’’قوم سے خطاب‘‘

’’قوم سے خطاب‘‘
’’قوم سے خطاب‘‘

  



کستان کی سیاسی تاریخ میں تحریکِ انصاف کے چیئرمین شایدواحد کردار ہیں جنہوں نے اپنی ذاتی رہائش سے ’’قوم سے خطاب‘‘ فرمایا۔ اس سے پہلے انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے ’’قوم سے خطاب‘‘ کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جو پوری نہ ہوسکی۔ ’’قوم سے خطاب‘‘ سے پہلے ہی کچھ لوگوں نے رنگ میں بھنگ ڈال دی۔ (حیرت ہے، پی ٹی آئی نے الزام نہیں لگایا کہ یہ لوگ پرویز رشید نے بھیجے تھے)بنی گالہ میں خان صاحب کی رہائش کے سامنے وہ 2014 ء کے دھرنے میں شامیانوں، قناتوں، کرسیوں اور دیگر سہولتوں کے چالیس لاکھ روپے بل کا مطالبہ کر رہے تھے جو خان صاحب (یا اُن کی پی ٹی آئی ) نے اب تک ادا نہیں کیا تھا۔ اس موقع پر میڈیا بھی موجود تھا۔ آخر اُن کے ساتھ 13لاکھ روپے پر مُک مکا ہوگیا۔ خیر06:30بجے 10اپریل بروز اتوار خان صاحب کے سامنے ایک شخص گھڑی لیے کھڑا تھا کہ وہ مقررہ وقت پر اپنا خطاب شروع کریں اور وقت پر ہی ختم کردیں۔ خان صاحب نے جو باتیں ’’قوم سے خطاب میں‘‘ کہیں ،وہ بچے بچے تک کو یاد ہوچکی ہیں کہ پچھلے کئی برسوں سے یہی باتیں کہی جارہی ہیں۔

2015ء میں چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے انتخابی دھاندلیوں کی تحقیقات شروع کیں تو خان صاحب اپنا ایک بھی الزام ثابت نہ کرسکے۔ نجم سیٹھی کے 35پنکچروں سے لے کر، چیف جسٹس افتخار چودھری اور جسٹس رمدے کی مداخلت ، اُردو بازار میں جعلی بیلٹ پیپرز کی تیاری تک، سبھی الزامات سے خان صاحب دستبردار ہوگئے تھے۔ چنانچہ جوڈیشل کمیشن نے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات کو مسترد کردیا۔خان صاحب نے پانامہ لیکس کو ایشو بنا تے ہوئے ایک بار پھر وزیراعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے جو نہایت مضحکہ خیز ہے۔ ایک تو آف شور کمپنیاں غیر قانونی نہیں ، دوسرا نہ اُس میں وزیراعظم کا نام آیا ہے نہ اُن کی اہلیہ کا۔ ایک بار پھر احتجاجی تحریک کی دھمکی دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 24اپریل تک اگر چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن نہ بنا(پہلے موصوف شعیب سڈل کی بات کرتے تھے) تو اِس بار رائیونڈ میں دھرنا دیں گے جس پر پرویز رشید نے کہا کہ لوگوں کو بنی گالہ کا راستہ بھی آتا ہے اور سعد رفیق یہاں تک کہہ گئے کہ ’’ٹھمکا پارٹی میں اتنی جرأت نہیں کہ رائیونڈ دھرنا دے‘‘۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کے مقبول ترین رہنما نوازشریف ہیں۔ اُن کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور نوازشریف کے چاہنے والے نہ تو ’’ممی ڈیڈی‘‘ ہیں اور نہ ہی ’’برگر فیملیز‘‘ کے چشم و چراغ۔ادھر خان کے بارے میں یہ تاثر مزید پختہ ہوا ہے کہ وہ ایک احتجاج پسند آدمی ہیں جو صرف لوگوں کو انتشار اور جلاؤ گھیراؤ کرنے پر اُکساتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم کے متوالوں اور خان کے ٹائیگرز کو باہم لڑانا عقل مندی نہیں، نہ ہی یہ ممکن ہے کیونکہ ایک طرف ملک کے کونے کونے میں دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری ہے اور ضربِ عضب کامیابیاں سمیٹتا ہوا تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ اِن حالات میں ملکی اسٹیبلشمنٹ بھی حکومت کی پُشت پر ہے ، فوج اور حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں۔ آج ملک میں امن وسکون لوٹ رہا ہے۔ عوام کو لوڈشیڈنگ سے نجات مِل رہی ہے۔ معیشت بہتری کی سمت گامزن ہے۔ سی پیک جیسے منصوبوں پر کام شروع ہورہا ہے ۔ صحت، تعلیم اور روزگار بارے حکومتی اقدامات پہلے سے بہترسمت جارہے ہیں۔ ایسے میں صرف اپنے دِل کو سکون دینے کے لیے احتجاجی تحریک چلانا کوئی مثبت سوچ نہیں۔ عمران خان کے لب و لہجے سے یہ بات عیاں ہوچکی کہ اُنہیں نوازشریف کا وجود تک برداشت نہیں۔ان کی پوری کوشش ہے کہ بجائے اس کے کہ حکومت ترقیاتی کاموں پر اپنی توجہ مرکوز رکھے، اسے احتجاجی تحریکوں میں پھنسائے رکھیں۔ کیا عوام دوستی اسی کا نام ہے؟

خان کے اپنے صوبے خیبر پختونخوامیں شدید بارشوں کے باعث لوگوں کی زندگی عذاب بن گئی ہے لیکن انہیں دھرنوں کی فکر ہے۔ وزیراعظم کو گھر بھیجنا ہے تو اس کے لیے قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لائیں اور اسے منظور کرائیں۔۔۔’’قوم سے خطاب‘‘ میں وہ تین بُنیادی چیزیں بھول گئے۔ خطاب سے قبل تلاوت قرآن پاک کی گئی نہ قومی ترانہ بجایا گیا اور نہ ہی قائدِ اعظم ؒ کی تصویر رکھی گئی۔ یہ بات واضح رہے کہ صدر اور وزیراعظم جب بھی قوم سے خطاب کرتے ہیں تو پہلے تلاوتِ کلامِ پاک کی جاتی ہے جس کے بعد قومی ترانہ بجایا جاتا ہے اور دورانِ خطاب بابائے قوم حضرتِ قائدِ اعظم ؒ کی تصویر بھی رکھی جاتی ہے۔وزیراعظم کی طرح ’’قوم سے خطاب‘‘ کا شوق پورا کرنا تھا تو اس کے تمام تقاضے پورے کئے جاتے ۔۔۔اور ہاں! قوم سے خطاب میں خان صاحب نے اپنے صوبے میں سیلاب سے تباہی کا ذکر کیا، نہ اپنی (کے پی کے ) حکومت کی پونے تین سالہ کارکردگی کا ذکر کیا۔ نہال ہاشمی کے بقول، وہ پشاور میں مارے گئے ، چوہوں کی تعداد ہی بتادیتے۔

مزید : کالم


loading...