11 لاکھ میٹرک ٹن گندم آبادگاروں سے خریدیں گے،ناصر حسین شاہ

11 لاکھ میٹرک ٹن گندم آبادگاروں سے خریدیں گے،ناصر حسین شاہ

  



کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر خوراک سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ اس سال 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم آبادگاروں سے خریدے گی جبکہ اس سال صوبے میں 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کے باعث عام مارکیٹ میں گندم کے نرخ میں استحکام ہے ورنہ اس کی قیمت بہت کم آبادگاروں کو مل پاتی۔ وفاقی ادارے پارکو کی جانب سے صوبے کے حصے کی 2 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن کی خریداری کے لئے زور ڈالا جارہا ہے تاہم ابھی تک پارکو کی جانب سے 1 لاکھ ٹن گندم صوبے سے خریدنے پر رضامندی کا اظہار اکیا گیا ہے۔ باردانہ کی فراہمی میں کسی قسم کی کوئی کرپشن نہیں ہورہی ہے اور میں خود تمام اضلاع میں جاکر سینٹرز پر باردانہ کی ترسیل کی مانیٹرنگ کررہا ہوں۔ محکمہ خوراک کا قلمدان سنبھالنے کے بعد کئی اقدامات کئے ہیں تاہم ابھی بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی میں اپوزیشن خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی پرائیویٹ قرارداد پرخطاب کرتے ہوئے کیا۔ نصرت سحر عباسی نے اپنی پرائیویٹ قرارداد میں موقف اختیار کیا تھا کہ محکمہ خوراک کی جانب سے آبادگاروں کو باردانہ کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث ان آبادگاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں مجبوراً گندم کو کم قیمتوں پر مارکیٹوں میں فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ قرارداد کی حمایت میں متعدد ارکان نے خطاب کیا اور کہا کہ حکومت اس حوالے سے تمام اقدامات کو بروئے کار لائے اور آبادگاروں کو بادلانہ کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ قرارداد پر صوبائی وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ میں خود اس قرارداد کی حمایت کرتا ہوں کہ آبادگاروں کو حکومت کی جانب سے باردانہ مہیا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سال صوبے میں 60 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی پیداوار متوقع ہے جبکہ سندھ حکومت نے اس سال گذشتہ سال کے مقابلے 2 لاکھ میٹرک ٹن زائد گندم کی خریداری کا حدف رکھا ہے اور اس سال 11 لاکھ میٹرک ٹن گندم 1300 روپے فی میٹرک ٹن کے حساب سے آبادگاروں سے خریدی جائے گی۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں گندم کے نرخ بہت کم ہیں لیکن سندھ حکومت نے آبادگاروں کو ان کی فصلوں کے بہتر نرخ مل پائیں اس لئے 1300 روپے فی میٹرک ٹن کا نرخ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم کی خریداری کے باعث ہی آج اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخ 1100 سے 1200 روپے فی میٹرک ٹن ہیں اور اگر حکومت خریداری نہ کرتی تو یہ نرخ بہت کم ہوتے۔ سید ناصر حسین شاہ نے ایوان کو بتایا کہ گذشتہ برس وفاقی حکومت کے ادارے پاسکو نے صرف 20 سے 30 ہزار میٹرک ٹن ہی گندم صوبہ سندھ سے خریدی تھی تاہم اس سال ہم نے ان کو صوبے کے حصے کے مطابق 2 لاکھ 55 ہزار میٹرک ٹن گندم خریدنے کی استدعا کہ ہے، جس پر انہوں نے 1 لاکھ میٹرک ٹن تک کی خریداری کی یقین دہانی کرائی ہے اگر پاسکو پوری گندم صوبے سے خرید کرے تو اوپن مارکیٹ میں گندم کے نرخ مزید بہتر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مختلف ارکان کی جانب سے قرارداد کی حمایت میں کی جانے والی تقریروں میں افسران کی تقرری، باردانہ کے حصول میں دشواریوں سمیت دیگر پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمیں گندم کی خریداری کے لئے سینٹرز کھولنے میں دشواریاں ہیں کیونکہ ہمارے پاس سینٹرز کے لئے جگہ نہیں ہیں اس کے باوجود ہم نے ہر ڈسٹرکٹ میں سینٹرز کھول دئیے ہیں اور وہاں پر افسران تعینات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک میں متعدد افسران پر کرپشن کے الزامات ماضی میں لگائے گئے ہیں اور اگر ان تمام افسران کو ہٹا دیا جائے تو ہمارے پاس افسران ہی باقی نہیں رہیں گے۔ اس لئے ہم نے ان افسران کو تو تقرر کیا ہے، جن پر الزامات تو ہیں لیکن ثابت نہیں ہوئے ہیں البتہ جن افسران پر کرپشن ثابت ہوئی ہے ان کو تقرر نہیں کیا گیا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وہ خود مختلف ڈسٹرکٹ میں سینٹرز کی مانٹرنگ کررہے ہیں۔ اجلاس کے باعث وہ نہیں جاسکے اور جب اجلاس نہیں ہوتا اور ہفتہ اور اتوار کے روز وہ خود مختلف ڈسٹرکٹ میں جاکر باردانہ کی فراہمی کے کاموں کا معائنہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک میں مزید اصلاحات کی ضرورت ہے اور وہ اس سلسلے میں مسلسل کاوشیں کررہے ہیں۔ گذشتہ سال کی گوداموں میں لاکھوں ٹن گندم کے ہونے کے اعتراض پر سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ 15 لاکھ میٹرک ٹن گندم اس فصل کی خریداری سے قبل گوداموں میں موجود تھی تاہم اب صرف 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم موجود ہے اور باقی تمام مل اونرز کو سبسیڈی پر فراہم کردی گئی ہے اور ان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اس سبسیڈی کا براہ راست فائدہ عوام کو آٹے کے کم نرخ میں فراہم کرکے دیں گے۔ بعد ازاں ایوان نے متفقہ طور پر قرارداد کو منظور کرلیا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر