چین کے گرد گھیرا ڈالنے کی کوشش، بھارت کے بعد امریکہ نے ایک اور ایشیائی ملک سے بڑا معاہدہ کرلیا، فوجیں بھیجنے کا فیصلہ

چین کے گرد گھیرا ڈالنے کی کوشش، بھارت کے بعد امریکہ نے ایک اور ایشیائی ملک سے ...
چین کے گرد گھیرا ڈالنے کی کوشش، بھارت کے بعد امریکہ نے ایک اور ایشیائی ملک سے بڑا معاہدہ کرلیا، فوجیں بھیجنے کا فیصلہ

  



منیلا(مانیٹرنگ ڈیسک) چین کو بحیرہ جنوبی چین میں فوجی تنصیبات قائم کرنے سے روکنے کے لیے امریکہ خطے کے دیگر ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر خطرناک کھیل کھیلنے میں مصروف ہے۔ اب چین کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے امریکہ نے بھارت کے بعد فلپائن کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کا بہت بڑا معاہدہ کر لیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور فلپائن کے مابین طے پانے والے معاہدے کے تحت امریکہ 5فلپائنی فوجی اڈوں پر فوج، لڑاکا طیارے اور جنگی بحری بیڑے تعینات کرے گا۔ امریکی سیکرٹری دفاع ایشٹن بی کارٹر نے گزشتہ دنوں فلپائن کا دورہ کیا ہے جس میں یہ معاہدہ طے پایا۔ معاہدے کے مطابق امریکی فوج جن فلپائنی اڈوں پر تعینات کی جائے گی ان میں ایک پلاوان(Palawan)جزیرے کا فوجی اڈہ بھی شامل ہے۔ اس جزیرے کی حدود 270میل تک بحرجنوبی چین کے ساتھ ملتی ہیں۔

پاکستانیوں کیلئے سب سے تشویشناک خبر آگئی، یورپ میں ایک ایسا پاکستانی پکڑا گیا کہ کھلبلی مچ گئی، سنگین ترین الزام لگ گیا

نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ بحر جنوبی چین میں فلپائن کی طاقت کم ہے کیونکہ اس کے پاس خاطر خواہ جنگی سامان موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سمندری حدود میں چین کا کنٹرول مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے اور کئی مصنوعی جزیرے بنا کر فوجی تنصیبات قائم کر رہا ہے۔امریکہ اور فلپائن کے اس معاہدے کے بعد صورتحال تبدیل ہو جائے گی۔ دوسری طرف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور فلپائن کے دفاعی تعاون کے معاہدے سے خطے میں طاقت کا عدم توازن پیدا ہو جائے گا۔

ایشیاءمیری ٹائم ٹرانسپیرنسی کے ڈائریکٹر گریگورے بی پولنگ کا کہنا ہے کہ ”اس جزیرے پر فوجی تنصیبات قائم کرنے کے پیچھے چین کا مقصد لڑائی لڑنا نہیں۔ امریکہ کے خطے میں دیگر ممالک کے ساتھ اس طرح کے معاہدے اس بات کا تعین کریں گے کہ چین خطے میں اپنی سرگرمیوں میں کتنی شدت لاتا ہے۔“رپورٹ کے مطابق اس سے قبل امریکہ چین پر الزام لگاتا آ رہا ہے کہ وہ علاقے کو فوجی چھاﺅنی بنا رہا ہے مگر اب امریکہ اور فلپائن کے معاہدے چین نے انہی الفاظ کے ساتھ امریکہ پر چڑھائی کر دی ہے۔چین بحر جنوبی چین کے زیادہ تر حصے کی ملکیت کا دعوے دار ہے اور اس کاکہنا ہے کہ اس تنازعے کا حل خطے کے ممالک کو مل کر نکالنا چاہیے۔ اس کے لیے کسی بیرونی ملک(امریکہ) کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...