محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں خوردبرد کرنیوالے اعلیٰ افسر کیخلاف انکوائری کا آغاز نہ ہو سکا

محکمہ سی اینڈ ڈبلیو میں خوردبرد کرنیوالے اعلیٰ افسر کیخلاف انکوائری کا آغاز ...

  



لاہور(بلال چودھری) محکمہ سی اینڈڈبلیو میں اندھیر راج ،کئی سال گزر جانے کے باوجود لاکھوں روپے خورد برد کرنے والے اعلیٰ افسر کے خلاف انکوائری کا آغاز نہ ہو سکا ،ڈائریکٹر ایڈمن بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ خاور زمان نے کنٹریکٹر کے ساتھ ملی بھگت کر کے قومی خزانہ کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگایا تھا ،آڈٹ رپورٹ 2011 میں بد عنوانی ثابت ہونے کے باوجود تاحال موصوف کے خلاف انکوائری شروع نہ ہو سکی البتہ اعلیٰ افسران کی خاص آشیر باد سے موصوف ایکسین سے ڈائریکٹر کے عہدہ تک ترقی کر گئے ۔ذرائع کے مطابق 2008میں سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ نے پنجاب کے 11 اضلاع میں نئے جمنیزیم بنانے کا فیصلہ کیا جن میں سے ایک ساہیوال میں بنایا جانا تھا جس کی تعمیر کی ذمہ داری بلڈنگ سب ڈویثرن ساہیوال کے ذمہ لگائی گئی جہاں موجودہ ڈائریکٹر ایڈمن بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ خاور زمان بطور ایکسین کام کر رہے تھے ۔ ساہیوال میں بنائے جانے والے جمنیزیم کی کل لاگت 4کروڑ 90لاکھ53ہزار سے زائد تھی۔ذرائع کے مطابق خاور زمان نے بطور ایکسین گورنمنٹ کنٹریکٹر فرم النور کنسٹرکشن سے مبینہ ملی بھگت کر کے ان کو تعمیر کا ٹھیکہ دلوایا اور 22دسمبر 2008کو تعمیراتی کام شروع کر دیا گیا ۔ جس میں نہ صرف ناقص میٹریل کا استعمال کیا گیا بلکہ کام کی لاگت کو بڑھانے کے لیے سٹیل کی مطلوبہ مقدار سے زائد کا استعمال کر کے کنٹریکٹر کو رقوم ادا کروا دیں ۔ذرائع کے مطابق دسمبر 2010 میں کام کی تکمیل کے بعد 2011 میں پراجیکٹ کے آڈٹ کے دوران کنٹریکٹر کو کی گئی 1لاکھ 81ہزار سے زائد روپے کی اضافی ادائیگیوں کا انکشاف ہوا جس پر صوبائی آڈٹ کمیٹی کی جانب سے کنٹریکٹر سے اضافی رقم وصول کرنے اور خاور زمان اور اس وقت کے سب انجینئر محمد نصر اللہ کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ ساتھ کام کے معیار اور استعمال ہونے والے میٹریل کی جانچ پڑتال کی سفارشات سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کو بھجوائی گئیں ۔ذرائع کے مطابق6جولائی 2011کو سپریٹنڈنٹ انجینئر صوبائی بلڈنگ سرکل فیصل آباد نے سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو کو بد عنوانی کے کیس سے متعلق تحقیقات کروانے کے لیے لیٹر نمبر SO.PAC(C&W)17-2\2011\223226 لکھا جس میں اس وقت کے ایکسین اور موجودہ ڈائریکٹر ایڈمن بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ لاہور خاور زمان اور اس کے ساتھی اہلکاروں کی جانب سے کنٹریکٹر کو اضافی ادائیگیوں کے علاوہ گھٹیا میٹریل کے استعمال کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ،بعد ازاں 7اگست کو سپریٹنڈنٹ انجینئر صوبائی بلڈنگ سرکل فیصل آباد نے لیٹر نمبر 2809\G کے ذریعے آڈٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ اور دیگر رپورٹس سیکریٹری سی اینڈ ڈبلیو کو بھجوائیں ۔ذرائع کے مطابق ساہیوال جمنیزیم کی تعمیر میں افسران کی جانب سے 1کڑوڑ سے زائد رقم کی خورد برد کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا ۔لیکن خاور زمان نے اپنے محکمانہ اثرو رسوخ کو استعما ل کرتے ہوئے کیس کی انکوائری شروع ہونے سے پہلے ہی رکوا دی ۔بعد ازاں چند دنوں کے اندر اپنی پوسٹنگ لاہور ہیڈ آفس میں کروا لی ۔ اس حوالے سے ڈائریکٹر ایڈمن خاور زمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا موقف تھا کہ کرپشن ان کی جانب سے نہیں کی گئی کنٹریکٹر سے معیاری سامان لگوانے کی ذمہ داری کے معاملات سب انجینئر محمد نصر اللہ کے سپرد تھے۔انکوائری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انکوائری محکمہ کی جانب سے نہیں کی گئی اگر انکوائری کی گئی تو ان کا دامن پاک ہے ۔

مزید : صفحہ آخر