کا تعلق ہے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ تھپکی کے بغیر حکومت اور بالخصوص وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کے بارے میں جرأت رندانہ کا مظاہرہ کر سکیں۔ کوئی نہ کوئی گیم تو ہے۔ اس کھیل کا مقصد حکومت کو گرانا ہے یا مزید تنگ کرنا ،یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ اس حوالے سے عمران خان کی امیدیں تو ایک بار پھر سے جاگ اٹھی ہیں۔ حالیہ گفتگو سن کر لگتا ہے کہ کسی نے کان میں پھونک مار دی ہے کہ وزارت عظمیٰ کا تاج پہننے کا مبارک لمحہ آگیا اور تو اور موصوف نے اپنے تئیں قوم سے خطاب بھی کر ڈالا۔ ستم ظریفوں نے، مگر اس حوالے سے بھی سبکی کا سامان پیدا کر دیا۔ سوشل میڈیا پر عمران خان کی وہ تصویر پوسٹ کی گئی جس میں وہ وزیراعظم کی شیروانی پہن کر قوم سے خطاب کررہے ہیں ،لیکن پیچھے قائداعظمؒ کے بجائے جنرل شجاع پاشا کی تصویر لٹک رہی ہے،ایک اور تصویر میں خود جنرل کی وردی پہن کر اپنی سربراہی میں مارشل لاء لگانے کا اعلان کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا کی ایسی سرگرمیوں سے قطع نظر عمران خان خود کو وزارت عظمیٰ کی کرسی سے محض چند قدم ہی دو رپارہے ہیں۔ ان دنوں حکومت کو دھمکیاں دیتے ہوئے اکثر بے موقع ہنس پڑتے ہیں ،اردگرد موجود ساتھی بھی پارٹی ’’ڈسپلن‘‘ کے تحت مسکرانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سننے اور دیکھنے والے ،مگر سوچ میں پڑ جاتے ہیں۔ ذہن پر ذرا سا زورڈالیں تو گتھی سلجھ جاتی ہے کہ سامنے والوں سے باتیں کرتے کرتے کسی ایک لمحے وجد طاری ہونے پر خان صاحب کو سامنے وزارت عظمیٰ کی کرسی پڑی نظر آتی ہے۔ خیالی طور پر ہی سہی ،مگر منزل کو اتنا قریب دیکھ کر انکی ہنسی چھوٹ جاتی ہے ایسے ہی مناظر اسلام آباد کے دھرنے کے دوران بھی بار بار دیکھنے کو ملتے تھے۔ زمینی حقائق سے واقف لوگوں کو جب خان صاحب کے ہنسنے کی وجہ معلوم ہوتی ہے تو انکا اپنا بھی ’’ہاسا‘‘ نکل جاتا ہے۔

پانامہ لیکس والا معاملا ابھی آگے چلے گا۔ اس سارے حوالے سے نیا اور قدرے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پہلی مرتبہ خود شریف خاندان کے اندر سے مخالفانہ آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ شہباز شریف کے اہل خانہ کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ایک اہلیہ تہمینہ درانی نے گویا ’’حد‘‘ ہی کر دی۔ ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنے سسرالی خاندان پر ’’فرد جرم‘‘ عائد کر ڈالی۔ یہ مطالبہ بھی کر ڈالا کہ شریف خاندان بیرون ملک سے دولت واپس لا کر دے(اس فقرے کا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ لوگوں سے لوٹی گئی دولت انہیں لوٹا دی جائے) یہ کیا ہورہا ہے ،لیکن جو بھی ہورہا ہے شریف خاندان کے اندر ہی ہورہا ہے؟ مکرر عرض ہے کہ اس سارے معاملے کا یہی پہلو نیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف اگر یہ واقعہ کسی گریٹ گیم کا حصہ ہے تو خطرہ غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ہے اور ملک کے اندر موجود اسکے کارندوں سے بھی ،سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اب خطرہ خود اپنے ہی خاندان کے اندر بھی موجود ہے۔ شاید یہ تیسرا نکتہ ہی ہے جو وزیراعظم کو زیادہ بے چین کیے ہوئے ہے۔

مزید : کالم


loading...