وزیراعلیٰ اورنج لائن پر جذباتی کیوں ہیں ؟ ( 2)

وزیراعلیٰ اورنج لائن پر جذباتی کیوں ہیں ؟ ( 2)
 وزیراعلیٰ اورنج لائن پر جذباتی کیوں ہیں ؟ ( 2)

  



وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمجھتے ہیں کہ عوام کو جدید ترین سفری سہولتیں فراہم کرنے میں نہ صرف ان کی محنت کوتسلیم نہیں کیا جا رہا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ غلط اوربے بنیاد پروپیگنڈہ بھی کیا جا رہا ہے جس کے توڑ کے لئے وہ دھڑا دھڑ سیمیناروں سے خطاب کر رہے اور ہر طبقہ ہائے زندگی کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ وزیراعلیٰ اپنے ارکان اسمبلی کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے، حیرت کی بات ہے کہ معدودے دو، چار کے سوا ان کی اپنی پارٹی کے ارکان ان اعداد وشمار سے لا علم ہیں جو بیوروکریسی کی دی ہوئی میٹنگوں میں بیان کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طورپر پروپیگنڈہ کیا گیا کہ یہ دنیا کی مہنگی ترین میٹرو ٹرین ہے اور اس کا جواب وزیراعلیٰ شہباز شریف یہ دیتے ہیں کہ ان کے پراجیکٹ کی بنیادی لاگت1478 ملین امریکی ڈالر ہے ، یہ فی کلو میٹر 54.50 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے اور جب اس کے ساتھ 1626ملین کی کونٹی جینسیز شامل کی جاتی ہیں تو کاسٹ 59.95 ملین ڈالر فی کلومیٹر ہو جاتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں ممبئی میں 2014 میں مکمل ہونے والی میٹرو ٹرین کی فی کلومیٹر کاسٹ 60.7 ،جے پور کی اسی برس مکمل ہونے والی میٹرو ٹرین کی کاسٹ 64.3 ملین امریکی ڈالر، پونے کی 2018 میں مکمل ہونے والی میٹرو ٹرین کی کاسٹ62.21 ملین امریکی ڈالرہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کوپن ہیگن میں 2002 میں میٹروٹرین69.8 ملین امریکی ڈالر میں مکمل کی گئی، جکارتہ میں میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل 2017 میں ہو گی اور اس پر 117.11 ملین امریکی ڈالر فی کلومیٹر کاسٹ آ رہی ہے۔ اس طرح تاثر ملتا ہے کہ وزیراعلیٰ نے اخراجات کو کم رکھنے کے لئے جو حکمت عملی اپنائی اس نے بہترین نتائج دئیے ہیں۔ انہوں نے ایک چارٹ بھی بنا رکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے تعلیم ، صحت اور ڈیویلپمنٹ کے شعبوں میں پچھلے پانچ، چھ برسوں میں بجٹ کو خاطر خواہ بڑھایا ہے لہذا یہ پروپیگنڈہ بھی درست نہیں کہ دوسروں شعبوں کے فنڈز پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔

ایک بہت بڑا پروپیگنڈہ یہ ہے کہ اورنج لائن کی وجہ سے تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچے گا، ایک دلیل تو پہلے آ چکی کہ لاہور سے راولپنڈی جانے والی ریلوے لائن مقبرہ جہانگیر کی دیوار کے ساتھ سے گزرتی ہے اور ہماری پرانی ٹرینوں کی دھمک بہرحال اورنج لائن کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے مگر ان عمارتوں کو ریلوے لائن کی وجہ سے نہیں بلکہ توجہ نہ دئیے جانے کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ اورنج لائن کے روٹ پر شالا مار باغ ہے جس کے ایک سرے پر ٹریک سے فاصلہ 29 میٹر جبکہ دوسرے سرے سے 22.8 میٹر ہے ، گلابی باغ سے کم از کم فاصلہ 20.9 میٹر جبکہ بدھو کے باغ سے18.1 میٹر ہے۔ زیب النساء کے مقبرے سے کم از کم فاصلہ33.5 میٹر اور چوبرجی سے15.9 میٹر ہے۔ سرکاری طور پر یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ان عمارتوں کے علاوہ پنجاب میں پرانی عمارتوں کے تحفظ کے آرڈی ننس 1985 میں سینٹ اینڈریو چرچ کو بھی شامل کیا گیا ہے اور یہاں1975 کے متعلقہ قانون کا بھی احترا م ہوگا۔ سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اورنج لائن کی انتہائی آپریٹنگ سپیڈ 80کلومیٹر سے کم رہے گی ، اوسط رفتار 38 سے 42کلومیٹر کے درمیان رہے گی کیونکہ ہر کلومیٹر کے بعد ایک سٹاپ ہو گا ، اورنج لائن کو اپنے ڈیزائن کی وجہ سے لائیٹ ٹرین کے برابر سمجھا جاسکتا ہے جس کی د س میٹر فاصلے کے بعد جی بی وی یعنی گراونڈ بورن وائبریشن محض پوائنٹ تھری زیرو ایم ایم فی سیکنڈ ہو گی جو ماہرین کے مطابق نظرانداز کر دینے کے قابل ہے دوسرے جب آپ ٹرین کے ٹریک کو بارہ میٹر کی بلندی پر بنارہے ہیں تو اس کا گنجان آباد علاقوں اور تاریخی عمارتوں کے ساتھ مجموعی فاصلہ مزید بڑھ جاتا ہے جو اس سے پیدا ہونے والی لرزش کو مزید کم کر دے گا۔ ہم دنیا سے الگ نہیں ہیں اور دنیا بھر میں اپنے عوام کو بہترین سفری سہولتیں دینے کے لئے ایسی ’’ قربانیاں‘‘ دی جاتی ہیں۔ مثال کے طورپرہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان کے شہروں بنگلور ، چنائی، جے پور، حیدر آباد اور دہلی میں میٹرو ٹرینوں کو تاریخی عمارتوں کے بالکل ساتھ سے گزارا گیا، جے پور میں مسماری بھی ہوئی، دہلی میں کرول باغ ٹمپل سے میٹرو ٹرین کا فاصلہ صرف دس میٹر ہے، چنائی میں یہی میٹر و ٹرینیں مدراس لا کالج، ریپون بلڈنگ اور وکٹوریہ پبلک ہال کے بالکل ساتھ سے گزرتی ہیں۔ مین ہٹن نیو یارک میں میٹرو ٹرین کوبیل لیبارٹریز کے درمیان سے گزارا گیا ہے، روم میں کلوزیم سے اس کا فاصلہ دس میٹر ہے، اسی قسم کی مثالیں فرانس، جرمنی، ملائشیا اور آسٹریا کی بھی ہیں جہاں ویانا میں تیرہویں، سترہویں اور انیسویں صدی عیسوی کی عمارتوں سے فاصلہ آٹھ میٹر سے ڈیڑھ سومیٹر کے درمیان بتایا جاتا ہے۔

اس سے پہلے ایک اور ایشو اٹھایا گیا کہ جن لوگوں کی زمین لی جا رہی ہے انہیں مناسب معاوضہ نہیں دیا جا رہا،اس امر کی گواہی تو میں بھی دوں گا کہ ون ونڈو آپریشن کے تحت متاثرین کو ہر ممکن طریقے سے اکاموڈیٹ کرنے کی کوشش کی گئی، میں نے ڈی سی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ محمد عثمان کے ساتھ ساتھ وزراء، ارکان اسمبلی ہی نہیں پٹواریوں تک کو بستوں کے ساتھ وہاں حاضر دیکھا۔ بعض مقامات پر یہ تنازع ضرور رہا کہ کچھ لوگوں کے پاس گھروں کی ملکیت کے ثبو ت نہیں تھے یا وارثت سمیت دیگر جھگڑے تھے، وہاں ضرور تاخیر ہوئی ورنہ اس سے ہٹ کر علاقوں سے ڈی سی ریٹ اور مارکیٹ ریٹ کو سامنے رکھتے ہوئے ادائیگیاں کی گئیں۔ بنگالی بلڈنگ میں جو کہ متروکہ وقف املاک کی پراپرٹی تھی وہاں وزیراعلیٰ کی خصوصی امداد سے ہر خاندان کو دس لاکھ روپے دئیے گئے، یہی حکمت عملی مہاراجا بلڈنگ اور وقف املاک بلڈنگ گیتا بھاوان نزد لکشمی چوک میں بھی اختیار کی گئی۔ کپورتھلہ ہاوس، کچالیک روڈ، جین مندر اور ایڈورڈ روڈ میں رہائشی زمین کا پچیس لاکھ روپے اور کمرشل زمین کا پینتیس لاکھ روپے مرلہ تک دیا گیا،ا ن میں سے کئی محض قابضین تھے کہ ان کے پاس ملکیت کی باقاعدہ قانونی دستاویزات موجود نہیں تھیں۔ اس تمام مرحلوں پر بھی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خصوصی دلچسپی لی کیونکہ بعض علاقوں میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے مقامی رہنماوں نے رہائشیوں کے ساتھ ساتھ اپنے کارکنوں کی مدد سے احتجاجی مظاہرے شروع کر دئیے تھے۔

میرا کہنا یہ ہے کہ لاہور تیزی سے پھیلتا ہوا شہر ہے،یہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کا دارلحکومت اور ملک کادوسر ا بڑا شہر ہے، اسکی آبادی ایک کروڑ سے اوپر ہو چکی، لاہور میں روزانہ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ لوگ موجود ہوتے ہیں، اس سے ہٹ کر لاہور کی آبادی میں سالانہ تین فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں اب روایتی بسیں ، ویگنیں اور چنگ چی جیسی سواریاں پبلک ٹرانسپورٹ کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتیں۔ لاہور میں رجسٹرڈ ہونے والی گاڑیوں میں 2001 سے2008 کے دوران سو فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد یہاں کی سڑکیں چھوٹی اور کم پڑگئیں۔ اگر ہم اپوزیشن اور سول سوسائٹی کے مظاہروں کو ہی دیکھتے رہتے تو یقینی طور پر ا س وقت لاہور کا ہر چوک بند ہوتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں ذاتی سواری کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی عادت کو فروغ دیا جائے مگر یہ اسی صورت ہی ممکن ہے جب ایسی پبلک ٹرانسپورٹ موجود ہوگی جو شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں ملاتے ہوئے شہریوں کو مرغابنے اور کپڑے گندے کئے بغیر منزل تک پہنچانے کی اہلیت رکھتی ہو گی۔ میٹرو بس کے منصوبے کو لاہور والوں نے زبردست طریقے سے ویلکم کیا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اپوزیشن اور شہریوں کو اس منصوبے پر اعتراضات کا حق نہیں ہے مگر دوسری طرف یہ امر بھی حقیقت ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں جتنی بھی تاخیر ہو گی اس سے شہریوں کو درپیش مسائل کی عمر بھی بڑھے گی اور دوسرے تاخیر کی وجہ سے اس منصوبے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق تاخیر کی وجہ سے مجموعی طور پر ہر روز اکاون ملین یعنی پانچ کروڑ روپوں سے بھی زیادہ کا نقصان ہو گا جو کہ ہمارے خون پسینے کی کمائی سے اکٹھے ہونے والے ٹیکسوں سے ہی بھرنا پڑے گا۔

میں جب وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو اس منصوبے بارے جذباتی دیکھتا ہوں تو اس رویے کو ڈرامہ نہیں بلکہ جائز اور منطقی سمجھتا ہوں مگر انہیں کچھ اور منصوبوں بارے بھی ایسا جذباتی ہونا چاہیے۔

مزید : کالم


loading...