سی پیک منصوبہ،کے پی کے کو نظر انداز کرنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ

سی پیک منصوبہ،کے پی کے کو نظر انداز کرنے پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے سی پیک منصوبے میں صوبہ خیبرپختونخوا کو نظر انداز کرنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبے بارے حکومت کے موقف میں تضاد ہے، ایوان کے اندر کچھ کہا جاتا ہے اور باہر جا کر کوئی اور بات کی جاتی ہے، ارکان اسمبلی نے حالیہ بارشوں اور زلزلے سے کے پی اور جی بی میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کیلئے وفاقی حکومت کی طرف سے امدادی پیکج کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ شاہراہ قراقرم سمیت تمام اہم سڑکیں جلد بحال کی جائیں، پی ٹی آئی ارکان نے مالاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کا نفاذ واپس لینے کا بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسٹم ٹیکس واپس نہ لیا گیا تو مالاکنڈ کے عوام اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ منگل کو ایوان میں ارکان اسمبلی جمالدین، غلام احمد بلور،مراد سعید، مسرت زیب، سمن سلطانہ جعفری، نواب یوسف تالپور، کشور زہرا، شہریار آفریدی، عذرا فضل اور عائشہ سید نے نکتہ اعتراض پر اہم قومی اور مقامی ایشوز پر ایوان کی توجہ مبذول کرائی۔جے یو آئی کے ڈاکٹر جمالدین نے کہا کہ پنجاب میں دہشت گردوں کے خلاف نہیں بلکہ صرف پختونوں کے خلاف آپریشن کیا جا رہا ہے۔ اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ سی پیک میں پختونخوا کے لئے پاور کا صرف ایک منصوبہ رکھا گیا ہے، میں اس کے خلاف احتجاج کرتا ہوں۔ آصف حسنین نے کہا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے جی بی اور دیگر شمالی علاقوں میں عوام مشکلات سے دوچار ہیں، اکثر سڑکیں بند ہیں، اشیاء ضروریہ کی قلت پیدا ہو رہی ہے، حکومت سڑکیں کھولنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ پی ٹی آئی کے مراد سعید نے کہا کہ سی پیک میں کے پی کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے، سوات کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں پیش کی ہیں مگر وہاں کے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے کسٹم ایکٹ لاگو کر دیا گیا ہے ہم اس ظلم کو برداشت نہیں کریں گے۔ پی ٹی آئی کی مسرت زیب نے کہا کہ سوات ایک فلاحی ریاست تھی مگر صوبے میں ضم کرنے کے بعد یہ علاقہ تباہ کر دیا گیا ہے، میں سوات کیلئے اس پارلیمنٹ میں آ کر لڑوں گی۔ رانا محمد افضل نے کہا کہ کسٹم ایکٹ صوبائی حکومت کی درخواست پر نافذ کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...