سیلاب، زلزلہ اور حملے خیبر پختونخوا قدرتی آفات اور دہشتگردی کی زد میں رہا

سیلاب، زلزلہ اور حملے خیبر پختونخوا قدرتی آفات اور دہشتگردی کی زد میں رہا

  



بابا گل سے:

خیبرپختونخوا گزشتہ ہفتے قدرتی آفات اوردہشتگردی کی زد میں رہا آسمانی بجلی گرنے سے کوہستان میں 30 افراد جاں بحق ہوئے یہ تمام افراد آسمانی بجلی گرنے کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے تلے دب گئے امدادی کاروائیوں میں ناکامی کے بعد اسی ملبے کے ڈھیر کو اجتماعی قبر قرار دیا گیا چترال اور کوہستان سمیت شمالی علاقہ جات میں مجموعی طور پر 100 سے زائد افراد سیلاب کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے سیلابی ریلوں نے مانسہرہ ،ناران ،کوہستان اور شمالی علاقہ جات کا انفراسٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا بیشتر شاہرا میں سیلاب کی نذر ہوگئیں جبکہ جگہ جگہ لینڈ سلائیڈنگ نے بھی ذرائع آمد وروفت کو معطل کرکے رکھ دیا سینکڑوں ملکی وغیر ملکی سیاح ان علاقوں میں پھنس گئے پاک فوج کے دستے ایک طرف پھنسے ہوئے سیاحوں کو نکالنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف تباہ شدہ سٹرکوں کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کررہے ہیں پاک افواج کے دستے متاثرہ علاقوں میں اشیاء خوردونوش بھی پہنچا رہے ہیں دشوار علاقوں میں پھنس جانے والے سیاحوں میں تھالی لینڈ کے سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے جن میں خواتین اور بچے بھی ہیں۔

سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریاں ابھی جاری تھیں کہ 7.1 ریکٹر سکیل کے زلزلے نے خیبر پختونخوا کو جھنجوڑ کررکھ دیا کوہ ہند وکش سے اٹھنے والی زلزلے کی لہریں ایک منٹ سے زائد وقت تک جاری رہیں پورا صوبہ تقریبا 80 سیکنڈ تک جھولتا رہا اور لوگ توبہ استغفار کرتے اور اذانیں دیتے سٹرکوں گلیوں میں دوڑتے رہے اس زلزلے نے بھی مزید 8 افراد کی جاں لی اور درجن بھر سے زائد افراد زخمی ہوئے ۔

قدرتی آفات کی اس خوفناک لہر کے دوران ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کے علاوہ دہشتگردوں نے دو بڑے حملے کئے پہلا حملہ کرم ایجنسی کے مقام پرافغانستان سے پاک افواج کی چوکی پر کیا گیا حملہ آور دہشتگردوں کی تعداد 50 سے 60 تک بیان کی گئی ہے جو جدید خود کار اور بھاری اسلحہ سے لیس تھے پاک فوج کے چوکس جوانوں نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے 18 دہشتگرد مار ڈالے جبکہ اتنی ہی تعداد میں دہشتگرد زخمی ہوئے اور یوں یہ حملہ پسپا ہوگیا اس کارروائی میں پاک فوج کے دوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں یہ حملہ افغانستان میں موجود داعش کی اس دھمکی کے دو روز بعد کیا گیا جس میں داعش نے نیٹ کے ذریعے کرم ایجنسی پر لشکر کشی کا اعلان کیا تھا دہشتگردی کی دوسری بڑی کاروائی پشاور کے نواحی علاقے بدھو ثمر باغ میں ہوئی جہاں دہشتگردوں نے انسداد پولیو ٹیم کو مارنے کیلئے پہلے سے نصب بم کا دھماکہ کیا اس دھماکہ کے نتیجے میں پولیو ٹیم کی سیکورٹی پر مامور پولیس اہلکار اپنے فرض پر قربان ہوگیا جبکہ ٹیم کا ایک رکن شدید زخمی ہوا ٹارگٹ کلنگ کے بڑے واقعے میں سوات میں عوامی نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنما جمشید علی کو شہید کردیا گیا سوات ٹارگٹ کلنگ کی یہ واردات ایک طویل وقفے کے بعد ہوئی جس نے مقامی شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کو گہری تشویش میں مبتلا کردیا سید جمشید علی نے شورش کے زمانے میں دہشتگردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان پر کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے جبکہ سابق وزیر شہزادہ اسفندر یار کی گاڑی پر بم حملے میں زخمی ہوئے تھے جمشید علی اے این پی کے سرگرم کارکن تھے اور تین مرتبہ اپنے علاقے کے ناظم منتخب ہوئے ۔

ادھر ملاکنڈ ڈویژن سمیت کوہستان میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کی مخالفت نے شدت اختیار کرلی کسٹم ایکٹ کے خلاف مالاکنڈ کے عوامی سیاسی وتجارتی حلقوں نے زبردست شٹرڈاؤن ہڑتال اور بھرپور احتجاجی مظاہرئے کئے جس کے بعد سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی کسٹم ایکٹ کی مخالفت میں میدان میں اترآئیں صوبائی کی حکومت نے ہوا کارخ دیکھتے ہوئے کسٹم ایکٹ کی مخالفت شروع کردی اور بالا آخر وفاقی حکومت کو ایک مراسلہ ارسال کردیا جس میں مذکورہ علاقوں سے کسٹم ایکٹ کا نفاذ واپس لینے کی تجویز دی گئی صوبائی حکومت نے صدر مملکت کو ارسال کئے جانے والے مراسلے میں موقف اختیار کیا ہے کہ شدت پسندی اور قدرتی آفات سے تباہ حال ملاکنڈ کے عوام پر ٹیکس لگانے کی بجائے انفراسٹرکچر کی بحالی اورعلاقے کی ترقی کیلئے جامع پیکج کااعلان کیا جائے ماضی میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا فیصلہ دہشتگردی اور نان کسٹم گاڑیوں کے خاتمے کیلئے کیا گیا تھا شورش اور دہشتگردی کے باعث انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے رہی سہی کسر سیلاب اور زلزلے نے پور ی کردی علاقے کے عوام انتہائی بد حالی کا شکار ہیں لہذا ایسے سنگین حالات میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا فیصلہ واپس لیا جائے صوبائی حکومت کی طرف سے کسٹم ایکٹ کی مخالفت سے مزاحمتی تحریک کو تقویت ملی ہے اور اب مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں نے نمبر سکور کرنے کیلئے بڑی بڑی چھلانگیں مارنا شروع کردی ہیں مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ کسٹم ایکٹ کے نفاذ کیخلاف مزاحمتی تحریک عوام اور تاجر تنظیموں نے ازخود شروع کی احتجاجی مظاہروں کے دوران مشتعل عوام نے بٹ خیلہ کے کسٹم آفس پردھاوا بول دیا زبردست توڑ پھوڑ کے بعد سائن بورڈ سمیت بیشتر سامان اٹھا کر دریائے سوات میں پھینک دیا کسٹم کے عملے نے ان سنگین حالات میں بھاگ جانے ہی میں عافیت سمجھی لیویز اہلکار عوام کے شدید غصے کے سامنے بے بس نظر آئے عوام کے اس اشتعال کو دیکھتے ہوئے سیاسی پارٹیوں نے چھلانگ لگا کر پیہ جام اور شٹر ڈاؤن کااعلان کردیا جس کے نتیجے میں ملاکنڈ کے تمام اضلاع میں مجموعی طورپر ہڑتال کامیاب رہی جماعت اسلامی نے کسٹم ایکٹ کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک التواء جمع کرادی یہ تحریک التواء قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ نے جمع کرائی صاحبزادہ طارق اللہ کا تعلق بھی انہی علاقوں سے ہے جہاں پر کسٹم ایکٹ نافذ کیاگیا ۔

وفاقی حکومت نے رمضان المبارک اور شوال کاچاند دیکھنے اورمتفقہ روزہ عید کااعلان کرنے کیلئے ابھی سے کام شروع کردیا ہے مرکزی وزارت مذہبی امور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمن کو ہٹانے پر بھی غور کررہی ہے جبکہ کمیٹی کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے تشکیل نو کے منصوبے پر بھی کام کا آغاز کردیا گیا ہے رویت ہلال کمیٹی کیلئے قوائد وضوابط بنا کر پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے گی اراکین کے دوبارہ انتخاب کیلئے صوبوں سے نام طلب کرلئے گئے ہیں صوبوں سے اراکین کے نام موصول ہونے کے بعد چیئر مین کا از سر نو تقرر کیا جائیگا حکومت کمیٹی کے نئے چیئر مین کے نام پر بھی غور کررہی ہے حکومت کی ان تمام کاوشوں کا مقصد مملکت پاکستان میں ایک دن عید وروزہ رکھنے کی کوشش ہے تاکہ قومی وحدت قائم کی جاسکے ہوسکتا ہے کہ حکومت اپنی ان کاوشوں کے نیک مقاصد میں کامیا ب ہوجائے مگر حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں بعض بندوبستی ملحق قبائلی علاقے اور ایک بڑی تعداد میں موجود افغان مہاجرین ہمیشہ سعودی عرب کے اعلان کے مطابق عید وروزہ کااہتمام کرتے ہیں آنے والے ماہ صیام اور شوال کے موقع پر یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ حکومتی اقدامات سعودی عرب کی تقلید کرنے و الے طبقات کو پاکستان کے اعلانات پر عملدارآمد کرانے میں کس حد تک کامیاب ہوسکتی ہے بظاہر یہ کام مشکل نظر آتا ہے مگرناممکن ہرگز نہیں ہے اگر وفاقی حکومت اپنے اقدامات اور مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یقنا اس سے قومی وحدت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے اور پورے ملک میں قومی یکجہتی دیکھنے کو ملے گی جس کی پوری قوم متمنی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1