حکومت کے اپنے بھی تحقیقاتی ادارے ہیں ، کیا ہر معاملے پر کمیشن بنانا عدلیہ کی ذمہ داری ہے ؟ چیف جسٹس

حکومت کے اپنے بھی تحقیقاتی ادارے ہیں ، کیا ہر معاملے پر کمیشن بنانا عدلیہ کی ...

  



 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس انور ظہیر جمالی نے میئرز، ڈپٹی میئرز ، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے کہ 2008میں مردم شماری ہونا تھی ابھی تک نہیں ہوئی، ملک میں دو جماعتیں حکومتیں بنا رہی ہیں،دونوں نے غلطیاں کیں، منتخب نمائندوں کا انتخاب تو ہوتا ہے مگر اختیارات نہیں ملتے، عدلیہ پر ہر معاملے میں تنقید کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس معاملے پر کمیشن بنا دیں، اس کا سوموٹو ایکشن لیں، ہماری اپنی ذمہ داریاں اور دائرہ کار ہے الیکشن کمیشن کا کام شفافیت اور غیر جانبداری برقرار رکھنا ہے، الیکشن کمیشن نے کبھی یہ خیال نہیں رکھا کہ قانون سازی درست ہوئی یا نہیں، کہنے کو بہت کچھ ہے ہمارے لئے مناسب ہے کہ لب کشائی کم کریں،لولے لنگڑے سسٹم کو بیساکھیوں کے سہارے چلانا پڑتا ہے،کسی ایک کو نشانہ نہیں بنا رہے، پورے ملک میں ریفارمز کی ضرورت ہے، اگر شو آف ہینڈ سے چیئرمین کا انتخاب اتنا ہی شفاف ہے تو وزیراعظم کا انتخاب بھی ایسے ہی ہونا چاہیے۔ منگل کو سپریم کورٹ میں میئرز، ڈپٹی میئرز ، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔عدالت میں پیپلز پارٹی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ دھاندلی روکنے اور شفاف الیکشن کیلئے شو آف ہینڈ ضروری ہے۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی بات مان لیں تو شفافیت کیلئے مردم شماری بھی ضروری ہے،2008میں مردم شماری ہونا تھی جو کہ اب تک نہیں ہوئی،صاف شفاف غیر جانبدارانہ انتخابات یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہداری ہے، ملک میں دو جماعتیں حکومتیں بنا رہی ہیں اور دونوں نے ہی غلطیاں کیں، ملک کو انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، منتخب نمائندوں کا انتخاب تو ہوتا ہے لیکن اختیارات نہیں ملتے، عدلیہ پر تنقید کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس معاملے پر کمیشن بنا دیں ، اس کا از خود نوٹس لے لیں، ہماری اپنی ذمہ داریاں اور دائرہ اختیار ہے، ایڈووکیٹ بابر اعوان نے کہا کہ بری نیت قرار دے کر کسی قانون کوختم نہیں کیا جا سکتا، الیکشن کمیشن سندھ اسمبلی کے قوانین پر عملدرآمد نہیں کر رہا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کہہ دے کہ شفاف الیکشن کیلئے مردم شماری ضروری ہے تو ملک کہاں کھڑا ہو جائے، آپ اراکین پارلیمنٹ ہیں بتائیں کہ آئین پر کہاں سمجھوتہ نہیں ہوتا؟۔ اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف انتخابات کروانا ہے، انتخابات کیلئے قانون سازی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا کام ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کا کام شفافیت اور غیر جانبداری برقرار رکھنا ہے، الیکشن کمیشن نے کبھی یہ خیال نہیں رکھا کہ قانون سازی درست ہوئی یا نہیں، کہنے کو بہت کچھ ہے مگر ہمارے لئے مناسب نہیں، ہمارے لئے یہ مناسب ہے کہ لب کشائی کم کریں، لولے لنگڑے سسٹم کو بیساکھیوں کے سہارے چلانا پڑتا ہے،جو بھی لولا لنگڑا سسٹم ہے اسے چلنا چاہیے، اگر ہاتھ دیکھا کر چیئرمین کا انتخاب اتنا ہی شفاف ہے تو وزیراعظم کا انتخاب بھی ایسے ہی ہونا چاہیے،پیپلز پارٹی کو اگر جمہوری روایات کا اتنا خیال تھا تو چار بار بلدیاتی نظام میں ترامیم کیوں کیں، ہم کسی ایک کو نشانہ نہیں بنا رہے، پورے ملک میں ریفارمز کی ضرورت ہے۔

مزید : صفحہ اول