ڈی ایس ریلوے سکھر کا دورۂ خان پور،صادق آباد،تفصیلی معائنہ کیا

ڈی ایس ریلوے سکھر کا دورۂ خان پور،صادق آباد،تفصیلی معائنہ کیا

  



خان پور ،صادق آباد(تحصیل رپورٹر،نمائندہ پاکستان)ڈی ایس سکھر ریلوے اعجاز احمد برڑو نے سالانہ انسپکشن کے سلسلہ میں ریلوے اسٹیشن خان پور کا دورہ کیا،انہوں نے ڈی سی او ریلوے سکھر میاں فضل الہٰی ،ڈی ایم او ریلوے سکھر راشد سومرو،ڈویژنل انسپکٹر مکینیکل امجد حسین ،ٹرین ایگزیمینر مکینیکل (بقیہ نمبر38صفحہ12پر )

عتیق الرحمان چوہدری ،اسسٹنٹ ٹرین ایگزیمینر محمداقبال ودیگر کے ہمراہ ریلوے اسٹیشن کے لوکو شیڈ کیریج اینڈ ویگن مکینیکل ایگزامینیشن شعبہ ٹریفک ،شعبہ کمرشل ،شعبہ انجینئرنگ ،شعبہ میڈیکل ،شعبہ ایجوکیشن اور شعبہ سگنل کے علاوہ ٹیلی کام کے شعبے کا بھی تفصیلی وزٹ کیا اور سالانہ انسپکشن مکمل کی ۔ڈی ایس اعجاز احمد برڑو نے ٹکٹ گھر جاکر ٹکٹوں کا بھی معائنہ کیا اور وہاں موجود پرائیویٹ ٹرینوں کی ٹکٹوں کی ترسیل کیلئے موجود پراکس پوائنٹ کو ختم کرکے متبادل جگہ منتخب کرنے کا حکم دیا ۔ڈی ایس ریلوے اسٹیشن کی تمام عمارت کا بھی تفصیلی معائنہ کرنے کے بعد گارڈز کے رننگ روم جا پہنچے ،جہاں انہوں نے کھانے کے کمرہ میں جاکر وہاں تعینات باورچیوں سے کھانے کیلئے استعمال ہونے والے برتن چیک کرانے کا حکم دیا تو انہوں نے نئے برتن ڈی ایس کو تھمادئیے جس پر ڈی ایس اعجاز احمد برڑو نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ وہ برتن دکھاؤ جس میں کھانا پکتا ہے جو برتن دکھائے جارہے ہیں اس میں تو آج تک کھانا ہی نہیں پکا جس پر رننگ روم عملہ نے ڈی ایس کو زیراستعمال برتن دکھائے جس پر ڈی ایس اعجاز برڑو نے رننگ روم میں صحت و صفائی کے نظام میں مزید بہتری لانے کا حکم دیا ،ڈی ایس نے ریلوے ہسپتال اور ریلوے سکول کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور وہاں تعینات عملہ سے مسائل دریافت کیے ۔اس موقع پر ریلوے سکول کی پرنسپل مصباح ساجد نے ڈی ایس کو سکول کی کارکردگی بارے بتایا جس پر ڈی ایس اعجاز برڑو نے ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے معیار تعلیم کی بہتری کیلئے مزید توجہ دینے کی ہدایت کی ۔ڈی ایس اعجاز برڑو نے ٹرین ایگزامینر چوہدری عتیق الرحمان کو بہتر کارکردگی پر ایک ہزار روپے نقد انعام بھی دیا۔قبل ازیں ڈی ایس نے ریلوے ٹریک کے دونوں اطراف ریلوے کی اس کمرشل اراضی کا جائزہ لیا جہاں لینڈ مافیا قابض ہیں ،تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ڈی ایس اعجاز برڑو نے آئندہ ہفتے خان پور پہنچ کر قابضین کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور خان پور ریلوے اسٹیشن کے دیگر تمام مسائل حل کرنے کا اعادہ کیا۔اس موقع پر قدرت اللہ عباسی ،ملک محمداشرف ،جام عبدالمجید جاوید ،سمیع الحق بھٹہ،محمدآصف دھریجہ ،غلام عباس شاہین بھٹی اور تاجران چوہدری محمدزاہد ،محمداصغر مدنی ودیگر کثیر تعداد میں تاجران و شہری موجود تھے۔دریں اثنائشہر کے وسط میں موجود ریلوے پھاٹک نمبر94سے ملحقہ صدیوں پرانا قدیمی ریلوے انڈر پاس ناکارہ ہوکر ٹوٹ ہوچکا ہے اور ناکارہ انڈر پاس کے بارے ریلوے کے متعلقہ افسران بخوبی واقف تو ہیں لیکن انہوں نے منگل کے روز ڈی ایس ریلوے سکھر اعجاز احمد برڑو کی خان پور آمد کے موقع پر دیگر تمام مقامات کا وزٹ تو کرایا لیکن انسانی زندگیوں کیلئے خطرے کی گھنٹی بجانے والی اس شکستہ حال پل کا معاملہ گول کردیا ، پکارویلفےئر سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری سمیع الحق بھٹہ ،غلام عباس شاہین ،جمشید دھریجہ ،تاجر رہنماء خواجہ عبدالسمیع ودیگر نے ڈی ایس سکھر ریلوے اعجاز برڑو سمیت ریلوے کے اعلیٰ حکام سے فوری انڈر پاس کی ازسرنو تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈی ایس ریلوے سکھر ا عجاز بڑرو کے ریلوے گر لز ہا ئی سکول کے دورہ کے مو قع پر مسلم لیگ(ن) یو تھ و نگ کے عہدیداران و کا رکنان شا نی جو ئیہ،کا شف سہیل،ا یم اے نا درخا ن نے ڈی ایس ریلوے سکھر ا عجاز بڑرو کوجا نب سے ہیڈ مسٹریس مصبا ء ثا قب کی جانب کیے گئے غیر قا نو نی اقدا مات سمیت دیگر مسا ئل سے آ گا ہ کیا تو میڈ یم مصبا ء ثا قب نے انہیں سنگین نتا ئج کی دھمکیاں دی ہیں انہوں نے و زیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شر یف،ڈی ایس سکھر ریلوے،کمشنر بہا ولپور اور ڈی سی او ر حیم یار خان سے محکما نہ انکوا ئری کر کے سخت ترین کا روا ئی کامطا لبہ کیا ہے ۔صادق آبادسیتحصیل رپورٹرکے مطابقڈی ایس ریلوے سکھر ڈویژن اعجا ز بڑرو نے کہا ہے کہ محنتی ریلوے سٹاف کی بدولت محکمہ ریلوے ترقی کی جانب گامزن ہے مسافر ٹرینوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیاجارہا ہے تاکہ مسافروں کوپریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔یہ بات انھوں نے گزشتہ روزاپنے دورہ ریلوے اسٹیشن صادق آباد کے موقع پر اخبا رنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر ڈی سی او ریلوے سکھر ڈویژن میاں فضل الہی‘ اسٹیشن ماسٹر حاجی محمد الیاس‘ اسسٹنٹ اسٹیشن ماسٹر سلامت علی‘ کمرشل سپر وائزر محمد عباس‘ریزریشن کلرک محمد تنویر عباسی‘ ٹی سی آر سید ضیاء بخاری‘ محمد علی شیخ ‘ زونل صدر پریم یونین تحسین ارشد کھوکھر و دیگر بھی موجود تھے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر