کسانوں کی بھوک ہڑتال چھٹے روز میں داخل، بھینس کے آگے بین بجا کر احتجاج

کسانوں کی بھوک ہڑتال چھٹے روز میں داخل، بھینس کے آگے بین بجا کر احتجاج

  



میاں چنوں( نمائندہ پاکستان‘ نمائندہ خصوصی) کسانوں کا حکومت کیخلاف بھینس کے آگے بین بجا کراحتجاج، پاکستان کسان اتحاد کا بھوک ہڑتالی کیمپ مسلسل چھ روز سے جاری ،مطالبات کے پورے ہونے تک بھوک ہڑتال دھرنا جاری رکھنے کسانوں کااعلان،تفصیلات کے مطابق گزشتہ چھ روز سے پاکستان کسان اتحاد کے کسانوں کا اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگاکر دھرنا جاری ہے،دھرنے کے شرکا کی جانب سے مختلف حربوں سے احتجاج ریکارڈ کروایا جا رہا ہے،جبکہ گزشتہ روز درجنو ں کسانوں نے بھینس پر حکومتی بینرز آویزا کرکے بھینس کے آگے بین بجاکر انوکھا احتجاج کیا،احتجاج دیکھنے کیلئے شہریوں کی بھی بہت بڑی تعدا دموجود تھی،جو انکوکھا احتجاج دیکھ کر خوب لطف اندوز بھی ہوئے۔مرکزی ترجمان سجاد حسین نازش،چیئرمین تحصیل میاں چنوں مہر شوکت سنپال نے کہاکہ پاسکو حکام کی غفلت کی وجہ سے کسان گندم ایک ہزار روپے من بیچنے پر مجبور ہے،بزنس مینوں ،آڑھتیوں نے پٹواریوں کے پاس ڈیرے لگا رکھے ہیں،کسانوں سے سادہ کاغذ پر لکھواکر اُنکی کاشت، اپنے نام کروا رہے ہیں،سابقہ سالوں کی خرید شدہ گندم ابھی تک سنٹروں پرموجود ہے،پاسکوحکام نے موجود ہ فصل گندم خریدنے کیلئے نئی جگہ تیار کرنے بجائے کسانوں کو دودراز سنٹروں میں گندم سپلائی پر مجبو رکرکے اپنے ایجنٹوں کو نوازنے کا پروگرام بنا لیا ہے،خریداری فوری شروع نہ ہوئی تو میاں چنوں کے کسانوں کو چند دنوں میں تیس کروڑ کا نقصان ہوجائے گا،کسان پیکج سے محروم 7ہزارکسان اپنی امید کھو بیٹھے ہیں،بدترین لوڈشیڈنگ سے دیہاتوں میں زندگی مشکل ہوگئی ہے،واپڈاکے ناجائز بلوں کے ذمہ دار افسران دھڑلے سے کسانوں کو ہر ماہ لاکھوں یونٹ اضافی ڈال کر کروڑوں کا ٹیکہ لگا رہے ہیں،کسانوں پر جھوٹے مقدمات کی بھر مار الگ ہے،کالونی شوگر ملز والے ہائی کورٹ اسٹے کی آڑ میں کسانوں کے 20کروڑ دبا کر اپنا بزنس بڑھا رہے ہیں،آلو کی فصل اونے پونے بیچ کر دھکے کھانے پر مجبو ر ہیں،کیمپ میں صادق راجپوت،خدا یار خان،خاور بندیشہ،حاجی امین،حاجی عبدالرحمن،مظہر لک اعوان،رانا شوکت،احمد خان،ذوالفقار بھٹو،آفتا ب کچھی،فضل لہٰی ،چوہدری شوکت،عبدالستار،چوہدری سعید ،مہر سعید دلو،عبدالرزاق،دلاور خان،وزیر علی،شاہد اقبال ،ارشاد شادی،خادم کچھی،عابد سیال،ڈاکٹر افضل سمیت کثیر کسان موجود ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...