تحریک انصاف میں دھڑے بندی کیا رنگ لائے گی؟ جہانگیر ترین کا پلڑا بھاری

تحریک انصاف میں دھڑے بندی کیا رنگ لائے گی؟ جہانگیر ترین کا پلڑا بھاری

  



ملتان سے شوکت اشفاق:

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان ایک طرف پانامہ لیکس کو وجہ بنا کر (ن) لیگ حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ’’قوم‘‘ سے خطاب میں اپنے ’’عزیز ہم وطنوں‘‘ سے وعدہ کر رہے ہیں کہ اب کی مرتبہ وہ ڈی چوک دھرنے کی طرح اختتام نہیں کریں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ جبکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف سے ایک مرتبہ پھر استعفیٰ کا مطالبہ بھی کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اب ’’ایمپائر‘‘ کی انگلی اٹھ گئی ہے، لہذا اب نواز حکومت کو جانا ہو گا۔ کیونکہ انہوں نے قوم سے حقائق چھپائے ہیں، اس لئے پہلے استعفیٰ پھر کمشن کا قیام ہو گا تاہم انہوں نے قوم کو یہ نہیں بتایا کہ اس حکومت کے استعفیٰ کے بعد کس قسم کا سیٹ اپ یا نظام وہ توقع کر رہے ہیں اب جو مطالبات اور توقعات انہوں نے خطاب کے بعد قوم سے وابستہ کر لی ہیں وہ پوری ہوتی ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا کیونکہ اس پورے خطے میں کم از کم ان جیسے الزامات پر کبھی کوئی حکومت ’’گھر‘‘ نہیں گئی ہاں البتہ اگر کوئی اور ’’الزام‘‘ ہو تو شاید ’’ایمپائر‘‘ بھی انگلی اٹھا سکتا ہے، مگر ان کی اپنی پارٹی میں مرکزی سطح پر دراڑ نہیں بلکہ دراڑیں پڑ رہی ہیں اور اگر عمران خان نے اس کا بروقت سدباب نہ کیا تو انہیں ناقابل تلافی سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ ان کی پارٹی کے مرکزی رہنماء اور قومی اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر مخدوم شاہ محمود حسین قریشی نے چوہدری سرور اور جہانگیر خان ترین کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ کم از کم چوہدری سرور انہیں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے نہیں ہٹوا سکتے اور نہ ہی جہانگیر خان ترین ’’کچھ‘‘ کر سکتے ہیں مخدوم صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پارٹی کے سینئر رہنما ہیں لہذا اگر آنے والے عام انتخابات میں چوہدری سرور اور جہانگیر خان ترین نے ہی پارٹی ٹکٹ تقسیم کرنے ہیں تو وہ پرانے دو رہنماؤں کے ہاتھوں سے ٹکٹ لینے کی بجائے سیاست چھوڑنے پر ترجیح دیں گے کیونکہ یہ دونوں ’’یونٹی‘‘ کے نام پر پارٹی کی یونٹی کو تباہ کر رہے ہیں انہوں نے چوہدری سرور پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ جس وقت تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کیا جا رہا تھا اس وقت وہ گورنر ہاؤس میں بیٹھے کافی پی رہے تھے اور ڈی چوک دھرنے میں ان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے تاہم مخدوم شاہ محمود قریشی نے عمران خان پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ عمران خان بھی ان پر اعتماد کرتے ہیں اس لئے انہوں نے ان (عمران خان) کے لئے وزارت خارجہ کو چھوڑ دیا تھا۔

اب یہ بات کس حد تک درست ہے اور کانوں کے سیاسی کچے عمران خان اس بات کو کس طرح لیتے ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر یہ واضح ہے کہ پارٹی کا نظریاتی گروپ جن میں شفقت محمود (جو تحریک انصاف پنجاب کی صدارت کے امیدوار بھی ہیں) سیف اللہ خان نیازی، حامد خان ایڈووکیٹ، ڈاکٹر یاسمین راشد، منزہ حسن شیریں مزاری، سلونی بخاری، رائے عزیز اللہ خان اور ڈاکٹر علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال بھی شامل ہیں اس وقت ان کے ساتھ ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ نظریاتی کارکنوں کو پارٹی کے ہر سطح پر آنا چاہیے ’’پیرا شوٹر‘‘ کے لئے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے، انہوں نے اس الزام کی بھی تردید کی وہ پارٹی کے اندر دھڑے بندی کر رہے ہیں۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ مخدوم شاہ محمود قریشی، تحریک انصاف پنجاب کی صدارت کے لئے چوہدری سرور کی نہ صرف مخالفت کر رہے ہیں بلکہ اس کے لئے وہ پیپلز پارٹی کے سابق سینئر اور تحریک انصاف کے موجودہ رہنماء شفقت محمود کے لئے مہم بھی چلا رہے ہیں جس کے لئے انہوں نے پارٹی کے نظریاتی گروپ کو متحرک کیا ہے لیکن دوسری طرف جہانگیر ترین، چوہدری سرور کے کیمپ میں کھڑے نظر آرہے ہیں اور پنجاب کی صدارت کے لئے وہ ان کے لئے لابنگ کر رہے ہیں جو دیکھنے اور سننے میں موثر نظر آرہی ہے اس کی وجہ جہانگیر ترین کا لودھراں کے ضمنی الیکشن میں ن لیگ کے امیدوار کو تاریخی شکست دینا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پارٹی کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ن لیگ کو ایک بڑا سیاسی دھچکا بھی لگا ہے یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر جہانگیر ترین کی بات کو کچھ نہ کچھ وزن ضرور دیا جاتا ہے جبکہ عمران خان کے ’’کان‘‘کے قریب ہونا بھی ان کے لئے پلس پوائنٹ ہے، جو یقیناًمخدوم شاہ محمود قریشی کے لئے ایک چیلنج ہے اب وہ اس چیلنج کو کس طرح لیتے ہیں یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن ایک بات واضح نظر آرہی ہے کہ تحریک انصاف کی اندرونی دھڑے بندی یا دھڑے بندیاں ایک ایسے موقع پر سامنے آرہی ہیں جب پارٹی چیئر مین عمران خان نواز حکومت کے خلاف ایک مرتبہ پھر دھرنا دینے اور تحریک چلانے کا اعلان کر چکے ہیں ایسی صورت میں ان کا دھرنا کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہو گا لیکن اگر عمران خان کے سیاسی مشیر ہیں اور سیاسی ادراک بھی رکھتے ہیں تو انہیں یہ مشورہ عمران خان کو دینا ہو گا کہ وہ پہلے پارٹی کے اندر جھگڑے اور دھڑے بندی کو ترجیح دیں، یہ بات ان کے لئے ماننا تو بہت مشکل ہے لیکن انہیں ڈی چوک دھرنے کے اختتام کی ’’رام کہانی‘‘ کو یاد رکھنا ہو گا۔ کیونکہ اس مرتبہ کوئی ’’اور‘‘ ’’جمہوریت‘‘ کے لئے قربان ہو سکتا ہے جس کی ’’صدائے بازگشت‘‘ خود انہیں بھی سنائی دے رہی ہو گی۔

ہم ’’سیاست‘‘ میں اتنے مصروف ہیں کہ ہمیں اپنے ارد گرد کے بارے میں بھی معلوم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے کہیں روز گار مہیا کرنے کے نام پر اور کہیں علاقائی ترقی کے چرچے کر کے ایک ایسا بیمار اور اپاہج معاشرہ بنانے کی بنیادیں رکھ دی گئیں ہیں جو ان علاقوں کی نسلیں آئندہ سینکڑوں سال تک اس سے نہیں نکل سکیں گی۔ غربت زدہ یہ معاشرہ پہلے بھی سینکڑوں سال سے استحصال کا شکار رہا ہے اور اب بھی یہ سزا اسی کو ہی بھگتنا پڑ رہی ہے۔ ضلع مظفر گڑھ کی تحصیل کوٹ ادو کے علاقے سنانواں کے قریب ایک چھوٹا سا قصبہ ہے جو موضع گورمانی شرقی کہلاتا ہے ہاں بالکل یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے نواب مشتاق گورمانی اس ملک کے کرتا دھرتا یعنی حکمرانوں میں شامل رہے ہیں اور خیر سے اب بھی اس خاندان میں کبھی نہ کبھی کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی طرح ہر حکومت کے ساتھ ہوتا ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی ’’ شیر پنجاب‘‘ سابق گورنر پنجاب، سابق وفاقی وزیر اور تہمینہ درانی کے سابق خاوند ملک غلام مصطفی کھر بھی اسی علاقے سے ہیں جہاں زیر نظر تصویر میں یہ تینوں بچیاں اپاہج نظر آرہی ہیں یہ عام بچوں کی طرح بالکل ٹھیک پیدا ہوئیں تھیں مگر یہ صرف 3 نہیں ہیں بلکہ اس بستی کے کم و بیش 40 بچے اور بچیاں اس پراسرار بیماری کا شکار ہیں جس کے بارے میں محکمہ صحت نے یہ کہہ کر جان چھڑالی تھی کہ موروثی اور آپس کے خاندانی رشتوں کا نتیجہ ہے لیکن شاید ایسا نہیں ہے کیونکہ ایک طرف تو اس علاقے میں غربت کی وجہ سے غذائی کمی ہے جبکہ تین پاور جنریشن پلانٹس ایک بڑی آئل ریفائنری اور پانچ شوگر ملوں کا اس علاقے میں موجود ہونا نہ صرف اس علاقے کے لئے ماحولیاتی آلودگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ خوراک میں بھی مسائل آرہے ہیں وجہ کوئی بھی ہو لیکن اتنی بڑی تعداد میں اس خوفناک بیماری کے بارے میں حکومت پنجاب کو اس پر فوری طور پر توجہ کرنی چائیے اور محکمہ صحت کے عملے اور ڈاکٹرز کو اس حوالے سے متحرک کر کے اس علاقے کا دورہ کرنا چاہیے اور اس بارے ان متاثرین کے ٹیسٹ کر کے اس خطرناک بیماری کی وجہ معلوم کر کے ان کے علاج معالجے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر عمل کرنا چاہیے، میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین اور موٹر ویز ضرور بن جائیں گی کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ بھی ضرور لگنا چاہیے لیکن اس بجلی کو استعمال کرنے کے لئے اور ان موٹر ویز اور ٹرینوں پر سفر کرنے والے بھی تو چاہیے ، اگر یہ نہیں ہوں گے تو پھر کون ہو گا؟ کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی جواب ہے؟

مزید : ایڈیشن 1


loading...