وزیراعظم کسی سے ملنے نہیں بلکہ علاج کے لیے لندن گئے ،پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کے بچے جواب دہ ہیں:چوہدری نثار

وزیراعظم کسی سے ملنے نہیں بلکہ علاج کے لیے لندن گئے ،پاناما لیکس کے معاملے پر ...
وزیراعظم کسی سے ملنے نہیں بلکہ علاج کے لیے لندن گئے ،پاناما لیکس کے معاملے پر وزیر اعظم کے بچے جواب دہ ہیں:چوہدری نثار

  



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارنے کہا ہے کہ وزیر اعظم نوازشریف کسی سے ملنے کے لیے لندن نہیں گئے بلکہ اپنے علاج کے لیے گئے ہیں ،بد قسمتی سے اس ملک میں مخصوص لوگوں کے لیے بیمار ہونا بھی گنا ہ ہے ۔ان کاکہنا ہے کہ پاناما لیکس کا معاملہ وزیر اعظم کی اولاد کا ہے ،اس معاملے سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ،وزیر اعظم کے بچے اس معاملے پر جواب دہ ہونگے ۔ انہوںنے کہا کہ حکومتی وزیر ہونے کے ناطے میرا پاناما لیکس سے کوئی تعلق نہیں لیکن حکومتی ترجمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات واضح کرتا ہوں کہ حکومت ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار ہے جس سے اس معاملے کی تحقیقات منطقی انجام تک پہنچے ۔انہوں نے کہاکہ پاناما لیکس کے معاملے پر کمیشن کی سربراہی کے لیے کئی ججوں سے درخواست کی جو کہ اچھی شہرت کے حامل تھے ،ان میں جسٹس ناصر الملک ،جسٹس تصدیق جیلانی ،جسٹس امیرالملک مینگل ،جسٹس ساحر علی شاہ ،جسٹس تنویر خان کے نام شامل ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کمیشن کے معاملے پر طوفان بد تمیزی برپا کی جس کی وجہ سے ان میں سے کئی ججوں نے وقت مانگا اور کئی نے معذرت کر لی تا کہ ان کی عزت داغدار نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ اگر جعلی کمیشن بنانا ہوتا تو ججز سے رابطے کی ضرورت کیا تھی ،خواہش تھی کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کمیشن کے سربراہی کریں ،ابھی بھی کئی ججز سے کمیشن کی سربراہی کے لیے رابطے میں ہے جن کا نام نہیں بتاﺅں گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو دل کا مسئلہ گزشتہ کئی سالوں سے ہے جو پچھلے دو ماہ سے کافی گمبھیر ہے ،وزیراعظم نے پہلے بھی سرکاری مصروفیات کی وجہ سے اپنے علاج کے لیے دورہ منسوخ کیا تھا لیکن اب دوبارہ مسئلہ بڑھنے پر ڈاکٹروں نے وزیر اعظم کو بلایا تھا ۔چوہدری نثار نے کہاکہ وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ اس کو کسی دورے سے جوڑنے کے بجائے باقاعدہ علاج کے لیے لندن جائیں ،بد قسمتی سے خود کو دانشور کہنے والے بھی نیچے کی سطح پر آگئے اور وزیراعظم کے دورے پر پوائنٹ سکورنگ شروع کر دی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ترکی کاانتہائی اہم دورہ منسوخ کیا اگر وہ بیمار نہ ہوتے تو ترکی جاکر وہاں سے لندن چلے جاتے ۔

انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کا بزنس کیا ہے اس کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے اور نہ ہی میں جواب دہ ہوں ،پانامالیکس کا معاملہ وزیر اعظم کے بیٹوں کا ہے اور اس کا جواب وہ ہی دیں گے ،حکومت اس معاملے کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر اصل مسئلہ یہ ہے کہ حسن اور حسین نواز جو بزنس کر رہے،کیا اس کا پیسا پاکستان سے گیا ،اگر کوئی پیسہ خلاف قانون ملک سے باہر گیا ہے تو جرم ہے،باہر کے پیسے سے اگر حسن اور حسین نواز بزنس کریں تو یہ بھی بہت بڑا الزام ہے،شریف فیملی کے جو مالی معاملات ہیں اس پر حسن اور حسین نواز جواب دہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں ہوش اور انصاف کا دامن نہ چھوڑیں،کچھ لوگوں نے میڈ یا ٹرائل شروع کردیا ہے ۔

چوہد ری نثار نے کہا کہ جب پاناما لیکس کا مسئلہ سامنے آیا تو بہت سے ملک کے سر براہان نے اس کو مسترد کرتے ہوئے جھوٹ کا پلندہ کہا لیکن وزیر اعظم نواز شریف نے سب سے پہلے قوم سے خطاب کر کے اس معاملے پر کمیشن بنانے کا کہا ،اگر اس معاملے میں کچھ چھپانا ہوتا تو اس پر خاموشی اختیار کی جاتی ۔انہوں نے کہاکہ پاناما لیکس کے معاملے پر عمران خان کو پیشکش کی کہ وہ کسی ایف آئی اے افسر کا نام بتا دیں اس افسر سے تحقیقات کرا لیتے ہیں لیکن خان صاحب نے ایف آئی اے کے افسر کا نام دینے کے بجائے شعیب سڈل کا نام دیا ۔چوہدری نثار نے کہا کہ پاناما لیکس کے معاملے کو عمران خان نے کرپشن کیس بنا دیا ہے ،اس کیس میں عمران خان کے دائیں اور بائیں کھڑے ہونے والے بھی ملوث ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں عمران خان نے چوہدری برادران کے خلاف بہت بیانات دیے جو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ،عمران خان قوم کو بتا ئیں کو چوہدری برداران اب پاکباز کیسے ہو گئے ،عمران خان اپنی سیاسی گیم کو کرپشن یا پاناما لیکس کانام نہ دیں ،اگرعمران خان اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاناچاہتے ہیں تو آئیں مل کر کام کرتے ہیں اور مشاور ت سے کوئی فورم طے کرتے ہیں ۔

چوہدری نثار نے کہا کہ رید زون میں جلسے کی مکمل پابندی لگا دی گئی ،اس حکومت میں دو بار ایسا ہو چکا ہے کہ لوگوں نے آکر اسلام آباد کو مفلوج کردیا ،اب 8،10ہزار افراد کی دوبارہ چڑھائی کی کوشش میں کسی بھی واقعے کی ذمہ داری منتظمین پر ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ ریڈ زون کے علاوہ جلسے پر مشاورت ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بغیر مشاور ت سے پی ٹی آئی کا جلسہ نہیں ہو سکتا ،اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لے جائیں گے اور پارٹیوں سے مشاورت کریں گے ۔ا ن کا کہنا تھا کہ حکومت کو نشانہ بنانے کے پیچھے خالصتاً ایک سیاسی چال ہے ،عرصہ دراز سے کوشش کی جارہی ہے کہ حکومت کومنجمد کردیا جائے۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...