A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

جنات کا غلام۔۔۔ پچیسویں قسط

جنات کا غلام۔۔۔ پچیسویں قسط

Apr 13, 2016 | 19:15:PM

شاہد نذیر چودھری

معروف صحافی اور محقق ’’شاہد نذیر چوہدری ‘‘ کی اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحقیق پر مبنی سچی داستان ’’جنات کا غلام ‘‘

چوبیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

اس سے اگلی شام بھی میرے لئے بڑی مصروف اور عجیب تر تھی۔ شام کو ہی شاہ صاحب نے مجھے کہہ دیا تھا کہ آج وہ مجھے اپنے ساتھ سمبڑیال لیکر جائیں گے.... یہ قصبہ وزیرآباد سیالکوٹ روڈ پر ہے۔ نہر کے کنارے آباد اس قصبہ کو چند ماہ پہلے ہی تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہاں سکھ اور ہندو رہتے تھے۔ یہاں سیالکوٹ کا ڈرائی پورٹ بھی ہے جو لب نہر ہے۔ شاہ صاحب نے بتایا کہ انہیں ایک ستم گزیدہ گھرانے کی مدد کرنی ہے۔ اس گھر میں آنے والی ہر بہو پر جن عاشق ہو جاتا تھا۔ جس سے گھبرا کر اس گھر کے نوجوان قصبہ چھوڑ جاتے تھے۔ اب وہاں صرف چھوٹا بیٹا، ایک بیٹی، ان کی والدہ اور والد رہ رہے تھے۔ چھوٹی بہو کو بھی دورے پڑتے تھے.... لیکن انکا بیٹا عمران اپنے عقیدے پر سختی سے کاربند تھا.... وہ کہتا تھا کہ ہمارے گھر میں جن بھوت کا سایہ نہیں ہے۔ یہ صرف وہم پرستی ہے۔ گھر کا سربراہ سنیارا تھا۔ پیسے کی کمی نہیں تھی۔ خوشحالی تھی.... ہم ان کے گھر مغرب کے وقت ہی پہنچ گئے تھے۔ پرشکوہ عمارت تھی۔ لیکن ایک صدی پرانی۔ گھر میں انجیر کا پچاس سال پرانا درخت تھا۔ اس کے سامنے لان تھا جس میں گھاس اور پودے تھے.... لان سے آگے رہائشی کمرے تھے.... گھر میں ایک شیفرڈ نسل کا کتا تھا۔ بہت خوفناک شکل تھی اس کی۔

سنیارے کا نام بھٹی فرض کر لیتے ہیں۔ اصل نام لکھنے کی ہمیں اجازت نہیں ہے۔ سنیارے بھٹی نے ہمارے لئے بہت ہی پرتکلف کھانا تیار کیا تھا۔ ہیڈ مرالہ کی تازہ مچھلی پکوائی تھی.... عشاءپڑھنے تک ہم گھر والوں کے ساتھ بات چیت کرتے رہے۔ سنیارا بھٹی بار بار شاہ صاحب اور مجھ سے بابا جی کے متعلق باتیں کرتا رہا ۔ وہ بڑا مشتاق تھا۔ اسے وہم بھی تھا کہ کہیں اسے بیوقوف تو نہیں بنایا جا رہا۔ عشاءکے بعد شاہ صاحب نے گھر کے سبھی افراد کو بڑے کمرے میں بلا لیا اور دروازہ بند کر کے لائٹ بجھا دی.... انہوں نے محفل کے آداب سے بھی آگاہ کر دیا تھا۔ سب نے درود ابراہیمی شروع کر دیا۔ شاہ صاحب بجلی کے سوئچ بورڈ کے پاس کھڑے تھے۔ وہ زیر لب غیر مانوس زبان میں کچھ پڑھنے لگے اور ساتھ ساتھ بجلی کو آن آف کرتے رہے۔ چند منٹ بعد وہ وہاں سے ہٹ گئے.... کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا اور ساتھ ہی ”اسلام علیکم“ کی بھاری بھرکم آواز آئی.... بابا جی اپنی اصلی شکل میں آ گئے تھے.... یہ بجلی کا بار بار بجھانا اور وظائف پڑھ کر انہیں طلب کرنا دراصل انہیں اصلی جناتی شکل میں ہی متشکل کرنے کا باعث تھا.... گھر کے سبھی افراد نے فوراً وعلیکم اسلام کہہ کر ان کا استقبال کیا۔ بابا جی کی آمد سے سنیارے بھٹی کی سانسیں جوش سے تیز ہو گئی تھیں۔ بابا جی کی آمد کے ساتھ ہی شیفرڈ کتے نے بھونکنا شروع کر دیا تھا....

”اسے تو دفع کرنا تھا.... ریاض شاہ....“ بابا کی گھمبیر آواز سنائی دی....

”اوہ.... مجھے یاد نہیں آیا....“ ریاض شاہ جلدی سے بولے ”عمران....“ انہوں نے سنیارے بھٹی کے بیٹے کو مخاطب کیا....“ کتے کو کسی دوسرے گھر میں چھوڑ آﺅ....“ عمران کمرے سے باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ کتا دردناک آواز میں چیخنے لگا....

”ٹھہرو.... تم اب باہر نہ جانا....“ غازی کی چہکتی آواز سنائی دی.... ”میں نے اسے سلا دیا ہے....“

”سلا دیا.... مار دیا.... کیا.... میرا کتا تو بہت قیمتی تھا....“ عمران کہنے لگا۔

”تم سے زیادہ قیمتی نہیں تھا وہ....“ غازی اس کے پاس پہنچ کر بولا.... اور پھر اس نے اسے چٹکی کاٹ کھائی تھی کہ عمران بلبلانے لگا۔

”کک.... کون ہو تم.... یہ کیا کرتے ہو.... پیچھے ہٹو ناں....“ وہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔

”غازی ادھر آرام سے بیٹھو....“ بابا جی نے اسے ڈانٹ کر کہا تو وہ میرے پاس آ گیا.... اور میرے کان میں سرگوشی کر کے بولا۔

”بھیا.... یہاں تو پورا قبیلہ آباد ہے.... سارے ہندو ہیں.... برسوں سے ان کی پکھی یہاں آباد ہے.... ان میں چڑیلیں بھی ہیں“۔

چڑیلیں جنات اور شیاطین (بھوت) کے درمیان میں ایک بگڑی ہوئی شیطانی مخلوق ہے۔ جس طرح گھوڑے اور گدھے کے مابین.... ایک مخلوق خچر کہلاتی ہے۔ اسی طرح جنات اور بھوتوں کے درمیان مونث النسل مخلوق چڑیل کہلاتی ہے۔ یہ کافر ہوتی ہیں.... ان کا کام انسانوں کو گمراہ کرنا اور انہیں گندگی پر مائل رکھنا ہوتا ہے۔

”کام بہت بھاری ہے....“ بابا جی نے سب کا حال احوال جاننے کے بعد کہا.... اور پھر شاہ صاحب کے ساتھ اسی غیر مانوس آواز میں بولنے لگے.... بات مکمل کرنے کے بعد شاہ صاحب میرے پاس آئے اور ایک کند سی چھری میرے ہاتھ میں پکڑا دی اور کہا۔ ”ہوشیار رہنا.... آنکھیں نہ کھولنا.... بابا جی چڑیلوں کو پکڑنے لگے ہیں....“ ابھی انہوں نے یہ کہا ہی تھا کہ کمرے میں جیسے بھونچال سا آ گیا تھا.... ایک عورت کی دہشت ناک آوازیں آنے لگیں.... باریک اور بہت ہی تیز آواز تھی یہ....

”اوئی میں مر گئی.... ہائے میں مر گئی....“ وہ روتے روتے چلانے لگی.... ”بابا اس کو باز کرو.... مجھے چٹکیاں کاٹ رہا ہے....“ میں نے جان بوجھ کر آنکھیں کھول دی تھیں۔ اندھیرے میرے لئے روشنی بن گئے تھے اور رات کی سیاہی میں چھپے وجود مجھ پر بے نقاب ہو گئے تھے.... چڑیل ایک بہت بڑی پرچھائیں کی طرح پورے کمرے میں بھاگ رہی تھی۔ گھر کے سبھی افراد کے پیچھے سفید لبادہاوڑھے جنات کھڑے تھے جو پرچھائیں نما چڑیلوں سے انہیں محفوظ کئے ہوئے تھے۔ غازی اسکے پیچھے بھاگ کر اسے چٹکیاں کاٹ رہا تھا.... اور پھر اس نے اسے پکڑ کر دروازے کے پاس کھڑا کر دیا تھا....

”آپ جانتے ہیں میری پکھی بڑی طاقت والی ہے۔ اگر تم نے ان انسانوں کی وجہ سے تنگ کیا تو ہم اس گھر کو جلا کر راکھ کر دیں گے....“

”بکواس بند کرتی ہے کہ نہیں....“ غازی نے ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پر مارا تو وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگی تھی۔

”جو سرکار نے پوچھا ہے اس کا جواب دو....“

”ہم ستر سال سے یہاں آباد ہیں.... انجیر کے پودے پر ہماری پوری ”پکھی“ (خاندان) آباد ہے....“

”ان بھلے انسانوں کو تنگ کیوں کرتی ہو....“ بابا جی نے درشت انداز میں پوچھا۔

پہلے تو اس نے ایک بار پھر جواب دینے سے گریز کیا لیکن جب غازی نے اسکی گردن ناپی تو وہ بولی۔ ”ہماری ان سے کوئی دشمنی نہیں ہے.... لیکن اس سنیارے کا باپ جب اس کوٹھی میں آباد ہوا تو اس نے ہمارے استھان پائمال کر دئیے تھے۔ اس کا باپ تہجد گزار تھا۔ بڑی عبادت کرتا تھا۔ ہم اسکو تنگ نہ کر سکیں۔ اسکے مرنے کے بعد اس موئے بھٹی کی اولاد کو ہم نے نشانہ بنایا.... اسے کہو یہ گھر چھوڑ کر چلا جائے.... ہمیں سکھ سے رہنے دے....“

”مم.... میں کیسے گھر چھوڑ کر جا سکتا ہوں.... یہ کوٹھی.... بڑی مہنگی ہے....“ سنیارا بھٹی چڑیل کی بات سن کر کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔ ”بابا جی.... آپ انہیں نکال دیں یہاں سے....“

چڑیل یہ سن کر بولی.... ”تم ہماری قیمت ادا نہیں کر سکتے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے....“

”جانا تو تمہیں پڑے گا....“ بابا جی سخت انداز میں بولے اور پھر غیر مانوس زبان میں شاہ صاحب کے ساتھ باتیں کرنے لگے.... غازی نے چڑیل کا منہ بند کر رکھا تھا....

”بھٹی صاحب.... انہیں مارنا اتنا آسان نہیں ہے اور انہیں یہاں سے رخصت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو اسکی قیمت ادا کر دی جائے....“

”کتنی رقم چاہئے....“ سنیارا بھٹی بولا....”میرے بس میں ہوئی تو دے دوں گا....“

”پچاس تولے سونا مانگتے ہیں یہ....“ ریاض شاہ بولے....

”پپ.... پچاس.... تولے.... جناب میں اتنا سونا کہاں سے لاﺅں۔ پانچ دس تولے.... تو دے سکتا ہوں میں.... اور پھر سونا انکے کس کام کا“

”نہیں.... سونا تو پچاس تولے ہی دینا ہو گا.... اور ابھی.... انہیں ادا کر کے رخصت کرنا ہو گا.... انہیں مہلت نہیں دے سکتے....“ ریاض شاہ نے کہا.... تو سنیارا بھٹی بوکھلا گیا

”یہ ممکن نہیں ہے.... میں کیسے....“

”ارے چپ کرو جی....“ اسکی بیوی تڑخ کر بولی۔ ”کیا یہ سونا ہمارے سونے جیسے بچوں سے زیادہ قیمتی ہے....“ ابھی اس نے یہ کہا ہی تھا کہ دوسرے کمرے سے کسی بچے کے رونے کی آواز آنے لگی۔ یہ سنتے ہی سنیارے کی بہو چلائی۔ اسکا بچہ دوسرے کمرے میں تھا۔ بابا جی سمجھ گئے کہ کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ دوسرے کمرے میں جاﺅ اور بچہ اٹھا کر لے آﺅ....

±ٍمیرے لئے ایک کمرے سے دوسرے کمر ے تک جانا کوئی بہت لمبی مسافت نہیں تھی ۔ لیکن جب کارگہ فطرت کی ایک ایسی سچائی آپ کے سامنے کھڑی ہو جسے جھٹلانا ناممکن ہو آپ کے لئے پل صراط بن جاتی ہے ‘انگار وادی بن جاتی ہے ‘خارزار بن جاتی ہے ۔ اندر بچہ بلک رہا تھا....ادھر اس کی ماں تڑپ رہی تھی ....اسے خدشہ تھا کہ یہ بلائیں اسکے بچے کو نہ مار ڈالیں۔مجھے حکم ہوچکا تھا کہ میںاندر جاﺅں اوربچے کو اٹھا کر لاﺅں ....بظاہر معمولی سی بات تھی .... کمرے کا دروازہ چار قدموںپر تھا ....میںجب اسکے دروازے تک پہنچا تو غازی کے ہاتھوں میںماہی بے آب کی طرح مچلتی پرچھائیں نے چنگاڑ ماری اور مچھلی کی طرح اس کے ہاتھوں سے نکل گئی ....۔

لمحے ساکت ہوگئے ‘کمرہ خوف کے سمند ر میںڈوب گیا۔صرف اس ایک لحظہ میںانسانوں کے دل دھڑکتے سنائی دینے لگے ....پر چھائیں مجھ پر جھپٹی تھی ....اوراس کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب بابا جی سرکار اس سے بھی زیادہ تیزی کےساتھ میرے اور اسکے درمیان دیوار بن گئے تھے اور پھر انہوںنے الٹے ہاتھ کاایسا تھپڑ اسکے منہ پر مارا کہ وہ بلبلاتی اور اچھلتی ہوئی اسی کو نے میں دوبارہ مقید ہوکر رہ گئی جہاںغازی کھڑا تھا....۔ میر ا پورا بدن جھرجھری لیکر رہ گیا ۔ دماغ میںعجیب سنساہٹ تیرنے لگی ۔ باجی نے میرے کاندھوں پر اپنا روئی کے گالوں جیسا ہاتھ رکھا تو میرے اعصاب پر طاری لرزے کی چادر سرک گئی ....۔

”جاﺅ بچے کو اٹھالاﺅ ....“بابا جی نے شفقت بھرے لہجے میں کہا ۔

دوسرا کمرہ گھپ اندھیرے میںڈوباہوا تھا....۔ کچھ سجائی نہ دیا تو میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو معاً مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر دائیں جانب شعلہ سا بلند ہوا اور کسی نادیدہ ہاتھ نے موم بتی روشن کردی ....۔ادھر ایک تخت پوش بچھا ہواتھا۔ جس پر کوئی شخص سفید چادر لیئے دو زانو ہوکر بیٹھا ہوا تھا ۔اس کے سامنے ہی ایک بڑی سی گٹھڑی رکھی ہوئی تھی جس میں خاصی اچھل کود ہورہی تھی ۔ وہ شخص تھوڑے تھوڑے وقفہ سے کوئی شے اٹھاتا اورگٹھڑی پر مارنے لگتا تو اس کے اندر مچلنے والی چیزوںکی تیز سیٹی جیسی چیخیں سنائی دینے لگتیں۔ بچہ بستر پر لیٹا ہواٹانگیں مار مار کر رو رہاتھا ۔میںنے جلدی سے اسے اٹھایا اور واپس کمرے میں پہنچاتو میری سانس پھول گئی۔ مجھے یوںلگا میں بہت دور سے بھاگ کر آیا ہوں ۔

”بھیا ڈر گئے ....“ غازی نے کہا میرے ہانپتے کانپتے اور دھڑکتے دل کی چاپ سنی تو مجھ سے اٹکھیلیاں کرنے لگا

”یار....میںنے کبھی یہ کام نہیںکیا۔ ڈر تو لگنا ہی تھا....“ میںنے پھولی ہوئی سانسوںکے درمیان جواب دیا ۔

”کمال ہے .... آپ تو بہت کچھ دیکھ چکے ہیں۔ ٹاہلی والی سرکار کے پاس بھی تو کالی داس کے چیلوں کی ٹھکائی ہوئی تھی .... وہاں بھی انہیں بوریوں میںبندکیا گیا تھا ....۔ یادہے ادھر جب کتا بھونکنے لگا تھا تو پکھی کی چڑیلوں نے اودھم مچادی تھی ۔ اس لیے انہیںپکڑ کر باندھنا پڑا ۔ اندر غلام محمد اور ہمارے دوسرے ساتھی جنات ان پر پہرہ دے رہے تھے ۔ ویسے بھیاآپ کو ڈرنا نہیںچاہیے تھا ۔ آپ کے پاس وظائف کاخزانہ اور ہاتھ میں چھری تھی ۔ آپ پھر بھی گھبراگئے ....“ غازی میرامذاق اڑانے لگا۔

”یار میںکوئی عامل کامل تو ہوں نہیں ....“میںنے کہا ” ہر آدمی اپنے کام میںہی اچھا لگتا ہے ۔ ابھی میرے لئے یہ تجربات حیرت ناک اور ہولناک ہیں د ل آہستہ آہستہ مضبوط ہوگا....“

ہم دونوں کو یوںباتیںکرتے دیکھ کر اہل خانہ کے دلوں سے خوف اترنا شروع ہوگیا۔ سنیارا بھٹی تو بابا جی کی شخصیت اوران کی قوت سے اسقدر متاثر ہوگیاتھا کہ اب وہ انہیں اسی تولے سونا دینے پر بھی تیار ہوگیا تھا۔ کہنے لگا ۔

”سرکار .... میںآپ کو اسی تولے سونا دے دیتاہوں لیکن اس بات کی ضمانت کیاہے کہ میرے بچے ان شیطانوںسے محفوظ رہیںگے ....“

”کیاہمارا یہاںموجود ہونا اس بات کی ضمانت نہیںہے .... “ باباجی سرکار نے کہا ”ہمارا یہ بیٹا تمھارے پاس ہے ۔ جب تمھیں کبھی ایسی شکایت ہو اسے کہہ دینا ....“ انہوںنے ریاض شاہ کی طرف اشارہ کیا ۔مجھے اس سودے بازی سے بڑی کھد بد ہورہی تھی کہ باباجی نے بھٹی سنیارے کے گھر سے چڑیلوں کی پکھی ختم کرنے کےلئے یہ سودابازی کیوںکی ہے ۔ وہ اتنا سونا لیکر کیاکریںگے ۔مجھے یہ سب بڑامعیوب لگ رہا تھا ۔ چونکہ اب مجھے کسی بھی قسم کی صحبت سے منع کیاگیا تھا اس لیے میںان سے دریافت تو نہ کرسکا مگر میرے اندر کا حجتی اس تشویش میں ضرور مبتلا رہا کہ آخر انہوںنے سنیارے سے اسقدر سوناطلب کیوں کیاہے ؟

”سنیارے پتر ....“جب معاملات طے ہو چکے تو بابا جی ایک طویل توقف کے بعد اس سے مخاطب ہوئے ” تو دل سے راضی ہے ناں ....”

سنیارے بھٹی نے جواب دینے میںتامل سے کام لیا اور پھر جب بولا تو لگا جیسے اس کی شہ ر گ پر کسی نے چھری رکھ کر اسے بلوایا ہو۔” جی.... جان ہے تو جہان ہے ....“

” اپنی جان تو سبھی کوپیار ہوتی ہے ۔تو نے سچ کہا ہے ۔“ بابا جی ہنس کر بولے ” یہ گندی مخلوق ہم نے پکڑ ی ہے اس کی بھی جان ہے ....ہم مسلمانوں کو ہرایک جان کا حساب دینا ہے ۔ہم اگر کسی کو قتل کردیںگے تو اس کی کوئی معقول وجہ ہمارے پیش نظر ہوگی۔ بے وجہ قتل کرنا اللہ کے ہاں ناپسندیدہ عمل ہوتا ہے ۔ کسی کافر کو بھی بے وجہ قتل کرنا حتیٰ کہ کیڑے مکوڑوں جانوروں کاقتال بے وجہ کرنا ایک مسلمان کے تقویٰ اور ایمان کا امتحان بن جاتاہے۔البتہ موذی جنس اور اللہ کے شریک کا قتل واجب ہوجاتا ہے جب وہ آپ کی جان لینے پر تل جائے یا وہ اللہ کی ربو بیت کو ٹھکرا دے۔.... لیکن یہ معاملہ بھی بہت حساس ہے اس پر بات فی الحال مو¿خر کرتے ہیں۔ میںتمھیں ان چڑیلوںکے قتل کے حوالے سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ انہیں ماردینا ہمارے لئے مشکل کام نہیںہے ۔ہم جہاد سمجھتے ہوئے ان کا قتل کر دیںگے .... ۔اور یہ ہم کرتے رہتے ہیں ۔ مشرک جنات اورگہرے دھوئیں کی شیطانی مخلوق کے خلاف جہاد اس وقت سے جاری ہے۔جب یہ تمھاری دنیا ....اوراس زمین پر انسان آباد نہیں کیا گیاتھا ۔ لطف کی بات یہ ہے کہ وہ شیطانی اعظم یعنی ابلیس جیسے تمام جنات سے مختلف مخلوق سمجھتے ہو۔ درحقیقت ایک جن ہی تھا اس کی اطاعت خداوندی بے مثال تھی ۔ اس نے نہ جانے کتنے زمانوںتک کافر جنات کے خلاف جہاد کیا اور اپنی عبادت و ریاضت کے درجات طے کرتاہواسلطان الملائکہ بن گیا تھا ۔ یعنی فرشتوں کو بھی درس و ہدایت کے درس دیتا تھا ۔لیکن جب وہ تکبر کے غضب میںمبتلا ہواوراس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو وہ شیطان ملعون کہلایا .... ۔یہ چڑیلیںبھوت جنات سے قدرے مختلف مخلوق ہیںجو صرف دین ابلیس پر عمل پیرا ہیں۔ تم مسلمان اپنی عبادات اوراللہ تعالیٰ کی عطا سے اس مخلوق پر بھاری ہو اور اس حجاب قدرت اور نظام مخلوقات کی وجہ سے ان سے محفوظ رہتے ہوجو اس مخلوق کو تو نظر آتا ہے تمھیںنہیں۔ہاںتم ریاضت عبادت کے بل بوتے پر دیکھ لو تو دیکھ لو.... اس کے علاوہ یہ مخلوق تمھیں اپنااحساس دلائے تو تمھیںپہلے گماں اور پھر یقین ہوتا ہے کہ تمھارے آ س پاس تمھاری زندگیوں میںاس مخلوق کادخل ہے ۔ تم براہ راست متاثر ہوئے تھے۔ جبکہ یہ گھر جہاںکبھی ہندوﺅں کا مرگھٹ تھااس آبادی میںسکھوں اور ہندوﺅںکی افراط رہی ہے ‘یہ یہاں کے قیامتی ہیں۔ یہ یہاں کے قابض ہیں۔ اولاً تو انہیں یہاں سے چلے جانا چاہیے تھا۔ یہ حکم خداوندی ہے ۔ اس مخلوق کو انسانی بستیوں میںقیام کی اجازت نہیںہے ۔ لیکن جوجنات و بھوت چڑیلیں اپنے پرکھوںکی روایات اوراپنے خاندانوں کی عصبیت کا شکار ہوتے ہیں وہ اپنی جگہیں بڑی مشکل سے چھوڑآتے ہیں ۔ سیانے لوگ جب نیاگھر بناتے ہیںتو اسکی بنیاد رکھتے ہوئے نذر نیاز کرتے اور آیت الکریمہ پڑھاتے ہیں ۔ جس گھر کی بنیاد اعوذ بااللہ اور بسم اللہ پڑھ کر رکھ دی جائے اس مقام پر ٹھہری مخلوق نار کو چلے جانے کاحکم ہوتا ہے ۔ اگر وہاں مسلمان جنات مقیم ہوں تو وہ اطاعت خداوندی کے سامنے سرجھکا دیتے ہیں اورشیطانی مخلوق بھی وہاںنہیں ٹھہرتی کیونکہ آیات قران کے اثرات ان کے اجسام کو وہاں ٹھہرنے نہیں دیتے ۔تم نے دیکھاہوگا انسانوںمیںسے ایسے کافر انسان بھی گھروں میںآباد ہونے سے پہلے اور بعدمیںوہاںایسی رسومات اداکرتے ہیںجو بظاہر انکی مذہبی روایات کا اظہار ہوتی ہیںمگر ان کامقصد اس مقام پر مقیم ناری مخلوق کو رخصت کرنا ہوتا ہے ۔ انکے کلمات شیطانی ہوتے ہیں۔ ابلیس کاعلم شیطانی علم کہلاتا ہے جو کافروں کے ہاںمروج ہے ۔اس کی سب سے بدترین مثال ہندوﺅں کی ہے ....جب یہ لوگ گھروں میںآباد ہوتے ہیںتو یہ ایسی جڑی بوٹیاںجلاتے ہیںجن کے اندر قدرت نے ایسے اثرات رکھے ہیں کہ یہ مخلوق دوطرح سے وہاںسے رخصت ہوتی ہے .... اول تو وہ مخلوق ان جڑی بوٹیوں کے جلنے سے پیدا ہونے والی مہک کو برداشت نہیںکرسکتی دوئم یہ کہ .... اس مخلوق میںایسے بھی خناس ہوتے ہیں جو اس مہک کو اپنے لئے نعمت سمجھتے ہیںاور وہاں سے چلے جاتے ہیں۔تمھیں سمجھانے کے لیے مجھے یہ وضاحت اس لیے کرنی پڑ رہی ہے کہ تو سوچ رہا ہے کہ ہم نے اسی تولے سونا کیوں مانگا .... ان شریر اجسام نے تو تمھاری جان بھی طلب کی تھی ۔ کہتی تھیں کہ ہم کو سنیارے بھٹی کا خون پلا دیںہم یہاںسے چلی جائیںگی۔ اب تم کہو کیامیںان کی یہ بات مان لیتا ۔ میںنے کہا کہ میںا ن کو قتل کردیتا ۔ لیکن یہ ہمارے اوراس مخلوق کے درمیان لڑائی کا آغاز ہوتا۔ ہم مسلمان اجناءکافر اجناءاور شیطانی مخلو ق میں حق و باطل کی لڑائی ہوتی ہے تو ہ تمھیں نظر نہیں آتی ۔ ہم دنیا پر ظاہر نہیںہوتے ۔ اگر ہم اس حجاب فطرت کی خلاف ورزی کریںگے تو انسانی بستیاں تباہ ہوجائیںگے ۔ گھر بنیادوں سے اور چھتوںسے اڑ جائیںگے ۔ ہر سو تمھیںمٹی اور ہوا کے بگولے نظر آئیں گے ۔ تو اس کا اثر کیاہوگا ۔ یہ کہ انسان دہشت زدہ ہوجائیں گے اور پھر اس پر ہماری پکڑ ہوگی۔ میرے بچے ۔ ہم اس پکڑ سے ڈرتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ نار جہنم کیاہے ہاں.... ہم تم سے تعاون کرتے ہوئے ‘انہیں یہاں سے ہجرت کر جانے پر آمادہ کریںگے ۔ اس کے لئے ہمیں انہیں قیمت چکانی ہوگی۔ ہمیںبہت سارے ان جانوروں کی قربانی بھی کرنی ہوگی جو تمھیں اور ہمیں پسند نہیںہیں.... ہم اس اہتمام کا بھی خطرہ مول لے نہیں سکتے .... ہم یہ سونا انہیںدیںگے یا پھر ان مظلوم غلاموں کو یہ سونا دیںگے جو اسکے بدلے میںانہیںایسی غذائیں مہیا کر دیںگے جو انہیں پسند ہیں۔ ہم اپنے ہاتھوں کو غلیظ نہیںکریں گے ۔ اور ہاں .... ہمارے ہوتے ہوئے ۔ اگر ان میں سے کسی نے کسی انسان کو جانی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو رب ذوالجلال کی قسم ہم انہیںقتل کردیںگے .... اور یہ ہم نے ان سے کہہ دیاہے۔ اس مخلوق کو راضی کرکے ‘وعدہ لے کر انسانی بستیوںسے بھیج دیناتمھاری اپنی روایات میںبھی ملتا ہے ۔

اس روزمیں نے محسوس کیا کہ بابا جی سرکار بہت کھل کر بول رہے تھے ۔ ان کی عمر رفتہ کے راز اور مخلوق نار کی پر اسرار روایات سے بھی آگاہی ہورہی تھی۔ گویا بابا جی سرکار پر وجد طاری تھا ۔ میںنے اس مرحلہ پر غفلت اختیار نہ کی اوراپنی معلومات اجناءکے لیے سوال داغ دیا ۔ میرایہ سوال بہتے پانیوں میںایک دم سے تلاطم برپا کردینے کے مترادف تھا۔ لیکن اب مجھے یہ یقین ہو چکا تھا کہ بابا جی سرکار مجھ سے ناراض نہیںہوں گے ۔

”سرکار یہ مخلوق ابلیس جو اس گھر کے سکون کو غارت کررہی تھی۔ محض اسی وجہ سے ان سے دشمنی لے رہی تھی کہ انہوںنے ان کی بستی پر قبضہ کرلیا تھا ۔ سرکار یہ گھر تو بہت چھوٹا ہے ۔ انکی بستی اس گھر کے اندر کیسے سما سکتی ہے ۔ “

میری بات سن کر سنیارے بھٹی کے منہ سے ”ہوں“نکل گیا۔ جس کا مطلب تھاکہ وہ ابھی تک شک و شبہ میںمبتلا تھا اور گویا اس کا ”ہوں “ کہنے کا مطلب تھاکہ یہ ہوا ناں سوال ....

بابا جی نے قدرے خاموشی کے بعد میرے سوال کا جواب دیا ۔ اسی دوران ان کی بھرائی ہوئی سانسوںسے محسوس ہورہا تھاکہ وہ کمرے میں چہل قدمی کررہے ہیں۔ کہنے لگے ” تمھیں نہیںمعلوم .... کہ یہ مخلوق مخقی .... کی اصل جسامت کیاہے اوران کے معمولات کیاہیں۔ اگر میں تمھیں یہ کہوں کہ انجیر کے اس درخت کی ایک شاخ پر ہزاروں جنات اورابلیسی مخلوق قیام کرلیتی ہے تو تم ہنس دو گے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے میر ے بچے جسے تمھاری سائنس بھی تسلیم کرتی ہے ذرا غور سے سنو.... اگر تم ایک چھوٹاسا قطرہ خورد بین کے نیچے رکھ کر دیکھو گے تو اس میں تمھیںہزاروں جراثیم نظر آئیں گے ۔ ان جراثیموں کی تعدادتمھیںاس وقت معلوم ہوگی جب تم انہیں دیکھنے کے لئے خورد بین کاسہارا لو گے ۔ میںحیران ہوں تم انسانوںنے اپنی اس ایجاد سے یہ نظریہ کیوںنہیںتسلیم کرلیا کہ ہوا میں یہ مخفی مخلوق ان جراثیموں کی طرح ہوسکتی ہے جو نظر نہیںآتے اور ہرانسان انکا شکار بھی نہیںہوتا ۔ لیکن جب کوئی انسان کسی ایسے جراثیم کا شکار ہوتاہے جو جان لیوا ہو ‘ کسی بیماری کو پھیلانے کاموجب بنتا ہو تو تم اس مخصوص بیماری سے نجات کے لئے معالج سے رابطہ کرتے ہوں ‘ادویات استعمال کرتے ہو ‘عمل جراحی سے گزرتے ہو .... پس یہ جان لو .... کہ یہ شیطانی مخلوق ان جراثیم سے زیادہ مہلک ہے جو تمھارے خون میں گردش کرتے رہتے ہیں ۔ ایک انسان کے اندر اسقدر جراثیم ہوتے ہیںکہ تم ان کاشمار نہ کر سکوگے ۔ ان جراثیم کا باہر کے جراثیموں کے ساتھ جب ملاپ ہوتاہے تو اندر شرارے پھوٹتے ہیں ۔ مگر یہ تمھیں معلوم نہیںہوتا.... مگر جب طبیعت خراب ہوتی ہے ٹیسٹ کراتے ہو‘علاج شروع توتب معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کیا تھی اوراس کا علاج کیسے کیاگیا ۔

میںچونکہ خود اجناءکی دنیا میں ایک طبیب بھی ہوں ۔ اس لیے میںطب کی رو سے یہ سمجھا رہا ہوں تاکہ تمھیں معلوم ہوسکے ۔ تم جانتے ہو کہ یرقان کے مریض مرگی کوکی دوا دیکر ٹھیک نہیںکیا جاتا۔ غور کرو تو تمھیں معلوم ہوجائے گا ۔ کہ یہ علاج معالجے دراصل نظام قدرت کو سمجھنے کے اشارے ہیں۔ بالکل اس طرح ہمار ی مخلوق کے معاملات کو بھی سمجھا جا سکتاہے “

مگر سرکار جب چڑیلوںکی یہ پکھی انجیر کے اس درخت کی ایک شاخ پر آزادی سے رہ سکتی ہے تو پھر اسے کیاتکلیف ہے ۔اس گھر کے افراد کو کیوں تنگ کرتی ہے ۔“

” شاہد پتر.... افسوس کہ میںاس وقت سے تم لوگوں کو یہی بات سمجھا رہا ہوں جو تم سمجھ نہیںپائے ۔ کہ یہ مخلوق شیطان کی پیروکار ہے ۔کیاتم نہیں سمجھتے کہ شیطان کون ہے اور وہ کیا کام انجام دے رہاہے ۔میرے بچے ۔یہ ناری مخلوق عصبیت اور انتقام سے بھری ہوئی ہے جب تک یہ شرارت نہیںکرے گی اسے سکون نہیںملے گا ۔اس کے علاوہ ایک اوربات بھی ہے ۔ یہ جو سنیارہ بھٹی ہے ناں .... جوانی میںبڑا دل پھینک قسم کا نوجوان تھا .... کیوںبھٹی ۔ کیامیں غلط کہہ رہا ہوں“ باباجی نے بڑے خوشگوار انداز میں پوچھا تو سنیارہ بھٹی اپنے بچوں کی موجودگی میں شرم سے دوہرا ہوگیا۔

”اورکیاجی .... یہ تو اب بھی باز نہیںآتے ....“ سنیارے بھٹی کی بیوی نے اس کی خاموشی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جواب دیا ۔ تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی ۔

” بڑی خوشبو لگاتا پھرتا تھا یہ .... اکثر دو پہر کے وقت انجیر کے درخت کے نیچے چار پائی بچھا کر اس پر لیٹ جاتا اور ریڈیو پر گانے سنتا رہتاتھا ۔ عین جب سورج دھرتی پر نیزے کی طرح کھڑا ہوتا ہے یہ ناری مخلوق اپنے جوبن پر ہوتی ہے ۔ دوپہر اورزوال کا وقت ان کی مستیوںاورمصروفیات کاوقت ہوتاہے ۔ کیوں بھٹی ....تمھیں آدھی دھوپ اورآدھی چھاﺅں میںسونے کاشوق نہیں تھاکیا....۔

”جج جی سرکار .... ‘ ‘ وہ شرما کر بولا “ ....مگر آپ کو کیسے معلوم ہے .... “

”انجیر کے نیچے یہ چارپائی ایسے بچھاتاتھا کہ آدھی دھوپ میںاور آدھی انجیر کی گھنی اور ٹھنڈی چھاﺅںمیںہوتی تھی ۔ اس کاآدھاجسم دھوپ کی تمازت کا لطف اٹھاتااور آدھا ٹھنڈی چھاﺅںکے لطیف احساس سے بھر جاتا ۔ خوشبو یہ جاندار لگاتا تھا ۔ .... اس کایہ بنناسنورنا انجیر پر آباداس مخلوق کی عورتوںکو بڑالبھاتاتھا۔ وہ اسکی چارپائی کے گرد چکر لگاتی پھرتیں ‘ جب دھوپ بڑھ جاتی اورہوا جھلسنے لگتی ہے تو تم نے کبھی اس ہوا کا شور سنا ہے .... یہ گرم اور جھلسی ہوئی ہواتمھیں صحراﺅںاور بیابانوںمیںمحسوس ہوگی ۔اس کااپنا وجوداور آلاپ ہے اس مخلوق پر جب مستی طاری ہوتی ہے تو یہ گاتی ناچتی پھرتی ہے ۔ گرم اورجھلسی ہواﺅں کا یہ شور در حقیقت وہ گانے اورنوحے ہیں جو یہ مخلوق گاتی ہے ۔لیکن تم اس تیش آلود ہوا کی زبان نہیںسمجھ سکتے ۔ سنیارے بھٹی کی یہ ادا ان ناری عورتوں کو بہت پسند تھی اس لیے وہ اس کی قربت کی بھی خواہش مندتھیں ....یہ بے چارہ نہ جان سکا تھا کہ اسے انجیر کے اس درخت کے نیچے جس لطف کااحساس ہوتاہے اور نیند کے بعد جس خواب اور خمار سے بیدار ہوتاہے درحقیقت وہ کیسے پیدا ہوا ۔ یہ تو بس اس خماراور خواب کارسیا تھا .... اگر بھٹی اجازت دے تو میںاسے یہ کہانی بھی سنوا سکتا ہوں ۔ اسے ان چڑیلوں کی زبانی جو اس کی طلب میںرہتی تھی........ بابا جی نے کہا تو سنیارہ بھٹی جلدی سے بولا .... “ کیا فرق پڑتا ہے ۔انہیں کہیںناں مجھے سنادیں....“

”اس بھری محفل میں۔ سننا پسند کرو گے .... شرم کرو بھٹی ۔ بوڑھے ہوگئے ہو مگر تمھارے اندرکی ہوس نہیں گئی ....اپنے بچوں کے سامنے کہتے ہو کہ مجھے یہ کہانی سناﺅ “ اس کی بیوی ا س پر برس پڑی تو اس کا بیٹا بولا “ اماںجی کیاکرتی ہیں۔چھوڑیں ا ن باتوں کو ....۔

”وہ تو میں اس لیے کہہ رہاتھا کہ یہ تجربہ ذرا مختلف ہے ۔ مجھے تو آج تک احساس نہیںہوسکا کہ کسی دوسری مخلوق کی عورت بھی مجھ میںدلچسپی لیتی ہے ۔اس لیے ذرا .... “

”فضول باتیں نہ کریں ....ورنہ میںسارے کرتوت سنا دوںگی .... “ اس کی بیوی کو آج جیسے موقع مل گیا تھا ۔ غازی او رشاہ صاحب میرے پاس کھڑے تھے اور ہم تینوں ان کی باتیں سن کر لوٹ پوٹ ہورہے تھے ۔

” سرکار .... اگر اجازت دیںتو میںبھٹی صاحب کو دوسرے کمرے میںلے جاکر داستان عشق سنوا دوں....“ غازی سے نہ رہا گیا ۔

چھبیسویں قسط پڑھنے کے لئے کلک کریں

مزیدخبریں