لاہور ہائیکورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے مکمل منصوبے کا ریکارڈ طلب کر لیا

لاہور ہائیکورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے مکمل منصوبے کا ریکارڈ طلب کر لیا

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عابد عزیز کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین کے مکمل منصوبے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے مزید سماعت آج 13اپریل تک ملتوی کردی جبکہ ا ورنج ٹرین کے راستے میں آنے والی 11تاریخی عمارتوں کے اردگرد منصوبے پر کام روکنے کے حوالے سے جاری حکم امتناعی میں بھی آج 13اپریل تک توسیع کردی۔فاضل عدالت نے درخواست گزاروں کے وکلاء کو آج بھی دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔درخواست گزارکے وکیل اظہر صدیق نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ میٹرو منصوبہ میٹرو بس اتھارٹی نے اختیار نہ ہونے کے باوجود شروع کیا ،بعدازاں منصوبہ ایل ڈی اے کے حوالے کردیا گیا ،منصوبے کی پنجاب اسمبلی سے منظوری لئے گئے متعلقہ اداروں دباؤ ڈال کر این او سی لئے گئے۔پاکستان کے عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جبکہ گلشن اقبال سانحہ کے زخمیوں کے علاج کے لئے ہسپتالوں میں بستر اور ادویات نہ ہونے کی وجہ سے اموات ہوئیں۔میٹرو ٹرین منصوبہ غیرقانونی طریقے سے شروع کیا گیا اور اس میں پائی جانے والی بے ضابطگیاں ریکارڈ سے ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔عدالت نے حکومت پنجاب سے میٹرو ٹرین منصوبے کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی جبکہ عدالت نے اورنج ٹرین کے راستے میں آنے والی 11تاریخی عمارتوں کے اردگرد منصوبے پر کام روکنے کے حوالے سے جاری حکم امتناعی میں آج 13اپریل تک توسیع کرتے ہوئے وکلا کو مزید بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...