شمالی وزیر ستان کے قبائل نے ملک کی بقاء کیلئے ہجرت کی ،شیر اعظم خان وزیر

شمالی وزیر ستان کے قبائل نے ملک کی بقاء کیلئے ہجرت کی ،شیر اعظم خان وزیر

  



بنوں(نمائندہ پاکستان)سابق صوبائی وزیر اور پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صوبائی نائب صدر شیراعظم خان وزیر نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے آئی ڈی پیز نے ملک کیلئے ہجرت کی انکی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی قبائل ملکی سرحدوں کے محافظ اور بلا معاوضہ چوکیدار ہیں پیپلز پارٹی قبائل کو کسی صورت بھی قبائلی عوام کو تبہا نہیں چھوڑیگی پیپلز پارٹی نے اپنے سابقہ دور حکومت میں سوات میں تین مہینوں میں فوجی اپریشن مکمل کرکے 44لاکھ متاثرین کو تین مہینوں کے اندر اندر واپس بھیجا اور ان کیلئے پکے گھر تعمیر کرکے نقد امداد دی موجودہ حکومت کی ناکامی ہے کہ دو سالوں میں 11لاکھ متاثرین کو واپس نہ بھیج سکی حکومت اور فوج شمالی وزیرستان کے متاثرین ضرب عضب سمیت فاٹا کے تمام متاثرین کی جلد اپنے اپنے علاقوں میں واپسی اور انکی بحالی کیلئے فوری اقدامات کریں ان خیالات کا اظہار انہوں نے تحصیل ڈومیل میں ادب،ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے منعقدہ وزیرستان سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیر،داوڑ اور محسود سب ایک ہیں ترقیافتہ مملک میں حکومتیں شعراء،ادباء اور دانشوروں کی نشاندہی پر چلتی ہیں کیونکہ دانشور علم کی دولت کا خزانہ ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں اس طبقے کی کوئی قدر نہیں ہم تحصیل ڈومیل کے ناظم فدامحمد خان کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ اگست تک ڈومیل تحصیل میں شعراء کیلئے لائبریری کا قیام عمل میں لائیں انہوں نے کہا کہ جنگ آزادی سے لیکر آج تک قبائل ملک کیلئے قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں انہوں نے کہا کہ آئی ڈی پیز معاملے پر صوبائی حکومت صرف وفاق پر ذمہ داری نہ ڈالیں بلکہ صوبائی حکومت بھی انکی واپسی اور بحالی کیلئے وفاق کے ساتھ مل کر جامع پروگرام بنائیں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے نامور قبائلی رہنماؤں شعراء اور عمائدین سید عالم محسود،سیلاب محسود،ثمین جان،ناصر محدوم،قبائلی وکلاء کے صدر رحیم شاہ آفریدی،لالہ نثار،اعجاز ممند،نعیم ہاتھی خیل،زلمی خٹک،ناصر محدوم،تحصیل ممبر عابد حسین،تحصیل ناظم دومیل فدامحمد خان،ڈاکٹر نواز خان،ڈاکٹر محب وزیر ،حاجی جہانگیر اور غازی جان ودیگر نے کہا کہ شاعر وادیب قوم کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں یہ لوگ وہ دیکھتے ہیں جو اور نہیں دیکھتے وہ سنتے ہیں جو اور لوگ نہیں سنتے ہیں اور وہ بولتے اور لکھتے ہیں جو اور لوگ نہیں لکھ اور بول سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ شروع دن سے انگریز نے قبائلی عوام کو غلام رکھنے کیلئے ایف سی آر اور دیگر طریقے سے قبائلی عوام پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے پاکستان کی65سالہ تاریخ میں ایک سال بھی پورے فاٹا کو وہ حقوق نہیں دیئے گئے جو پنجاب کو دیئے جارہے ہیں باوجو د اس کے کہ فاٹا معدنیات،جنگلات،کوئلہ،کرومائٹ،قیمتی جعرافیہ،قیمتی جنگلات،دریا،سونا،تانبہ،چاندی،گیس،تیل اور دیگر قدرتی وسائل سے مالامال ہیں لیکن ان وسائل پر اختیار فاٹا کے عوام اور پختونوں کا نہیں بلکہ پنجاب کا ہے اور ہمارے بچے اپنے وسائل کے مالک ہوتے ہوئے بھی دیار غیر میں محنت مزدوروی کرکے غیروں کے بوٹ پالش کرتے ہیں اگر ہمارے وسائل پر ہمیں اختیار دیا جائے تو ایک بھی بیروزگار نہیں ہوگا مقررین نے کہا کہ پاک چائنہ راہداری منصوبہ سے قبائلی عوام اور پختونوں کی قسمت بدل سکتی ہے لیکن ہمیں حالی سڑک نہیں چاہیئے بلکہ اب تین لکیروں کے بجائے پانچ لکیریں چاہیئے جن میں گیس،تیل،بجلی،روزگار اور ایل این جی شامل ہو ورنہ ہم اس روٹ کو قبائلی علاقوں سے گزرنے نہیں دیں گے میانوالی،بنوں،لکی،کوہاٹ،ڈی آئی خان،رزمل،گومل زام سب کو اس میں حصہ دیا جائے کیونکہ پاک چائنہ کوریڈور کیلئے قبائلی علاقوں سے سڑک مختصر راستہ ہے وفاقی حکومت نے اس میں جو تبدیلی کی ہے اس سے ہزاروں میل کا فاصلہ بڑھے گا سردیوں میں دھند بھی نہیں ہوگا گرمیوں میں سیلابوں کا خطرہ بھی نہیں ہوگا اور یہ منصوبہ قبائلی عوام کیلئے ترقی اور خوشخالی کا منصوبہ ہے لیکن اگر اس میں نظر انداز کیا گیا تو یہ ہمارے لئے تباہی کے منصوبے سے زیادہ کچھ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ راہداری منصوبے پر احسن اقبال شروع دن سے جھوٹ بول رہے ہیں مذید ہم احسن اقبال کو قبائل کی قسمت کی لکیر کھینچنے کی اجازت نہیں دیں گے بلکہ اب قبائل اپنی قسمت کی لکیر خود کھینچیں گے ہمیں ڈی آئی خان تک چھ ہزار کلومیٹر موٹر وے چاہیئے اور تمام قبائلی علاقوں کو لنک روڈ دیئے جائیں کیونکہ اس منصوبے کیلئے 600ارب روپے چائنہ نے دیئے ہیں اور اس روٹ کی چابی صوبائی حکومت کے پاس ہے ہمیں بتایا گیا ہے کہ صوبائی حکومت بھی پاک چائنہ راہداری منصوبے میں پختونوں کی حق تلفی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور وہ پختونوں کیلئے مغربی روٹ سمیت تمام سہولیات کا مطالبہ کررہی ہے کیونکہ یہ پختونوں کی ترقی اور روزگار کا مسئلہ ہے ہمارے ایک کروڑ قبائل بیرون ممالک میں مھنت مزدوروی کررہے ہیں اگر پاک چائنہ راہداری منصوبے میں ہمیں مکمل حقوق دیئے گئے تو خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے دبئی بن جائیں گے ،اسلئے ہم کسی صورت بھی پاک چائنہ راہداری منصوبے پر اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔مذید کہا کہ آنے والی نسلوں کو تاریخ،ثقافت اور تہزیب سے روشناس کرانے کیلئے مستقبل میں بھی ادبی سیمینارز کا انعقاد ضروری ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اپنی تاریخ،حقوق اور آباء واجداد کی قربانیوں سے باخبر ہوں۔

مزید : کراچی صفحہ آخر


loading...