اپنے اپنے مقدمات، علاقائی جھگڑے

اپنے اپنے مقدمات، علاقائی جھگڑے
اپنے اپنے مقدمات، علاقائی جھگڑے

  

کیسے کیسے گھبرو، خوبصورت نوجوان، پڑھے لکھے حضرات، غیرت مند پنجابی اور اپنی اپنی بہادری کی کہانیاں بیان کرنے والے زندہ دلان لاہور اس دن ہائی کورٹ کی کسی عدالت اور سیشن کورٹ کی عدالت کے سامنے موجود تھے،جب ایک لڑکی اور اس کا خاوند ڈنڈوں، اینٹوں اور گھونسوں کی زد میں تھے، وہ مار کھا رہے تھے، ان کو زدو کوب کیا جا رہا تھا، پولیس کے نوجوان بھی اپنی اپنی ڈیوٹیاں دے رہے تھے اور خاموشی سے تماشا دیکھ رہے تھے، لیکن کسی جاٹ، کشمیری، سید، آرائیں، گجر و دیگر افراد میں ہمت نہ ہوئی کہ وہ فوری طور پر ان کو بچاتے۔۔۔ یہ لوگ ان کی مدد کیوں کرتے؟ یہ رویہ تو کئی سو سال سے ان کے اندر پیدا ہو گیا ہے کہ عورت ان کی ذاتی جاگیر ہے، جاٹ کی لڑکی کی بیٹی یا گجر کی بہن کسی دوسرے خاندان میں اپنی مرضی سے شادی کر کے دکھائے۔

جو عورت ہماری ناک کٹوائے گی، ہم اس کو زندہ نہیں رہنے دیں گے۔ یہ عورتیں ہماری روایات کو نہیں مانتیں، ہمارے آباؤ اجداد کا انہیں علم نہیں ہم تو وہ لوگ ہیں کہ جب جنگ کرنے نکلتے تھے تو قلعوں میں عورتوں کو بند کر کے آگ لگا دیتے تھے کہ شکست کی صورت میں یہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ ہم تو نسل در نسل ایک خون اور ایک ہی برادری میں رشتے کرتے ہیں کہ کہیں ہماری رگوں میں کسی ادنیٰ خون کی آمیزش نہ ہو جائے۔

یہ سب پنجاب یا پنجابیوں تک محدود نہیں، بلوچستان میں جب کسی عورت کو سیاہ کار کیا جاتا ہے تو پورے کا پورا قبیلہ اسے بلوچی رسم و رواج کا نام دیتا ہے، ہر قبیلے کا ہزاروں سال سے عورتوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک اور رویہ چلا آ رہا ہے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

شنید ہے مری قبائل کے لوگ اپنی عورتوں کو گوشت نہیں کھلاتے،کہتے ہیں وہ خود گوشت ہے، اس کو گوشت کیوں کھلائیں۔ ہو سکتا ہے اب ایسا نہ ہوتا ہو مَیں نے کوشش کی تھی، لیکن صحیح بات کا پتہ نہیں چل سکا۔ سیاہ کاری میں لڑکی کو جب قتل کیا جاتا ہے تو پھر پورے قبیلے پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ لڑکے کو بھی قتل کریں۔ یہ سب بلوچ غیرت اور بلوچ رسم و رواج کے نام پر ہوتا ہے۔

پشتونوں میں بھی سیاہ کاری کے ویسے ہی قانون ہیں جو سینکڑوں سال سے رائج ہیں ۔ان کے ہاں تو صلح کی صورت میں عورتیں بدلے میں دینے کا رواج جاری ہے۔

پنجاب میں بھی دوہرے رشتے کرنے کا رواج تھا جو اب ختم ہو رہا ہے چونکہ اس میں ایک لڑکا یا لڑکی کے درمیان ناراضگی دو خاندانوں نہیں چار خاندانوں کے درمیان ناراضگی ہوتی ہے سوار کی رسم اسی کا ایک روپ ہے غیرت مند سندھی بھی سینکڑوں سال سے اجرک، سندھی ٹوپی، ملاکھڑا، الغوزہ اور رقص کو اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتے ہیں، ان کے سامنے بھی کسی عورت کو اس جرم میں قتل کیا جا رہا ہو تو کوئی سومرو، گبول،ملیجو، زرداری، ابڑویا بھٹو اسے بچانے کے لئے نہیں آتا۔ کسی کو ایک مظلوم کی جان بچانے کے لئے غیرت و حمیت کی داستانیں یاد نہیں آتیں۔

وہ بلوچ جو حریت کے گن گاتے ہیں، اپنی بہادری کے قصوں پر نازاں ہوتے ہیں، ان میں سے کسی بھی مری، بگٹی، مینگل، بادینی، رئیسانی، پرکانی یا لہڑی کو آپ بہادری کا طعنہ دے کر دکھائیں اور انہیں کہیں کہ مظلوم عورت جان بچانے کے لئے بھاگ رہی ہے دربدر ہو رہی ہے، اس کی مدد کریں۔ کوئی آگے نہیں بڑھے گا، بلکہ کہہ دے گا کہ ان کے قبیلے کی رسم ہے، عورت ان کی ہے، مَیں کیا کروں؟بلکہ یہ کہے گا کہ میرے قبیلے میں اگر کوئی ایسی عورت ہوتی تو مَیں بھی اس کے ساتھ یہی سلوک کرتا۔ بلوچستان میں ایک بڑے سردار کی بیٹی پر یہ الزام لگا تھا، پڑھا لکھا آدمی تھا، اس نے بیوی کو قتل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

آج تک وہ اور اس کی اولاد اپنے قبیلے میں واپس نہ آ سکا۔ یہی حال پشتون معاشرے کا ہے۔ وہاں تو ایسی باتوں پر بھی الزام لگا دیا جاتا ہے کہ وہ بے چاری بکریاں چرانے گئی راستے میں سوکھی گھاس پر سستانے کو لیٹ گئی کپڑوں میں گھاس کے تنکے دیکھ کر خاوند نے قتل کر دیا۔

کوئی یوسف زئی، کاکڑ، خلجی، غوری، اچکزئی اپنی بہادری کے جوہر دکھانے کے لئے داد رسی کے لئے باہر نہیں آیا، سب اسے ثقافتی مجبوری سمجھتے ہیں، بڑے سے بڑا پڑھا لکھا پنجابی، سندھی، بلوچ اور پٹھان اپنی اس نسلی ثقافت سے مجبور ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ جب بھی ان عظیم ثقافتوں کی بھینٹ کوئی عورت چڑھتی ہے توملک کے اکثر عظیم دانشور اس کی سزا مسلمانوں کو گالی دینے سے دیتے ہیں۔ انہیں فوراً مسلم اُمہ یاد آ جاتی ہے، انہیں اسلام کے نام پر بنا ہوا ایک ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان ستانے لگتا ہے، کوئی ان لوگوں کی طرف انگلی نہیں اٹھاتا ، جو یہ کہتے ہیں کہ ہم تین ہزار سال سے سندھی، بلوچ، پشتون اور پنجابی ہیں، چند سو سال سے مسلمان ہیں اور تقریباً 70 سال سے پاکستانی۔

آقا سید الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عرب کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی تو عرب کے بدو بھی یہی کہتے تھے کہ ہم ہزاروں سال سے عرب ہیں، تم یہ نئی باتیں کہاں سے لے کر آئے ہو؟ ہم اپنی ثقافت، تہذیب کو کیسے چھوڑ دیں؟ کوئی کالم نگار، تجزیہ نگار یا اینکر پرسن آج تک یہ سوال اٹھانے کی جرأت نہیں کر سکا کہ تم جن ثقافتوں پر ناز کرتے ہو، ان میں بھنگڑا، ساگ اور ہیر کے ساتھ غیرت کے نام پر قتل بھی تو اس کا حصہ ہے۔

اجرک، ٹوپی اور دھمال کے ساتھ کارو کاری، لیوا، نٹرسر اور بلوچی پگڑی کے ساتھ سیاہ کاری اور ٹپوں کے ساتھ سوارا بھی تمہاری تین ہزار سالہ ثقافتوں میں رچی ہوئی خرابیوں میں سے ایک ہے۔

کوئی ان قوم پرستوں کا گریبان پکڑ کر سوال نہیں کرتا، کوئی یہ نہیں کہتا کہ تم کیسے غیرت مند پنجابی، پٹھان، بلوچ اور پشتون ہو جو مجبور اور کمزور عورتوں کو قتل کرتے ہو۔

ہر ایک کو مسلمان مولوی اسلام اور نظریہ پاکستان یاد آ جاتا ہے اس لئے کہ ان سب کے دماغوں میں ایک مقصد چھپا ہوا ہے کہ وہ کس طرح اسلام اور رسول اللہؐ کے فرمودات کو نشانہ بنائیں، لیکن ایسا کرنے کی جرأت نہیں کر پاتے،اس لئے جب کوئی مجبور عورت جو ثقافت کے نام پر قتل کی جاتی ہے تو اس جرم کی غلاظت کو مسلمانوں مولویوں اور نظریہ پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر اسلام اور مسلمان کو بدنام کرنے کا خوشگوار فریضہ انجام دیتے ہیں، پھر اس پر ناز کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب سورج لپیٹ دیا جائے گا، جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرپڑیں گے،جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا، جب وحشی جانور اکٹھے کر دیئے جائیں گے اور جب لوگوں کے جوڑے بنا دیئے جائیں گے، قیامت کے دن جو بچی کو زندہ گاڑھا گیا تھا اس کو پوچھا جائے گا تمہیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟ اللہ اس قاتل کے چہرے کو دیکھنا پسند نہیں کرے گا۔

یہ وہ دن ہوگا جب نہ پنجابی غیرت کام آئے گی، نہ پشتون روایت،نہ بلوچی شجاعت، نہ سندھی تہذیب۔ اس دن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو گا، لیکن ہمارے ملک کے عظیم دانشور جو 70سال سے اس ملک کے لوگوں کو پنجابی، پشتون بلوچ اور سندھی بنانے میں مصروف ہیں۔ وہ انہیں مسلمان کیسے بنا سکتے ہیں؟ انہیں اپنی اپنی ثقافتوں پر فخر سکھاؤ گے تو پھر عدالتوں، ہائی کورٹ کے دروازوں پر بچیاں قتل ہوتی رہیں گی۔

مزید : رائے /کالم