’’ٹرسٹ شاپ‘‘ ہے ایسی دکان جہاں کوئی دکاندار ہے نہ سیلز مین

’’ٹرسٹ شاپ‘‘ ہے ایسی دکان جہاں کوئی دکاندار ہے نہ سیلز مین
’’ٹرسٹ شاپ‘‘ ہے ایسی دکان جہاں کوئی دکاندار ہے نہ سیلز مین

  



نئی دلی (نیوز ڈیسک) جدید دور کو نفسا نفسی اور خود غرضی کا زمانہ کہا جاتا ہے، جہاں لوگوں کا انسانیت سے اعتبار اٹھتا جارہا ہے، مگر اسی دنیا میں کچھ ایسی اچھی مثالیں بھی قائم ہورہی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر انسانیت پر یقین مزید پختہ ہوجاتا ہے۔ ایک ایسی ہی اچھی مثال بھارتی شہر بنگلور میں قائم کی گئی ’’ٹرسٹ شاپ‘‘ ہے ۔ یہ ایک ایسی دکان ہے کہ جہاں کوئی دکاندار ہے نہ سیلز مین۔ یہاں کوئی گارڈ بھی نہیں اور نگرانی کے لئے کوئی کیمرہ بھی نہیں، مگر اس کے باوجود خرید و فروخت کا کام بغیر کسی مسئلے کے چل رہا ہے۔ اس دکان کا ایک ہی سادہ اصول ہے، اپنی ضرورت کی چیز لیجئے اور اس کی قیمت دکان میں پڑے ڈبے میں ڈال دیجئے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق یہ منفرد دکان کمپنی آئی ڈی فوڈز کے بانی پی سی مصطفی کا آئیڈیا ہے اور بنگلور شہر میں وہ اس طرح کی 17 دکانیں کھول چکے ہیں۔ یہ چھوٹی سی دکان بنیادی طور پر ایک بڑے فریج پر مشتمل ہوتی ہے جس میں کھانے پینے کی اشیاء رکھی جاتی ہیں۔ کمپنی روزانہ ان دکانوں میں نیا سٹاک پہنچاتی ہے اور ڈبے میں جمع ہونے والے پیسے لے جاتی ہے۔ شہر کے علاقے گالف ویو اپارٹمنٹ میں بھی ایک ٹرسٹ شاپ قائم کی گئی ہے جسے روزانہ استعمال کرنے والے شخص راہول گادری کا کہنا تھا ’’میری اہلیہ اور میں رات گئے تک دفتر میں کام کرتے ہیں۔ جب ہم گھر لوٹتے ہیں تو فیصلہ کرتے ہیں کہ ڈنر میں کیا کھایا جائے۔ ہمیں بہت اچھا محسوس ہوتا کہ جس وقت تمام دکانیں بند ہوجاتی ہیں اس وقت بھی ٹرسٹ شاپ ہماری منتظر ہوتی ہے، جہاں سے ہم اپنی مرضی کی کوئی بھی چیز لے سکتے ہیں۔ ‘‘ان منفرد دکانوں سے مستفید ہونے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس آئیڈیا سے بہت خوش ہیں ۔ یہ ناصرف ان کے لئے بہت بڑی سہولت ہے بلکہ انہیں یہ مسرت بھی فراہم کرتی ہے کہ کوئی ان پر اندھا اعتماد کرتا ہے۔ ٹرسٹ شاپس قائم کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے لئے نتائج توقع سے کہیں زیادہ حوصلہ افزا رہے ہیں۔ ان کی وصولی کبھی 90 سے 95 فیصد ہوتی ہے اور کبھی 100 فیصد سے بھی بڑھ جاتی ہے، یعنی کبھی کبھار لوگ اصل قیمت سے بھی زیادہ دے جاتے ہیں۔ کمپنی بنگلور کے بعد اب حیدرآباد، چنائی اور ممبئی میں بھی ایسی ہی دکانیں کھولنے کی تیاری کررہی ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...