’’دال میں کچھ کالا ،یا ساری دال ہی کالی ہو چکی؟؟؟

’’دال میں کچھ کالا ،یا ساری دال ہی کالی ہو چکی؟؟؟
’’دال میں کچھ کالا ،یا ساری دال ہی کالی ہو چکی؟؟؟

  



تحریر: خالد شہزاد فاروقی۔۔۔

ملک بھر کے گلی کوچوں میں ’’پانامہ لیکس ‘‘کا شور مچا ہوا ہے ،گرم موسم میں ملکی سیاست کا مزاج بھی انتہائی گرم ہو چکا ہے ،اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے پر الزامات کی تابڑ توڑ بارش کر رہی ہے ،جبکہ نجی ٹی وی چینل پر ’’ٹاک شوز ‘‘میں بھی سیاسی تلخی بڑھتی جارہی ہے تو دوسری طرف ’’شہر اقتدار ‘‘ پر براجمان حکمران اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت لندن کے’’ ٹھنڈے موسم ‘‘ میں ملکی سیاست میں در آنے والی ’’گرمی اور تلخی‘‘کے حوالے سے ’’توڑ ‘‘ کرنے کی خبریں عام لوگوں کی بحث کا موضوع بنتی جا رہی ہیں۔پانامہ لیکس کا شور بھی صدر مملکت کو ’’ترکی ‘‘ وزیراعظم میاں نواز شریف کو لندن اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو جرمنی جانے سے نہیں روک سکا ۔صدر مملکت سید ممنون حسین ترکی کے 3روزہ دورے پر پہنچ چکے ہیں،وزیر اعظم میاں نواز شریف ’’دل کی تکلیف ‘‘کے باعث اپنے’’ معالجوں کے حکم‘‘ پر لندن میں ڈیرے ڈالیں گے ۔چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کب وطن واپس آئیں گے ؟کچھ نہیں کہہ سکتا ،اب وہ اپنے ’’معالج‘‘ کے حکم پر ہی واپس آئیں گے ۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی اپنی اہلیہ کے علاج معالجہ کی غرض سے 2روز کے لئے جرمنی چلے جائیں گے ۔جبکہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کے دورہ سعودی عرب اور دبئی کے ’’پس منظر ‘‘میں بھی کئی سوالات جنم لے رہے ہیں ۔سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے ’’کرتا دھرتا ‘‘آصف علی زرداری کی لندن موجودگی بھی اپنی جگہ اہم ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی فنڈ ریزنگ کے نام پر 17اپریل کو لندن پہنچ رہے ہیں ،اور تو اور عمران خان کے ’’منہ بولے کزن‘‘قبلہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی ’’لندن پلان‘‘میں اپنا ’’حصہ‘‘ ڈالنے کے لئے برطانیہ میں موجود ہیں.ملکی ’’جوڑ توڑ‘‘ میں اہم کردار ادا کرنے والے ’’الطاف بھائی ‘‘ تو ایک مدت سے برطانوی شہری بن چکے ہیں اور ویسے بھی ’’پاک سر زمین‘‘والوں نے ’’اَز خود ‘‘ نہ سہی ،کسی کے کہنے پر ہی سہی ، آج کل ان کا’’ ناطقہ ‘‘بند کیا ہوا ہے اور ان کے لئے تو اب ’’روزی روٹی ‘‘کمانے کے بہت سے ’’دروازے‘‘ بند ہو چکے ہیں ،لیکن دیکھنا یہ ہے کہ’’ لندن یاترا ‘‘ پر موجود کون کون ان کی ’’زیارت‘‘اور’’ حلیم‘‘ کی ضیافت سے ’’محظوظ ‘‘ ہوتا ہے ۔باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ ملکی سیاست میں ’’پاناما لیکس ‘‘ کے انکشافات کے بعد ’’اَب ‘‘ کچھ ہو کر رہے گا ،قبلہ چوہدری نثار علی خان کی پریس کانفرنس در جواب میں عمران خان کا ’’چہکنا ‘‘ اور کپتان ‘‘کی مسکراہٹ کے جواب میں پنجاب کے ’’وزیر قنون کم ذاتی ملازم‘‘کی بڑھکیں بہت سوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں ۔گزشتہ چند روز سے نجی ٹی وی چینلز پر ’’بڑے بڑے دانش فروشوں ‘‘کی مچائی ہوئی دھما چوکڑی نے ملکی سیاست میں ’’قہر کی گرمی ‘‘کا سا ماحول پیدا کر رکھا ہے ،لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا اپنے ’’بڑے بھائی ‘‘ اور نوجوان حمزہ شہباز کا اپنے ’’تایا جان‘‘کے دفاع میں چپ سادھ لینا کسی’’سانحے ‘‘سے کم نہیں ۔یار لوگ تو اس پر بھی بڑے دور کی کوڑی لا رہے ہیں ۔اس پر میں تو خاموش ہوں لیکن ’’سیانے ‘‘ کہتے ہیں کہ ’’سیاست بڑی بے رحم چیز ہے جس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ‘‘اقتدار کی راہداریوں‘‘ میں پیدا ہونے والی ’’سرگوشیاں‘‘اپنے اندر خود بڑی خبر ہوتی ہیں۔بعض لوگوں کو حکمران طبقے اور اپوزیشن لیڈرز کا بیک وقت ’’کاشانہ فرنگی‘‘میں ڈیرے ڈالنا ہضم نہیں ہو رہا اور ان کاکہنا ہے کہ’’ دال میں کچھ کالا ہے‘‘ لیکن ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں  جن کا ماننا ہے کہ ’’کچھ کالا نہیں پوری دال ہی کالی ہو چکی ہے ‘‘

خالد شہزاد فاروقی سینئر صحافی اور نجی ادارے میں بطور نیوز ایڈیٹر وابستہ ہیں ،آپ ان سے ksfarooqi@gmail.com پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید : بلاگ


loading...