سندھ اسمبلی: باردانہ کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی قرارداد منظور

سندھ اسمبلی: باردانہ کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی قرارداد منظور

  



کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی نے منگل کو ایک قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی ، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت سندھ صوبے میں کاشت کاروں کو باردانہ کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائے ۔ یہ قرار داد مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت بانو سحر عباسی نے پیش کی ۔ قرار داد میں مزید کہا گیا کہ حکومت کے متعدد اعلانات اور گندم کی خریداری کے مراکز کھولنے کے باوجود کاشت کاروں کو باردانہ نہیں مل رہا ہے اور وہ اپنی گندم ان تاجروں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں ، جنہیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔ قرار داد پر خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان نے اس بات پر سخت احتجاج کیا کہ باردانہ صرف بااثر لوگوں کو دیا جا رہا ہے ۔ وزیر خوراک سید ناصر حسین شاہ نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ باردانہ کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں اس سال 60 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی ہے اور حکومت کو صرف 11 لاکھ ٹن گندم خریدنا ہے ۔ سرکاری نرخ مارکیٹ سے زیادہ ہیں ۔ اس لیے تمام لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ حکومت کو گندم فروخت کریں ، جو کہ ناممکن ہے ۔ ہم پوری کوشش کریں گے کہ گندم عام آباد گار سے خریدی جائے ۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ باردانہ کی تقسیم کے حوالے سے بعض شکایات ہیں اور کہا کہ نچلی سطح پر کچھ افسران صحیح کام نہیں کر رہے ہیں ۔ ماضی میں بھی افسروں کی کرپشن کی شکایات پر انہیں ہٹانا پڑا لیکن ہمارے پاس افسران نہیں ہیں ۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ان افسروں کو دوبارہ تعینات کیا جاتا ہے ۔ محکمہ خوراک میں بہتری لانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمتیں بہت کم ہیں ۔ اگر حکومت گندم نہ خریدے تو کاشت کاروں کو مزید کم قیمتیں ملیں ۔ حکومت کی خریداری کی وجہ سے کاشت کاروں کو مارکیٹ میں بھی بہتر قیمت مل جاتی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر احتجاج کیا کہ وفاقی حکومت کا ادارہ ’’ پاسکو ‘‘ سندھ سے اس کے حصے کی گندم نہیں خرید رہا ہے ۔ پاسکو کو سندھ سے 255 ہزار ٹن گندم خریدنی چاہئے لیکن وہ اتنی گندم نہیں خرید رہا ہے ۔ اس سال پاسکو نے ایک لاکھ ٹن گندم خریدنے کے لیے کہا ہے ۔ ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پاسکو سندھ سے اس کے حصے کی گندم خریدے ۔

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) حیدر آباد میں یونیورسٹی قائم کرنے کا متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کا دیرینہ مطالبہ بالآخر پورا ہو گیا ہے ۔ سندھ اسمبلی نے منگل کو ایک قرار داد اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے ، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گورنمنٹ کالج کالی موری حیدر آباد کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے ۔ منگل کو پرائیویٹ ممبرز ڈے تھا ۔ پرائیویٹ قرار داد ایم کیو ایم کے رکن انجینئر صابر حسین قائم خانی نے پیش کی ۔ حکومت نے اس قرار داد کی حمایت کی ۔ قرار داد میں کہا گیا کہ گورنمنٹ کالج کالی موری حیدر آباد اپنے قیام اور بہترین کارکردگی کے 100 سال مکمل کر رہا ہے ۔ یہ ایوان قرار دیتا ہے کہ اس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے ، جیسا کہ پاکستان کے دیگر شہروں میں کیا گیا ہے ۔ یونیورسٹی کا درجہ دینے کے بعد اسے تمام ضروری سہولتیں فوراً مہیا کی جائیں ۔ قرار داد کے محرک ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر اور دیگر ارکان نے قرار داد پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حیدر آباد میں اس وقت کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ۔ مذکورہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر اس شہر کی ضرورت کو پورا کیا جائے ۔ سینئر وزیر تعلیم و پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کی یونیورسٹیز ضروری ہیں ۔ مذکورہ کالج کی صد سالہ تقریبات 2017 میں ہوں گی ۔ اس کالج کی قدیم بلڈنگ کو اصل صورت میں بحال کرنے کے لیے کام ہو رہا ہے ۔ ہم اسے ڈگری دینے والے ادارے میں تبدیل کرنے کی تجویز پر غور کر رہے تھے ۔ اسے یونیورسٹی کا درجہ بھی دیا جا سکتا ہے ۔ وزیر ماحولیات ڈاکٹر سکندر میندھرو نے تجویز دی کہ کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کے لیے سندھ اسمبلی بل منظور کرے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...