اپنے معاملات ٹھیک کرنے ہوتے تو لندن کے بجائے پاناما جاتا :وزیراعظم نوازشریف

اپنے معاملات ٹھیک کرنے ہوتے تو لندن کے بجائے پاناما جاتا :وزیراعظم نوازشریف
اپنے معاملات ٹھیک کرنے ہوتے تو لندن کے بجائے پاناما جاتا :وزیراعظم نوازشریف

  



لندن (مانیٹرنگ ڈیسک )وزیر اعظم میا ں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میں اپنے معاملات ٹھیک کرنے کے لیے لندن آیا ہوں ، اگر اپنے معاملات کو بہتر کرنا ہوتا تولندن جانے کے بجائے پاناما جاتا ۔ان کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری سے اچھا تعلق رہا ہے جو کہ بہت پرانا ہے ،پیپلز پارٹی کے دور میں ایک دن بھی حکومت گرانے کی کوشش نہیں کی ۔ پاناما لیکس سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مجھ پر کیا الزام ہے اور میں نے کونسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے ؟۔ عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت تیزی سے ملکی ترقی کے لیے اپنا کام کر رہی ہے لیکن ایک صاحب ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ،شائد انہیں ملک کی ترقی عزیز نہیں ہے ۔

لندن میں میڈ یا سے گفتگو کے دوران آصف علی زرداری سے ملاقات کے سوال پر نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری سے آج تعلق کی یادنہیں آرہی ،نہ ہی ایسی مجبوری ہے کہ ان سے تعلق کی ضرورت پڑے لیکن زرداری صاحب سے اچھے تعلقات ہیں ۔انہوں نے کہامیں وزیر اعظم بننے کے بعد سب سے پہلے صدر زرداری کے پاس گیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ جب آپ کا ٹرم پورا ہو گا تو میرے ساتھ کھانا کھائیے گا ،آصف علی زرداری نے 2013کے انتخابی نتائج کو قبول کر کے ہماری حکومت کو تسلیم کیا جو اچھی روایت ہے ،ایسی روایات کو آگے بڑھنا چاہیے ،میں اس بات کامکمل حامی ہوں۔وزیر اعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں ایک دن بھی حکومت گرانے کی کوشش نہیں کی کیو نکہ پاکستان ان حرکتوں کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے ہم سب کو مل کر چلنا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ وہ لندن میں اپنے چیک ا پ کے لیے آئے ہیں،چیک آپ کراکے وطن واپسی پر ملک کے لیے دوگنی محنت سے کام کروں گا ،جہاں تک پاناما لیکس کا سوال ہے ،اس حوالے سے پہلے ہی قوم سے خطاب کر کے اپنے خیا لات کا اظہار کرچکا ہوں ۔وزیر اعظم نے کہا مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مجھ پر کونسا الزام ہے یا قانون کی کونسی خلاف ورزی ہوئی ہے ،ایسا کوئی کام نہیں ہوا جو قانون کے خلاف ہو ،ہم پوری محنت اور دیانت داری کے ساتھ قوم کی خدمت کر رہے ہیں ،اور پاکستان میں ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرنا چاہتے ہیں ۔عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک آدھ صاحب موقع کی تاڑ میں رہتے ہیں کہ کب حکومت کی ٹانگ کھینچیں ؟،انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان میں تعمیری کام ، غربت اور بے روز گاری کے خاتمے اور ترقی میں حکومت کا ہاتھ بنٹائیں لیکن وہ ہمیشہ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔نواز شریف نے کہا کہ 2014میں بھی دھرنا دے کر تماشا کیا گیا اور پاکستان کی ترقی کا راستہ روکنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن حکومت اب اس چیز کی اجازت نہیں دے گی ،اگر کوئی موقع تلاش کر رہاہے توایسا موقع نہیں ملے گا اور وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا ،ہم نے 2014میں بھی دھرنے کو بڑے تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور اب بھی بہت بردباری سے دیکھ رہے ہیں ۔

کل بھوشن یادیو کی گرفتاری سے متعلق سوال پر وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ واقعہ پوری قوم کے سامنے آگیا ہے بھارتی سپاہی پکڑا گیا ہے لیکن اس کے باوجود چاہتے ہیںکہ یہ سلسلہ ختم ہو،ایک دوسرے کے ملک میں مداخلت کا معاملہ ختم ہونا چاہیے ۔پاکستان اور بھارت کو اپنے معاملات آگے بڑھانے چاہئیں۔

وزیراعظم کی تبدیلی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا۔

مزید : قومی /اہم خبریں