ڈسٹرکٹ ہسپتال بہاولنگر میں بچے کی ہلاکت، انکوائری دبانے کی کوششیں جاری

ڈسٹرکٹ ہسپتال بہاولنگر میں بچے کی ہلاکت، انکوائری دبانے کی کوششیں جاری

  



بہاولنگر(نمائندہ خصوصی)ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ڈاکٹر وں کی گروپنگ کا شکارہونے والے محکمہ صحت کے ملازم محمد ادریس کے بیٹے کی انکوائری کو دبانے کی کوشش جاری ۔تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہسپتال بہاولنگر میں محکمہ صحت کے ملازم محمد ادریس کے بیٹے کی حالت خراب ہونے پراْسے بہاولپور ریفر کردیا گیا انکوائری کمیٹی کے سامنے محمد یٰسین ولد محمد شریف ٹیکنشین ڈی ایچ کیو،محمد فیاض گوندل وارڈبوائے ،قاسم (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

علی جونیئر کلرک نے انکوائری کمیٹی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ 05اپریل کو محمد ادریس ٹیکنشن روتے ہوئے ہمارے پاس آیا اور کہا کہ ڈاکٹرچلڈرن وارڈنے بیٹے کو بی وی ایچ بہاولپورریفر کیاگیا ایمبولینس کا انتظام کرودوں ڈیوٹی پر موجودڈاکٹرزنے پٹرول کا بہانابناکر ہمیں ایم ایس ڈی ایچ کیو کے پاس بھیج دیا ایم ایس کے کہنے پر بھی ڈاکٹرز نے ہمیں ایمبولینس نہیں دی ڈیوٹی پر موجود ڈرائیورمحمد سیلم سے ڈاکٹر راؤ طاہر کی بات کروائی گئی تو مذکورہ ڈرائیورنے ایمبولینس دینے سے صاف انکارکردیا اور کہا کہ جاؤ میرے تبادلہ کروادیں ہم لوگوں نے سب ڈرائیوروں سے اپیل کی مگر کسی نے بات نہ سنی بچے کی حالت تشویشناک ہونے پر پرائیویٹ ایمبولینس کروائی گئی جس میں آکسیجن نہ ہونے پر بچے کی موت واقع ہوگئی ،جبکہ مذکورہ ڈاکٹروں نے انکوائری کمیٹی کے سامنے ملبہ سرکاری ڈرائیوروں پر ڈال دیا انہوں نے کہا کہ ہم نے اجازت دینے کے باوجود ڈرائیور بچے کو لیکر نہیں گئے بچہ کی ہلاک پر ماں کی حالت خراب ہوگئی ،تشویشناک حالت میں ٹی ایچ کیو چشتیاں منتقل کردیا۔اس حوالے سے ایم ایس ڈی ایچ کیو رانا امتیاز نے کہا ہے کہ میں انکوائری رپورٹ سے متفق نہیں ہوں دوبارانکوائری کرواکر غفلت کے مراتکب افرادکے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...