پاکستان علماء کونسل میدان میں ، مدارس اور مساجد کا دہشت گردی سے تعلق نہیں

پاکستان علماء کونسل میدان میں ، مدارس اور مساجد کا دہشت گردی سے تعلق نہیں

  



لاہور سے چوہدری خادم حسین :

پاکستان علماء کونسل کی طرف سے منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں وفاق المدارس کی طرف سے ایک ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق رجسٹرڈ مدارس نہ صرف طلباء کے کوائف اور ان کی رجسٹریشن کا خاص خیال رکھیں گے بلکہ کسی غیر معروف کو ان مدارس میں ٹھہرایا نہیں جائے گا ۔ علماء کونسل کے زیر اہتمام اس سیمینار کی صدارت صدر علامہ طاہر اشرفی نے کی اور اس سے دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ محراب وسبز کے وارثوں کو حالات کے جبر سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس اور مساجد کا دہشت گردی اور انتہاپسندی سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اب ان کو بھی بہادری سے حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ علماء کونسل مسلسل دہشت گردی کے عفریت کی مخالفت کرتی چلی آ رہی ہے کہ دین میں جبر نہیں اور مسلمان کو مسلمان کا خون بہانے کی اجازت نہیں ہے۔ یوں یہ سیمینار بھی مدارس اور مساجد کی اہمیت واضح کرنے کے لئے ہی منعقد کیا گیا تھا۔ یہ ایسا قدم ہے کہ خود اپنی حلقوں نے احساس کر کے دہشت گردی کے خلاف عوامی رائے بنانے کی بھی کوشش کی ہے۔

لاہور ان دنوں مختلف سیاسی اور معاشی نوعیت کی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ سرکاری سکولوں کے اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں، وہ سکولوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ پچھلے روز لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا گیا اور ٹریفک بند کی گئی اب یہ خبر ہے کہ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں مسائل حل کرانے کے لئے مظاہروں کی دھمکی دی ہے، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے مطابق اگر ترقیوں کی پالیسی کے حوالے سے ان کی بات نہ مانی گئی تو 13اور 21 اپریل کو لاہور میں علامتی احتجاج کریں گے اور دونوں روز لاہور کی ٹریفک بلاک کر دی جائے گی۔ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے مطالبات مان کر ان کو پورا نہیں کیا ان دو دنوں کے احتجاج کے بعد یہ بات نہ مانی گئی تو پھر نیا احتجاجی پروگرام مرتب کرکے تحریک شروع کی جائے گی۔ ڈاکٹروں کی طرف سے ہڑتال اور اس نوعیت کے مظاہروں کی عوام میں پذیرائی نہیں ہوتی۔ بلکہ عوامی ہمدردیاں اور جذبات بدل جاتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کو احتجاج کے وقت اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ان کو عوامی کی حمایت کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی نے پورے ملک میں کرپشن کے خلاف مہم یا تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اتوار کو جماعت اسلامی کی طرف سے پورے ملک میں مظاہرے کئے گئے۔ اور ان کا موضوع پانامہ لیکس کے انکشافات تھا۔ مظاہروں میں کرپشن کے حلاف پلے کارڈ اور بیینرز بھی تھے اور نعرے بھی لگائے جا رہے تھے۔ لاہور میں امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد کی قیادت میں مصطفے ٹاون میں مظاہرہ کیا گیا۔ نعرے بازی ہوئی اور مطالبہ کیا گیا کہ پانامہ لیکس کے انکشافات کی درستگی میں چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن قائم کر کے تحقیقات کرائی جائے۔

تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے اتوار کو ایک بڑا دھماکہ کر دیا ان دنوں پاکستان تحریک انصاف (انٹرا پارٹی) جماعتی انتخابی عمل سے گزر رہی ہے۔ پنجاب کی صدارت کے لئے سابق گورنر چوہدری محمد سرور امیدوار اور سرگرم عمل ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں قومی اسمبلی کے رکن شفقت محمود امیدوار ہیں۔ دونوں کی انتخابی مہم جاری ہے۔ جہانگیر ترین اور عبدالعلیم خان کی حمایت چوہدری سرور کو حاصل ہے۔ جبکہ شفقت محمود حامد خان کے بعد شیریں مزاری اور اب شاہ محمود قریشی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اتوار کو ورکرز کنونشن میں شفقت محمود کی حمایت کی گئی۔ شیریں مزاری نے تو ان کے حق میں رائے دی اور کارکنوں سے کہا کہ ان کو منتخب کریں تاہم شاہ محمود قریشی اپنے روایتی گھن گرج والے انداز میں جہانگیر ترین اور چوہدری سرور پر برس پڑے انہوں نے یہ تک کہہ دیا کہ اللہ وہ دن نہ لائے جب مجھے جہانگیر ترین اور چوہدری سرور سے پارٹی ٹکٹ مانگنا پڑے۔ اس سے تو یہ بہتر ہو کہ میں سیات کو خیر آباد کہ کر گھر بیٹھ جاوں۔ انتخابات جماعتی ہوں ملکی یا کسی تنظیم کے جب ہوتے ہیں ایسی ضرورت پیدا کی جاتی ہے اندر دھرے بندی ہوتی ہے۔ عمران خان یہ تجربہ دوسری مرتبہ کر رہے ہیں اگر دوسری بار ایسا ہوا لیکن اس بار اختلافات کی نوعیت شدید ہے جو جماعت کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی۔

ادھر عسکری اور سیاسی قیادت نے باغی سمجھوتے کے تحت آپریشن شروع کر رکھا ہے اور ا سے مزید بہتر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ دوسری طرف مقامی(ضلعی سول + پولیس) انتظامیہ تاحال شہر کے لئے سکیورٹی انتظامات بہتر نہیں کرسکی اور نہ ہی سکیورٹی سکیم پر عمل ہو رہا ہے۔ پارک بند ہیں تو متعدد اتوار بازار بھی سکیورٹی کا آپریشن نہ ہونے سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں عوام کو پریشانی کا سامناہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...