ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے آئین ہی کا سہارا لازم ہے

ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے آئین ہی کا سہارا لازم ہے

  



کراچی سے نصیر احمد سلیمی:

اب رہی نہ معتبر کسی معتبر کی بات؛

سندھ کے حوالے سے اور خصوصاً کراچی کے سیاسی منظر نامہ کے تناظر میں زیر بحث موضوع ایک سے زیادہ ہیں مگر ’’پاناما لیکس‘‘ کے بطن سے جنم لینے والے بحران نے اقتدار پر فائز سیاسی قیادت کو ہی ’’دباؤ‘‘ میں نہیں لیا ہے، بلکہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی اس دباؤ سے آزاد نہیں رہ پائیں گی۔ اب غلطی کی ذرا سی بھی گنجائش مسند اقتدار پر متمکن لوگوں کے پاس رہی ہے اور نہ ہی ان کو اقتدار سے محروم کرنے کے خواہش مندوں کے پاس ہی ہے۔ ’’پاناما لیکس‘‘ سے پیدا ہونے والے بحران سے بڑا بحران وطن عزیز کے لئے یہ ہے کہ ہم نے کرپشن کے ساتھ غلط بیانی ،جھوٹ اور اقرباپروری کو بھی اخلاقی دائرے سے نکال کر قانون کے ضابطے کے اندر مقید کر دیا ہے۔ اب کرپشن کرنے کی طرح غلط بیانی کرنے ،جھوٹ اور اقرباپروری میں کھلی چھوٹ ہے جس کی وجہ سے صورت حال جناب الطاف حسن قریشی کے اس مصرعہ کے مصداق ہے کہ ’’اب رہی نہ معتبر کسی معتبر کی بات‘‘۔

آج کا سب سے بڑا بحران خلق خدا کا اقتدار پر فائز سیاسی قیادت کے ساتھ ان کی جگہ لینے کی خواہش مند حزب اختلاف کی (کسی استثنا کے بغیر)ساری قیادت کی اہلیت اور صلاحیت پر سے اعتماد اور اعتبار کا مجروح ہونا ہے۔ جب تک یہ بحال نہیں ہو گا تو ریٹائر ججز نہیں، حاضرسروس پوری سپریم کورٹ پر مشتمل فل کورٹ بھی ’’پاناما لیکس‘‘ سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھا کر مہم جوئی کے جنون میں مبتلا معرکہ سر کرنے والوں کی آتش کو ٹھنڈا نہیں کر پائے گا اور نہ ہی دستور کی حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق کوئی ایسا فیصلہ کرپائے گا جو یہ ثابت کر سکے کہ اقتدار پر فائز اور اقتدار سے رخصت ہونے والوں کے بیرون ملک اثاثوں میں سے کون کون سے اثاثے جائز ہیں اور کون کون سے ’’منی لانڈرنگ‘‘ کے ذریعے کالے دھن سے بنے ہیں اور نہ ہی اس کا علاج وہ ’’عطائی‘‘ نظام ہے جس کا تجربہ ایک بار نہیں چار بار کیا جا چکا ہے۔ وطن عزیز میں کرپشن بدعنوانی اور ریاست کے وسائل کو شیرمادر کی طرح ہضم کرکے ڈکار نہ لینے کی ریت اس کی ہی دین ہے۔ کون نہیں جانتا ہم نے 1947ء میں بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظمؒ کی قیادت میں قانون کی حکمرانی کی ہر حال میں سختی کے ساتھ پابندی کرنے کے عملی مظاہرہ کی روایات قائم کرکے جس سفر کا آغاز کیا تھا اگر اسے سول اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت اور بیرونی ’’طاقت وروں‘‘ کی مدد سے ’’عطائی نظام‘‘ کی بھینٹ نہ چڑھایا جاتا تو آج وطن عزیز ان ملکوں کی صف میں نمایاں مقام پر کھڑا ہوا ہوتا۔ جو ترقی پذیر سے نکل کر ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں داخل ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ 1947ء سے 1958ء تک اقتدار میں رہنے والی سیاسی قیادت نے بہت سی غلطیاں بھی کی ہوں گی اور ان کے ذاتی عمل اور کردار میں خامیاں اور کمی بھی ہوگی مگر کوئی بتائے کہ 1947ء سے لے کر 1958ء تک اقتدار میں رہنے والے کسی شخص پر سرکاری خزانہ اور سرکاری وسائل کی لوٹ مار کا کسی نے الزام بھی لگایا ہو۔ قائداعظمؒ نے تو صوابدیدی اختیار کو ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر استعمال کرنے پر اپنے ذاتی دوست اور تحریک پاکستان کی جدوجہد میں نہایت فعال کردار ادا کرنے والے رہنما جناب آئی آئی چندریگر کو کابینہ سے رخصت کرنے میں تامل نہیں کیا تھا۔واضح رہے کہ جناب آئی آئی چندریگر مرحوم نے وزیر تجارت کی حیثیت سے حاصل صوابدیدی اختیار کے تحت اپنے ایک ایسے رشتہ دار کو ’’امپورٹ ایکسپورٹ‘‘ کا لائسنس جاری کر دیا تھا۔ جو تجارت نہیں کسی نجی ادارے میں ملازمت کرتا تھا۔ قانون کی حکمرانی کی روایات کی سختی کے ساتھ پابندی کی جو اعلیٰ مثالیں بانی پاکستان نے ذاتی عمل سے قائم کی تھیں وہ تو ہیں ہی سنہری الفاظ میں لکھنے کے قابل۔ ایثار و قربانی کی اعلیٰ روایات کا تسلسل ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان نے قائم رکھا اور ان کی شہادت کے بعد بھی کسی وزیراعظم پر 1958ء تک سرکاری خزانہ کی لوٹ مار کا کوئی الزام نہیں لگا۔ جنرل ایوب خان نے بھی ایبڈو کے کالے قانون کے تحت جن سیاست دانوں کو سیاست سے باہر کیا۔ ان پر صوابدیدی اختیارات کا قاعدے قانون سے ہٹ کر استعمال کا الزام تھا۔ 1958ء تک اقتدار میں رہنے والے سیاست دانوں پر اور 1958ء کے پہلے مارشل لاء کی مزاحمت کرنے والی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کی بنیادی خصوصیت یہ رہی تھی کہ سیاست میں آنے کے بعد ان کی جائیدادوں اور کاروبار میں اضافہ کے بجائے کمی آئی تھی۔ انہوں نے اپنی آبائی زمینوں کو فروخت کرکے جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کی مزاحمت کی تحریک کو زندہ رکھا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں اور اپنے ساتھ سیاسی جدوجہد میں شریک کارکنوں کے چولہے بھی ٹھنڈے نہیں ہونے دیئے تھے اور اس احتیاط کے ساتھ کہ ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو۔ کاش 1958ء میں مزاحمت کرنے والوں اور اس نظام کی نرسری میں داخلہ لے کر شریک اقتدار ہونے والوں کو نظام کے خالق کی رخصتی کے ساتھ ہی سیاست کو خیرباد کہنے پر مجبور کر دیا جاتا تو وطن عزیز شائد سقوط ڈھاکہ کے سانحہ سے بچ جاتا۔ کیسی بدقسمتی ہے کہ ’’اس نظام‘‘ کے ہر تجربہ کے بعد اس کی نرسری میں داخلہ لے کر شریک اقتدار کوئی گروہ نہ تو منتخب ہونے کے باوجود امور مملکت اور انداز حکمرانی میں آئین کی بالادستی کو مستحکم کر سکا ہے اور نہ ہی گڈ گورننس کی روایات کو پروان چڑھا سکا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ’’عطائی نظام‘‘ کے ہر تجربہ کے بعد جو قیادت ابھری ، ان کے دور میں ’’باڑ ہی کھیت‘‘ کو کھاتی رہی ہے۔ خدا کرے ’’پاناما لیکس‘‘ سے پیدا ہونے والا بحران ہمیں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے ذریعہ گڈگورننس کی طرف لے جائے۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب حکومت اور حزب اختلاف ’’پاناما لیکس‘‘ کی تحقیقات چیف جسٹس آف پاکستان کے سپرد کرکے اس کے نتائج آنے تک ’’بلیم گیم‘‘ کی سیاست کے ذریعے پوائنٹ سکورنگ کا کھیل ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔

دباؤ میں حکومت ہی نہیں ہے حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بھی آ چکی ہیں۔ کراچی کے ضمنی انتخابات میں ایم کیو ایم انتخابی معرکہ جیتنے کے باوجود شدید دباؤ اور نت نئے بحرانوں سے دوچار بھی ہے۔ الطاف حسین کے نئے باغیوں کی جماعت ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں آ سکے گی یا نہیں؟ اس کا کچھ اندازہ 24اپریل کے جلسہ میں ہو جائے گا۔ تاہم حقیقی اندازہ کسی ایسے انتخاب میں ہی ہو سکے گا جس میں وہ کسی کی حمایت کا اعلان کرے گی یا پھر 2018ء کے عام انتخاب میں اس کی کارکردگی سامنے آئے گی۔ ’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ کے رہنما رضا ہارون نے تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کی جو بات کی ہے، اس کی تائید تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی کر دی ہے، مگر سوال یہ ہے ابھی تک ’’پاک سرزمین‘‘ پارٹی میں ایم کیو ایم کے قائد سے بغاوت کرکے جو لوگ شریک ہوئے ہیں، کم و بیش ان بر ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہونے ،قتل و غارت گری اور بھتہ خوری میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی اخلاقی ساکھ کیا رہ جائے گی؟ بلکہ خود ان کی جماعت کے لوگوں کے لئے بھی کراچی میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا۔ یہ درست ہے کہ ایم کیو ایم کا اس ضمنی انتخاب میں ووٹ سکڑ کر صوبائی حلقہ 115 میں صرف سات فیصد رہ گیا ہے اور حلقہ 245 میں صرف دس فیصد رہ گیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کا کوئی فائدہ تحریک انصاف کو بھی ہو جائے گا۔ اس ضمنی انتخاب نے تو تحریک انصاف کا وہ بھرم بھی کھو دیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ 2013ء کے عام انتخابات میں اس کا مینڈیٹ چرایا گیا تھا، 2013ء کے عام انتخابات میں کراچی میں بلاشبہ ایم کیو ایم کے بعد تحریک انصاف کو سب سے زیادہ ووٹ پڑے تھے۔ کراچی میں تحریک انصاف کو 2013ء میں آٹھ لاکھ کے قریب ووٹ پڑے تھے مگر ضمنی انتخابات میں اور بلدیاتی انتخاب میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک ایم کیو ایم کے مقابلے میں بہت زیادہ سکڑا ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس ضمنی انتخاب میں تو اس کا ووٹ بینک اور بلدیاتی انتخاب میں اس کی اتحادی جماعت، جماعت اسلامی کا تو انتخابی منظر نامہ پر وجود ہی معدوم نظر آیا ہے۔ اس نے تو اپنا امیدوار کھڑا کیا اور نہ ہی کسی کی حمائت کا اعلان ہی کیا۔جماعت اسلامی پر کراچی میں اتنا بُرا وقت بھی آنا تھا؟ کوئی جماعت اسلامی کی سیاست سے لاکھ اختلاف کرے، مگر کراچی میں ایم کیو ایم کی فسطایت کا جم کر تین عشروں تک کسی نے ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا ہے تو وہ جماعت اسلامی تھی۔سیاسی میدان میں ایم کیو ایم پر کسی جماعت کا دباؤ تھا تو وہ صرف جماعت اسلامی تھی مگر وہ اپنے مرکزی امیر جناب سراج الحق کی ’’مہم جوئی‘‘ کی پالیسی اور عاقبت نااندیش فیصلوں کے سبب اس حال کو پہنچ گئی ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں وہ حیثیت بھی برقرار نہیں رکھ پائی ہے جو اس نے 2005ء کے بدترین دھاندلی والے بلدیاتی انتخاب میں رکھی تھی۔ قومی یکجہتی کے لئے ملک گیر سیاسی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہے۔ جماعت اسلامی کی انتخابی طاقت جتنی بھی کم ہو، مگر وہ ملک گیر جماعت ہونے کی وجہ سے ایک قومی اثاثہ ہے۔ جو سیاسی عمل کو توانا رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔ جناب سراج الحق کو جماعت اسلامی کے اس بحران پر قابو پانے کی پوری سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہیے اور خود احتسابی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، انہیں جماعت اسلامی کے دستور میں درج احتسابی نظام کو فعال کرکے اس بحران سے نکلنا چاہیے، تب ہی ان کی کرپشن فری ’’مہم جوئی‘‘ کا کوئی اخلاقی جواز پیدا ہو سکے گا، بدقسمتی سے آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لئے ملک گیر سیاسی جماعتوں کو جتنا توانا ہونا ضروری ہے وہ توانا ہونے کے بجائے داخلی خلفشار کا شکار ہو کر ان قوتوں کو مایوس سے مایوس تر کرتی چلی جا رہی ہیں۔ جو یہاں صاف شفاف انتخابی عمل کے ذریعہ منتخب حکومتوں کو ملک کی بقاء اور سلامتی کے لئے ناگزیر سمجھتی ہیں۔ تحریک انصاف کا داخلی بحران بھی مایوسی میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے انٹرپارٹی الیکشن کے التوا کا جواز جناب عمران خان لاکھ پاناما لیکس کے خلاف احتجاجی تحریک کو بنائیں مگر یہ آنے والے دنوں میں ان کے لئے نت نئے بحران پیدا کرتا رہے گا۔

مزید : ایڈیشن 1