پی ٹی آئی کا حکومت مخالف تحریک کیلئے پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) سے رابطہ

پی ٹی آئی کا حکومت مخالف تحریک کیلئے پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ...

  



 اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی) تحریک انصاف نے پاناما لیکس کے معاملے پر تحریک چلانے کے لئے سیاسی رابطے شروع کردیئے اس ضمن میں سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی جس میں مشترکہ تحریک چلانے کیلئے دعوت دیدی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سے ملاقات کی اس موقع پر اعتزاز احسن اور سلیم مانڈی والا بھی شریک تھے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان پاناما لیکس کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا ، شاہ محمود قریشی نے پاناما لیکس پر مشترکہ تحریک چلانے کے لئے پیپلزپارٹی کو دعوت دی۔ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی نے پیپلزپارٹی کو پاناما لیکس کے معاملے پر تحریک میں شریک ہونے کی دعوت دی ۔ اسلام آباد میں شاہ محمود قریشی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ ہمارا اتحاد ہے۔ ہم انتظامی کرپشن کے حوالے سے بھی متفقہ لائحہ عمل رکھتے ہیں اور مالی کرپشن کے حوالے سے بھی ہماری رائے ایک ہے۔ کرپشن فری پاکستان مہم کے سلسلے میں ہم انشاء اللہ 23 اپریل کو پشاور میں جلسہ منعقد کریں گے اور 24اپریل کو ہمارا جلسہ پنجاب میں ہوگا۔ حکومت کے پاس 12دن ہیں، ان 12 دنوں میں وہ صحیح راستے پر آجائے۔ اگر انہوں نے صحیح فیصلہ نہیں کیا تو ہم انشاء اللہ 24 اپریل کو آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔اس موقع پر قومی اسمبلی میں جماعتِ اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ، نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان اور سابق ایم این اے میاں محمد اسلم بھی موجود تھے۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ آج پوری قوم ، بین الاقوامی برادری کو پتہ چلاہے کہ ایک کرپٹ ترین شخص اپنی قوم کو لوٹ کر خزانے کو چھپانے کے لیے ایسے راستے اختیار کرتا ہے جو اس کے لیے دنیا بھر میں شرمندگی کا باعث ہے۔ افسوس ہے کہ ایک مسلمان ملک کا وزیر اعظم اور ان کا خاندان اس مالی کرپشن میں ملوث ہے۔ پانامہ پیپرز میں وزیر اعظم پاکستان اور ان کے خاندان کے قائم کردہ آف شور کمپنیوں سے متعلق انکشافات کے بعد بیرون ملک پاکستانی بھی افسوس کا اظہار کررہے ہیں اور دنیا بھر میں وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے لوگ اس مالی کرپشن کے باعث دنیا بھر کی تنقید کا سامنا کررہے ہیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان سے متعلق پانامہ پیپرز کے انکشافات سے ہمارے اس موقف کو تقویت ملی ہے کہ پاکستان میں امن و امان کے بعد سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، اور یہ نہ صرف ہمارا موقف ہے بلکہ انصاف کا تقاضا بھی ہے کہ اب وزیر اعظم اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بات کو سنی اَن سنی کرنے اور اپنی اس بدترین مالی کرپشن کو چھپانے کی بجائے چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیں جو اس پورے معاملے کی آزادانہ انکوائری کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کے اعلان کردہ کمیشن کو اس لیے نہیں مانتے کہ اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہونگے۔ ایک ایسا شخص جو خود کسی معاملے میں ملزم ہو، اس کی مرضی سے تشکیل دیا ہوا کمیشن کس طرح انصاف کے تقاضے پورے کرسکتا ہے۔ اگر وزیر اعظم پانامہ لیکس پر آزادانہ اور غیرجانبدارانہ تحقیقات چاہتے ہیں تو اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی ہی جماعت کے کسی فرد کو ذمہ داری سونپ کر اُس وقت تک اقتدار سے الگ رہیں جب تک ان پر اور ان کے خاندان پر آف شور کمپنیوں کے حوالے سے کیے گئے انکشافات کی مکمل تحقیقات رپورٹ سامنے نہیں آجاتی۔ اگر سپین اور یوکرائن کے وزرائے اعظم عوامی مطالبے پر استعفیٰ دے سکتے ہیں تو ہمارے وزیر اعظم کیوں نہیں!! بحیثیت وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی حیثیت کا غلط استعمال کیا ہے، اور اپنے خاندان والوں کو ناجائز فائدہ پہنچایا ہے۔ وزیر اعظم کو بتانا ہو گا کہ آف شور کمپنیوں میں لگائی گئی خطیر رقم کیسے اور کہاں سے آئی؟سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حالات میں میاں نواز شریف کے پاس اپنی اور اپنے خاندان کی ساکھ کو بچانے کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس پورے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کرکے قوم کو اُس کی لوٹی ہوئی دولت سے متعلق حقائق سے آگاہ کرے۔ اس موقع پر پی ٹی آ ئی کے رہنما شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن پر عمران خان کا موقف سب کے سامنے ہے، حکومت کا کمیشن مسترد کرچکے ہیں، چیف جسٹس کی سربراہی میں خود مختار کمیشن بنانا اور فرانزک آڈٹ بھی کرایا جانا چاہئے، 24 اپریل کو ہم یوم تاسیس منائیں گے اس دن ہم خوشی منائیں گے ، احتجاج نہیں کریں گے، انہوں نے دعوی کیا کہ انتظامیہ نے جلسے کی اجازت دے دی ہے اگر حکومت 24 اپریل تک ازاد اور خودمختار کمیشن نہیں بناتی تو یوم تاسیس کے موقع پر عمران خان آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے جس میں رائیونڈ کادھرنا بھی ایک آپشن ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس وزیراعظم نوازشریف کے گرد گھوم رہے ہیں، یہ ایک قومی مسئلہ ہے کرپشن کیخلاف سب کو اکٹھا ہونا ہو گا۔ وہ اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر خان ترین کی قیادت میں اسحاق خان خاکوانی اور عبدالعلیم خان پر مشتمل وفد سے ملاقات میں اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ بات چیت میں سینیٹر کامل علی آغا، طارق بشیر چیمہ ایم این اے اور محمد بشارت راجہ بھی شریک تھے۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ شریف فیملی ارب پتی بن چکی ہے انہیں حساب دینا ہو گا، نوازشریف کے استعفیٰ تک جدوجہد جاری رہے گی، ن لیگی وزراء اپنے بیانات تبدیل کرتے رہتے ہیں۔چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ اختلافات پس پشت ڈال کر سب کو قومی ایجنڈا پر متفق ہونا ہو گا، ہم سب قومی مسئلہ پر اکٹھے ہو رہے ہیں، پانامہ لیکس میں وزیراعظم نوازشریف کا کردار مشکوک ہے اس معاملہ کے حل میں تمام جماعتوں کو حصہ ڈالنا ہو گا اور مسئلہ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں سے مختلف امور پر مشاورت ہوئی ہے۔ جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں اور قوم کی جانب سے نوازشریف کے استعفیٰ کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے اور انہیں ہر صورت استعفیٰ دینا ہو گا کیونکہ مسئلہ کا اور کوئی حل نہیں ہے۔ انہوں نے چودھری پرویزالٰہی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سے نہایت اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ہم تمام سیاسی دوستوں اور جماعتوں سے روابط بڑھا رہے ہیں اس وقت سب سے بڑا مسئلہ پانامہ لیکس ہیں، پاکستان مسلم لیگ اور پی ٹی آئی متفق ہیں کہ ان پر ہر قسم کی تحقیقات ہونی چاہئیں اس پر عوام اور سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونا ہو گا، اپوزیشن مل کر اسے منطقی انجام تک پہنچائے گی الیکشن کمیشن کو دئیے گئے گوشواروں میں لندن کے اپارٹمنٹس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...