خائن کی سزا موت ہونا چاہئے

خائن کی سزا موت ہونا چاہئے
خائن کی سزا موت ہونا چاہئے

  

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس ثاقب نثار نے کوئٹہ میں 10 اپریل کو عدالت سجائی۔ عدالت میں بلوچستان میں تعلیم اور صحت کی صورت حال پر گفتگو ہوئی۔

چیف جسٹس کے استفسار پر تعلیم کے سیکریٹری نے انکشاف کیا کہ صوبہ میں حکومت کے زیر انتظام 1135 اسکول ہیں جن میں سے پچاس فیصد اسکولوں میں پانی نہیں ہے ، بیت اخلاء کی سہولت نہیں ہے ۔

یہی شرح مڈل اور ہائی اسکولوں میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں سرکاری اسکولوں کی صورت حال خراب ہے لیکن اتنی بھی نہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اسکولوں میں پانی پہنچانے اور بیت الخلاء تعمیر کرانے کے لئے 6 ارب روپے درکار ہیں۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

چیف جسٹس نے ایک مرحلے پر تبصرہ کیا کہ این ایف سی ایوارڈ میں سب سے زیادہ پیسے بلوچستان کو ملے ۔ بلوچستان جیسے پس ماندہ صوبے کے پیسے کون کھا گیا۔ یہ ہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب حکومت، سیاسی جماعتوں اور معاشرے کے دیگر لوگوں کو تلاش کرنا چاہئے۔ 

بلوچستان ہو یا سندھ کے اندرونی علاقے، ایک بات سیاست داں ہوں یا سماجی رہنماء، صحافی ہوں یا دانشور، بار بار زور دے کر کہتے ہیں کہ لوگوں میں بڑا احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ جو بھی واقعہ رونما ہوتا ہے اس میں احساس محرومی کا تذکرہ ضرور کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے احساس محرومی کے بارے میں تو وزیر اعلی عبدلقدوس بزنجو اور سینت کے چیئرمین صادق سنجرانی بھی کہتے ہیں کہ بلوچستان میں پائے جانے والے احساس محرومی کی ذمہ داری مرکز پر عائد ہوتی ہے۔

مرکز سے ان کی مراد اسلام آباد ہے۔ کیا واقعی اسلام آباد اس ملک کے مختلف حصوں میں پائے جانے والے احساس محرومی کا ذمہ دار ہے یا اس کی وجوہات کچھ اور ہیں جن پر اس ملک کا حکمران طبہ خواہ مرکز میں ہو یا صوبوں میں، توجہ نہیں دے پاتا ہے۔

اگر اسکولوں میں بیت الخلاء نہیں ، پینے کے لئے پانی کی سہولت نہیں ہے، اگر اسکولوں میں اساتذہ موجود نہیں ہیں یا اپنی ڈیوٹی ذمہ داری سے انجام نہیں دیتے ہیں تو اسکی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اسپتالوں میں ڈاکٹر موجود نہیں ہیں، پیرا میڈیکل اسٹاف کام نہیں کرتا ہے، دوا ئیں موجود نہیں ہیں تو کسی پر تو اس کی ذمہ داری جاتی ہے۔

جب عوام کے منتخب نمائندوں کی حکومتیں بھی موجود ہوں ، ان میں سے ہی وزراء مقرر کئے جائیں ، ان وزراء کی پسند کے مطابق محکموں کے سیکریٹری مقرر کئے جائیں تو پھر کون ذمہ دار ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ بلوچستان میں تو حکومت ناکام ہے اور پینڈورا باکس بنا ہوا ہے۔ بلوچستان حکومت کی حالت تو سندھ سے بھی ابتر ہے۔

عدالت سیکریٹری صاحبان سے معلوم تو کرتی کہ کیا ان کے بچے بھی ان ہی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ؟ عدالت وزراء، اراکین اسمبلی اور افسران سے یہ معلومات تو حاصل کرے کہ ان کی اولادیں رہائش کہاں رکھتی ہیں اور تعلیم کہاں حاصل کرتی ہیں۔

یہ معلومات کا حصول واضح کردے گا کہ صوبے کی حالت کیوں افسوس ناک ہے؟ عدالت نے بلوچستان کے دو سابق وزرائے اعلی عبدالمالک بلوچ اور ثنا اللہ زہری کو بھی طلب کیا تھا جو عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔ عدالت نے انہیں اسلام آباد میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ 

قارئین کو یاد ہوگا کہ بلوچستان کے ایک سیکریٹری مشتاق رئیسانی کے گھر پر ایک چھاپہ میں نقد کروڑوں روپے اور کروڑوں روپے کی مالیت کے ہیرے جواہرات بر آمد ہوئے تھے ۔

بڑی مالیت کے بنگلے بھی سامنے آئے تھے ۔ مشتاق کے خلاف درج مقدمے کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ نہ جانے انہیں کیوں مہمان بنا کر رکھا ہوا ہے، انہیں کیوں نہیں نشان عبرت بنایا جاتا ہے۔

پاکستان کے اکثر علاقوں میں ایک نہیں، سینکڑوں مشتاق موجود ہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ آپ لوگ اپنی حیثیت اور ذرائع آمدن سے زیادہ پر تعیش زندگی کس طرح گزارتے ہیں۔

ان کے روز مرہ کی زندگی ہی یہ واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ صوبوں میں عوام کی ضروریات کے لئے مختص رقم کا استعمال کہاں اور کس طرح ہوتا ہے۔ رقم کا بہت بڑا حصہ سفید پوش، تعلیم یافتہ اور امانت کی نگرانی کرنے کے ذمہ دار سرکاری بڑے افسران کی نذر ہوجاتا ہے۔

یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی محکمہ کا افسر اپنے محکمے کے وزیر کو لا علم رکھتے ہوئے چوری کا مرتکب ہو سکے۔ افسران چوری میں وزیروں کو بھی حصہ دار بناتے ہیں یا وزیر افسران کو چوری کی ترغیب دیتے ہیں۔ وزیر ہوں یا افسران خوشی خوشی اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اس لئے کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

یہ اس ملک میں ہی جمہوریت کا حسن ہے کہ وزراء اور افسران چور ہیں۔ بددیانت ہیں، خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ خائن لوگوں سے ملک کی مقننہ اور انتظامیہ بھری پڑی ہے۔ کیا اس بددیانتی کی ذمہ داری پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کے اراکین پر عائد نہیں ہوتی ہے؟ 

یہ احساس محرومی کا زور و شور سے لگایا جانے والے نعرہ ہمیں کہاں لے جائے گا؟ سابق مشرقی پاکستان (حال بنگلہ دیش) میں اسی نعرے نے کام کیا اور ایک نیا ملک وجود میں آگیا۔

کیا مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کی اکثریت نے اسی نعرے کی بنیاد پر سن 1970ء کے انتخابات میں ووٹ نہیں دیا تھا؟ سندھ اور بلوچستان میں بھی یہ نعرہ شد و مد سے استعمال کیا جاتا ہے۔

حکمران خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں، عدلیہ اور فوج بھی کچھ نہیں کر پاتی ہیں اور جب پانی سرسے اونچا ہوجاتا ہے تو ٹینکوں کو چلایا جاتا ہے۔ چیف جسٹس نے خود دیکھ اور سن لیا کہ سرکاری رقومات کس بے دریغ طریقے سے ضائع ہو رہی ہیں۔ قومی احتساب بیورو جیسے کئی ادارے درکار ہیں جو پاکستان میں سرکاری رقوم میں خورد برد کے خلاف کارروائی کریں ۔

کیوں نہیں سپریم کورٹ عدالتی کمیشن تشکیل دیتا ہے جو یہ تحقیق کرے کہ صوبائی حکومتوں کو جو بھی ر قومات وفاق سے یا اپنے ذرائع سے موصول ہوتی ہیں وہ کہا ں کہاں اور کن مدات میں خرچ ہوتی ہیں، ان رقومات میں سے کتنا حصہ چوری کی نذر ہوجاتا ہے۔

چوروں اور خائن سے کسی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ، ان کی تو سزائے موت ہونا چاہئے ۔ خائن ڈھونڈنے کے لئے زیادہ تگ و دو کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے گی۔ ختم شد

مزید : رائے /کالم