پنجاب اسمبلی ، مفاد عامہ کی 4قرار دادیں منظور ، پانامہ لیکس پر اپوزیشن کا احتجاج ، سپیکر ڈائس کا گھیراؤ

پنجاب اسمبلی ، مفاد عامہ کی 4قرار دادیں منظور ، پانامہ لیکس پر اپوزیشن کا ...

  



لاہور(نیوز ڈیسک ) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ روز بھی اپوزیشن کی طرف سے پانامہ لیکس کے ایشو پر احتجاج کا سلسلہ جاری رہا، اپوزیشن کی طرف سے سپیکر ڈائس کے سامنے دھرنا اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔حکومتی ممبران کی طرف سے بھی جوابی نعرے لگائے گئے اس موقع پر ا یوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کررہا تھا۔ اس دوران مفاد عامہ کے متعلقہ4قراردادیں بھی پیش کی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز ایک گھنٹہ کی تاخیر سے 11بجے سپیکر رانا اقبال خان کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس میں محکمہ کالونیز اور مال کے بارے میں سوالوں کے جوابات پارلیمانی سیکرٹری نازیہ راحیل اور محمد اکرم زاہد نے دئیے ۔ایوان میں پیش کئے جانے سوالوں میں7سوال ایسے تھے جن کے جوابات 2سال سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود نہیں دئیے گئے جس پر سپیکر رانا اقبال خان نے ان سوالوں کو موخر کرتے ہوئے جواب نہ دینے پر متعلقہ محکموں کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی، رکن اسمبلی میاں نصیر کے سوال کا جواب نہ آنے پر رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال خان نے کہا کہ سرکاری محکمے اسمبلی کو گھاس نہیں ڈالتے جس کی وجہ سے تین سال تک بھی سوال کا جواب نہیں دے پاتے۔ اگر محکموں کے خلاف سوال کا جواب وقت پر نہ آنے پر کارروائی کی ہوتی تو یہ نوبت نہ آتی، انہوں نے کہا کہ آج تک سپیکر کی طرف سے جتنی بھی رولنگ دی گئی ہیں کسی ایک پر بھی عمل درآمد ہوا۔محکمہ کی طرف سے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال کے سوال نمبر1856کا جواب صحیح نہ آنے پر موخر کردیا اور محکمہ کو صحیح جواب دینے کی ہدایت بھی کی۔وقفہ سوالات کے بعد ایوان میں پیش کی گئی تحاریک التوائے کار کے جوابات متعلقہ پارلیمانی سیکرٹریز کی عدم موجودگی کی وجہ سے منگل کے روز بھی نہیں دئیے گئے ،جس پر سپیکر نے کہا کہ تمام محکموں کے پارلیمانی سیکرٹریز کو تحاریک التواء کے بارے میں دو روز پہلے انفارم کیا جائے سپیکر نے وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان سے بھی مخاطب ہو کر کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سے کہا جائے کہ وہ محکموں سے کہیں کہ تحریک التواء کار کے جواب کے حوالے سے تعاون کریں جس پر رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ میں خود اوس سلسلہ میں چیف سیکرٹری سے بات کروں گا اور ان سے اس حوالے سے درخواست بھی کروں گا، تاہم ؤُ پارلیمانی سیکرٹریز کو کھانے یا چائے پر بلائیں اور ان سے بھی بات کریں کہ وہ ایوان میں آکر جواب دیں جس سپیکر رانا محمد اقبال کان نے کہا کہ آ پ میرے سے ملاقات کریں تو پھر کھانے یا چائے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ دنیا بھر میں پانامہ لیکس پر بحث جاری ہے اس سے بڑی بدنامی ہو رہی ہے،ہمیں آؤٹ آف ٹرن تحریک التواء کار پیش کرنے کی اجازت دی جائے ، جس پر سپیکر رانا محمد اقبال خان نے کہا کہ تحریک التوائے کار کو آؤٹ آف ٹرن لینے کا کوئی رول نہیں ہے میں کیسے لے سکتا ہوں آپ بھی جانتے ہیں ۔آخر میں سپیکر کی طرف سے ایجنڈے پر موجود غیر سرکاری کارروائی کا آغاز کیا اور مفاد عامہ کے متعلقہ پہلی قرارداد سبطین شاہ کی طرف سے ایوان میں پڑی گئی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ صوبہ بھر میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے ہزاروں ایکڑ گندم،مکئی اور چارے کی فصلوں کا شدید نقصان ہوا ہے لہٰذاحکومت پنجاب کاشتکاروں کیلئے امدادی پیکیج کا اعلان کرے،دوسری قرارداد میاں محمود الرشید کی طرف سے پیش کی گی جس میں کہا گیا یہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کی تشکیل نو میرٹ پر کی جائے، تیسری قرارداد ڈکٹر نجمہ افضل کی طرف سے ایوان میں پیش کی گئی جس میں کہا کہ یہ اس ایوان کی رائے ہے کہ صوبہ کی تمام یونیورسٹیوں کے شعبہ ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے تحقیق کو شامل کیا جائے پاکستان کا اقوام عالم میں کس طرح سافٹ امیج پیش کیا جا سکتا ہے۔مذکورہ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں ۔پا نچوویں قرارداد رکن اسمبلی شعیب صدیقی محرک کی عدم موجودگی کی وجہ سے نمٹا دی گئی اس سے قبل پچھلے ایجنڈا سے موخر کی گئیں دو قراردادیں بھی نمٹا دی گئیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...