ہمسایہ ملک کا وہ گاؤں جس کے مردوں سے شادی کرنے کیلئے کوئی لڑکی تیار نہیں

ہمسایہ ملک کا وہ گاؤں جس کے مردوں سے شادی کرنے کیلئے کوئی لڑکی تیار نہیں
ہمسایہ ملک کا وہ گاؤں جس کے مردوں سے شادی کرنے کیلئے کوئی لڑکی تیار نہیں

  



نئی دلی (نیوز ڈیسک) پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے کہ جو پانی کے شدید بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس مسئلے کے حل کے لئے سنجیدگی نظر نہیں آتی اور آپ کو یہ جان کر سخت پریشانی ہوگی کہ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو خدانخواستہ ہم پر بھی وہ وقت آسکتا ہے جو بھارت کے ایک گاؤں پر پہلے ہی آچکا ہے۔ ریاست مدھیا پردیس کے ضلع چھتر پور کے گاؤں تیریا مار میں ڈیڑھ سو سے زائد نوجوان شادی کے منتظر ہیں مگر کوئی اپنی بیٹی کو اس گاؤں میں بیاہنے کو تیار نہیں۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے 58 سالہ شخص کانچھی رام نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا، ’’ میرے بیٹے رگووار کی عمر 28سال ہے۔ میں اس کی شادی کے لئے بہت فکر مند ہوں لیکن یہ ہوتی نظر نہیں ہوتی۔ کوئی بھی باپ اپنی بیٹی کو اس گاؤں میں بیاہنے کے لئے تیار نہیں۔‘‘ اس گاؤں کے مردوں کی بدقسمتی کی اصل وجہ پانی کا نایاب ہونا ہے۔ یہاں کے کئی اور دیہاتوں میں بھی یہ مسئلہ پایا جاتا ہے لیکن تیریا مار گاؤں اس کا شدید ترین نشانہ بن چکا ہے۔ نوجوان رگو وار کا کہنا تھا ’’میری والدہ صبح سویرے جاگتی ہیں اور اپنے سر پر برتن اٹھا کر دو کلومیٹر دور جاکر پانی لاتی ہیں۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کی بیٹی کی زندگی ایسی مشقت میں گزرے، لہٰذا کوئی بھی اس گاؤں میں اپنی بیٹی کی شادی کرنے کو تیار نہیں۔‘‘اس گاؤں میں شادی کے منتظر نوجوانوں کے ساتھ آس پاس کے گاؤں کے نوجوانوں کو بھی شامل کیا جائے تو یہ تعداد ہزاروں میں جا پہنچتی ہے۔ بکس واہ شہر کی تحصیلدار ونیتا جین کا کہنا تھا کہ حکومت نے شہر سے کچھ کلومیٹر کی دوری پر واقعہ جھیل سے پانی لانے کے پراجیکٹ پر کام شروع کردیا ہے۔ دوسری جانب مصیبت کے مارے دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ دعوے کئی بار سن چکے ہیں۔ شادی کے منتظر نوجوان کہتے ہیں کہ نہ پانے آئے گا، نہ ان کی قسمت جاگے گی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...